گورننس کی نگرانی مزید سخت، کوتاہی برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب میں غیر معیاری کارکردگی اور کسی بھی قسم کی کوتاہی برتنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں ملے گی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں گورننس اور صفائی کے انتظامات کی نگرانی مزید سخت کر دی۔
مریم نواز شریف کی زیر صدارت ڈپٹی کمشنر کے لئے مقرر کردہ ”کی پرفارمنس انڈیکیٹر“کی کڑی جانچ پڑتال جاری ہے، وزیراعلیٰ کی ہدایت پر صوبے کے ہر ضلع میں گورننس کے معیار کی مکمل نگرانی کے لئے خفیہ ٹیمیں بھیجی جائیں گی۔
دفتر خارجہ میں مینا بازار سج گیا، خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے سرگرم ہیں: اسحاق ڈار
پنجاب حکومت نے غیر معیاری کارکردگی دکھانے والے ستھرا پنجاب کے نجی ٹھیکیداروں کے خلاف فوری کارروائی کی وارننگ دے دی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے بعض شہروں میں صفائی کی غیر تسلی بخش صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ستھرا پنجاب کا جو کنٹریکٹر معیاری کام نہیں کرے گا اس کی ادائیگی فوری طور پر معطل ہوگی، صفائی کی صورتحال تسلی بخش نہ ہونے پر ستھرا پنجاب کنٹریکٹ دوبارہ کرنے پر غور ہوگا۔
انہوں نے پنجاب کی ہر شہر میں صفائی کے معیار کو بہتر سے بہترین بنانے کے لئے کوڑے دان کی صفائی اور ویسٹ انکلوژر بنانے کا حکم دیا ہے اور شہروں کا ماحول صاف اور خوشگوار رکھنے کے لئے ویسٹ انکلوژرکے گرد چاردیواری بنا کر مکمل طور پر بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
میں نے اپنے شوہر کو دوسری شادی کرنے کا مشورہ دیا تھا، منزہ عارف
اس حوالے سے ہدایت کی گئی ہے کہ پنجاب بھر میں کوڑے دان روزانہ دھوئے جائیں،صفائی میں ذرا سی کوتاہی بھی برداشت نہیں ہوگی۔
اس کے علاوہ پارکنگ ایریاز، بس سٹینڈز، اڈوں اور تمام پبلک مقامات کی مثالی صفائی کا حکم دیا گیا ہے، پنجاب کے ہر شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی صفائی اور گرین بیلٹ کے قیام کیلئے بھرپور اقدامات کے احکامات جاری کئے ہیں، ہر چھوٹے بڑے شہر میں گرین بیلٹس کی مرمت، باقاعدہ شجرکاری اور گھاس وغیرہ لگوانے کا حکم دیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے آوارہ کتوں کے کاٹنے اور مین ہول میں گر کر ہونے والی ہلاکتوں کے واقعات روکنے میں ناکامی پر متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کی سخت سرزنش کی، بعض اضلاع کے چند سرکاری ہسپتالوں میں پوری طرح فری میڈیسن نہ ملنے کا بھی سخت نوٹس لیا گیا ہے۔
سہیل آفریدی وفاق اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ساتھ تعاون کریں: فیصل کریم
پنجاب میں تجاوزات کے مستقل خاتمے کیلئے اب سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے 24/7 مانیٹرنگ ہوگی، جس سے پنجاب میں غیر قانونی قبضے اور غیرقانونی تعمیرات لمحوں میں ڈیجیٹل ریکارڈ پر آئیں گی۔
پنجاب میں آمدورفت میں رکاوٹ پیدا کرنے والی ریڑھیاں فوری ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ مارکیٹ انتظامیہ سے تحریری طور پر یقینی دہانی لینے کی سخت ہدایت جاری کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سرکاری نرخ ناموں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کے ساتھ گرفتاری یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی، اضلاع میں چلنے والی الیکٹرک بسوں کی حفاظت اور دیکھ بھال ضروری قرار دی ہے۔
ٹیرف اور سرمایہ کاری سے دوسرے ممالک سے کھربوں ڈالر لے رہے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
بازاروں میں لٹکتے ہوئے خطرناک بجلی کے تار فوری درست کرانے کا حکم دیا ہے اور اس حوالے سے متعلقہ بجلی کمپنی کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔
صوبے کے ہر شہر کے تمام روڈز پر لین مارکنگ کی مکمل ہدایت کی ہے اور اسسٹنٹ کمشنرز کو حکم دیا ہے کہ خود موجود ہو کر ہر مقام پر صفائی اور نظم و نسق کی یقینی نگرانی کریں، گڈ گورننس یقینی بنانے کے لئے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ویجی لینس ٹیمیں بنانے کا حکم دیا ہے۔
مساجد کے وضو خانے کا پانی شجرکاری کے لئے استعمال کرنے کے لئے اقدامات اور پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں صفائی، مین ہول ڈھکن اور سٹریٹ لائٹس یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان بار اور سپریم کورٹ بار کا وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی حمایت کا اعلان
سرکاری احکامات پر عملد رآمد یقینی نہ بنانے والی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو جرمانہ کرنے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا ہے، واٹرفلٹریشن پلانٹ کی دیکھ بھال اور صفائی ،پبلک ٹوائلٹ کی مکمل اور مستقل صفائی یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔
پنجاب حکومت نے نئے پٹرول پمپ پر چارجنگ سٹیشن ضروری قرار دیا ہے اور تمام ہائی ویز کے پٹرول پمپ پر بہترین صاف ستھرے ٹوائلٹ یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے رات 10 بجے کے بعد شادیاں ختم اور ون ڈش کی پابندی یقینی بنانے کی ہدایت ہے، مسلسل غیر معیاری کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ضلعی سربراہان کو تبدیل کرنے کی وارننگ ہے، 2 وارننگ کے بعد تیسری وارننگ پر متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو ہٹا دیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ فنڈز دینے کے باوجود بہترین رزلٹ نہ آنا افسوسناک ہے، عوام کی خدمت کے امور میں کسی غلطی یا کوتاہی کی ہرگز گنجائش نہیں، پنجاب کے ہر شعبے میں نیکسٹ لیول گورننس درکار ہے، انتظامیہ کو پورے اختیارات، فنانس اور اعتماد دیا، اب 100 فیصد رزلٹ چاہیے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب گڈ گورننس میں باقی صوبوں سے بہتر ہے لیکن میں مطمئن نہیں، معیار نیکسٹ لیول کا ہونا چاہیے، کوڑے کے کنٹینر گند سے زیادہ گندے نظر آنا انتہائی افسوسناک ہے، ڈپٹی کمشنرز نے افغان ایشو اور دیگر امور میں اچھا کام بھی کیا مگر گورننس کا معیار بھی بہتر بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے گھروں کو اپنا گھر سمجھ کر صاف رکھنے کے لئے اقدامات کریں، برازیل میں درخت کی شاخ کاٹنا بھی جرم ہے، ہرشہر کے ہر بازارمیں فٹ پاتھ دکان کے داخلی دروازے تک بنائیں، کہیں دھول مٹی نظر نہ آئے، ٹوٹے فٹ پاتھ اور فریش پینٹ نہ ہونے سے صورت بگڑ جاتی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ تمام اضلاع سے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے براہ راست فیڈ بیک لے رہی ہوں، اپنے سیاسی لوگوں کو ناراض کر کے ڈپٹی کمشنرز کو اختیارات، فنانشل پاور اور سہولتیں دیں، 40 سے50 ارب روپے کی مشینری اورڈیڑھ لاکھ فورس کے باوجود کوڑے کے ڈھیر نظر آنا ہرگز برداشت نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: یقینی بنانے کی ہدایت مریم نواز شریف نے کا حکم دیا ہے ڈپٹی کمشنرز کی گئی ہے ہدایت کی ہے اور کے لئے گیا ہے
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔
وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔
مزید :