لاہور (نیوز رپورٹر+نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ذیابیطس کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا ہے  ذیابیطس ایک خطرناک اور خاموش دشمن ہے جو احتیاط، آگاہی اور منظم زندگی سے قابو میں آ سکتا ہے۔ پاکستان میں ذیابیطس کے مرض کی بڑھتی ہوئی شرح اس بیماری سے مزید مؤثر جنگ کی متقاضی ہے۔ صحت عوام کا بنیادی حق ہے اور حکومت پنجاب یہ حق ہر دروازے تک پہنچا رہی ہے۔ تاریخ میں پہلی بار ٹائپ-ون شوگر کے مریض بچوں کو انسولین کٹس ان کے دروازے تک پہنچائی جا رہی ہیں۔ کسی مریض پر بوجھ نہ پڑے اسی لئے تمام سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی یقینی بنا دی گئی ہے۔  مریم نواز نے کہا اچھے شہری ہونے کے ناطے سب اپنی صحت کے محافظ بنیں، مناسب طرز زندگی اپنائیں۔ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، اور بلڈ شوگر کا تسلسل سے معائنہ ہی ذیابیطس سے تحفظ کی کنجی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز برازیل کا دورہ مکمل کرکے لندن پہنچ گئیں۔ وہ دو دن لندن میں قیام کے بعد پاکستان روانہ ہوں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: مریم نواز

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی