دنیا میں 589ملین شوگر کے مریض موجود ہیں، ڈاکٹر ثانیہ بشیر
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)ماہر امراض ذیابیطس و سی ای او ٹیلی کیئر ڈائبیٹیز ڈاکٹر ثانیہ بشیر نے کہا ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں شوگر کے مریضوں کی تعداد تقریباً 589 ملین کے قریب ہے جبکہ پاکستان میں شوگر کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اور وطنِ عزیز میں شوگر کے مریضوں کی تعداد تقریباً33 ملین ہے۔شوگر کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں ڈاکٹر ثانیہ بشیر نے مزید کہا کہ ہر سال نومبر کے مہینے میں ذیابطیس سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جاتا ہے، اس دن کے منانے کا بنیادی مقصد یہ ہے عوام الناس میں ذیابطیس کے دائمی مرض کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے۔ انہوںنے بتا یاکہ ورلڈ ڈائبیٹیز فیڈریشن نے اس سال ’’زندگی کے ہر اسٹیج پر ذیابطیس سے بچاؤ کی منصوبہ بندی کی جائے‘‘کا کا سلوگن یہ دیا ہے اور یہ مرض ہر عمر کے فرد کو متاثر کر سکتا ہے جبکہ ذیابطیس کی بنیادی وجوہات میں موروثیت، سہل پسند زندگی، فاسٹ فوڈز کا زیادہ استعمال، زیادہ چکنائی اور میٹھی چیزوں کا استعمال، کولڈ ڈرنکس، غیر متوازن خوراک، تمباکو نوشی، موٹاپا وغیرہ شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شوگر کے
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔