مولانا فضل الرحمان نے مرکزی مجلس شوریٰ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مرکزی مجلس شوریٰ کا اہم اور ہنگامی اجلاس 23 نومبر کو طلب کر لیا ہے، جس میں 27 ویں آئینی ترمیم اور حالیہ قانون سازی کے ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق اجلاس میں دینی مدارس کی رجسٹریشن، حکومتی رویے اور مذہبی اداروں کے مستقبل سے متعلق پالیسی امور پر بھی غور کیا جائے گا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، حکومتی اقدامات اور مختلف جماعتوں کے درمیان بدلتے سیاسی ماحول پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سیریز کا آخری ون ڈے آج کھیلا جائے گا
اس کے ساتھ ساتھ سیاسی حکمتِ عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل کی تیاری بھی ایجنڈا میں شامل ہے۔
شوریٰ کے اجلاس میں جماعت کی تنظیمی صورتحال، کارکنوں کی مشاورت اور تنظیمی ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیوں پر بھی بات کی جائے گی۔
اجلاس میں اہم فیصلوں کی توقع ہے جن کا اثر نہ صرف جماعت کے آئندہ بیانیے پر بلکہ ملکی سیاست پر بھی پڑ سکتا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔