مشہور لبوبو ڈول پر فلم بنانے کی تیاری، کب ریلیز ہوگی؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
باربی ڈال اور پولی پاکٹ کے بعد ایک اور کھلونا کریکٹر لبوبو گڑیا پر فلم بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو کہ ممکنہ طور پر ہارر موی ہوگی۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی شہرت یافتہ ادارے سونی پکچرز نے لبوبو ڈول پر فلم بنانے کے رائٹس خرید لیے اور ہفتے کے روز اس کا باضابطہ اعلان بھی کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ لوبوبو گڑیا کھلونے کے طور پر دنیا بھر میں پہچانا جاتی ہے تاہم اب اس کریکٹر پر ہالی ووڈ میں فلم بنے گی۔
سونی پکچرز کی جانب سے اس اعلان کے بعد فیشن کی دنیا اور سوشل میڈیا پر خوشی کی لہر بھی دوڑ گئی ہے کیونکہ اس کو ایک مثبت اور اچھی پیشرفت قرار دیا جارہا ہے۔
ہالی ووڈ رپورٹر اوور کے مطابق فلم کی تیاری ابتدائی مرحلے میں ہے اور اسے ایک بڑی فرنچائز کی طرف سے بنائے جانے کی امید ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ پکچر لائیو ایکشن پر بنے گی یا پھر اینیمیٹڈ ہوگی۔
لبوبو گڑیا کو ہانگ کانگ کے آرٹسٹ کاسنگ لنگ نے 2015 میں دی مونسٹر نامی بک سیریز میں تخلیق کیا جس کے بعد مشہور چینی کمپنی پاپ مارٹ نے اسے متعارف کرایا تھا۔
اس کھلونے کو دنیا بھر میں بلائنڈ باکس کی وجہ سے مقبولیت ملی۔ مگر یہ بلائنڈ باکس کیا ہے، اس کا مطلب کہ خریدار کو آرڈر دیتے وقت معلوم نہیں ہوتا تھا کہ اُسے کون سا ڈیزائن ملے گا تاہم یہ بھی طے تھا کہ کھلونا گڑیا کا جو بھی ڈیزائن ہوگا وہ قابل قبول ہوگا۔
اس کھلونے کو 2024 میں عالمی شہرت اُس وقت ملی جب اداکارہ کم کارڈیشن، امریکی گلوکارہ و ریپر ریحانہ نے استعمال کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ دنیا بھر میں اس کا بطور فیشن استعمال ہوا۔
میڈونا نے اپنی 67ویں سالگرہ پر لبوبو کا کیک بنوایا اور پھر ہالووین کے تہوار میں گڑیا کی طرح کا روپ دھارا تھا۔
اسی اثنا مارکیٹ میں کھلونے کی جعلی کاپی بھی آئی جس پر امریکی حکومت نے وارننگ جاری کی اور شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ کھلونا خریدتے وقت محتاط رہیں۔
معروف اقتصادی جریدے پاپ مارٹ کی رپورٹ کے مطابق لبوبو کی فروخت سے کمپنی نے رواں سال کے پہلے 6 مہینوں میں 670 ملین ڈالر کمائے جو گزشتہ سال سے 670 فیصد زیادہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ریکارڈ ماضی کے شہرہ آفاق کھلونوں ہاٹ وہیلز اور باربی کی فروخت سے کہی زیادہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟ نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
نئے مالی سال کے لیے کم از کم اجرت مقرر کرنے کے حوالے سے نئی سفارش سامنے آ گئی۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے مالی سال 27-2026 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق پائیڈ نے اپنے شواہد پر مبنی فریم ورک کے ذریعے موجودہ 40 ہزار روپے کی تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ تجویز قومی سطح پر ملازمین کے مالی حالات کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کم از کم اجرت کا تعین اب صرف محکمۂ محنت کا داخلی معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس میں شہریوں کی قوتِ خرید، غربت کی شرح، غیر رسمی روزگار اور مقامی طلب جیسے اہم عوامل شامل ہیں۔
ادارے نے مزید واضح کیا کہ تنخواہوں میں یہ ردوبدل پیداواری ترغیبات بڑھانے اور سماجی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اپریل 2026 میں سال بہ سال بنیادوں پر افراطِ زر کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔