دیر لوئر، مشہور ٹک ٹاکر نازیبا حرکات و فحاشی پھیلانے کے الزام پر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
لوئر دیر:(نیوزڈیسک)پولیس نے لوئردیرکے علاقےکوٹو سے تعلق رکھنے والا ٹک ٹاکر کو نازیبا حرکات کرنے اور فحاشی پھیلانے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ ڈی پی او لوئر دیر تیمور خان کی ہدایت پر تھانہ تیمرگرہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ٹک ٹاکر کو گرفتار کر لیا اور ٹک ٹاکر محمد نوید پر معاشرے میں فحاشی اور بے حیائی پھیلانے کا الزام ہے۔
پولیس نے کہا کہ گرفتار ٹک ٹاکر ویڈیوز میں غلیظ گالیاں، نازیبا حرکات اور مذہبی و معاشرتی اقدار کی توہین کرتے ہوئے عوامی جذبات مجروح کر رہا تھا۔
ڈی پی او دیر نے کہا کہ فحاشی، بے حیائی اور معاشرتی بگاڑ پھیلانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔