وکلاء تقسیم، پنجاب بار کونسل کا 27 ویں آئینی ترمیم اور آئینی عدالت کے قیام کی حمایت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
کونسل کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق آئینی عدالت کا قیام چارٹر آف ڈیموکریسی کا حصہ ہے اور اس سے ملک میں عدالتی نظام مضبوط ہوگا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئینی عدالت کے قیام سے آئینی نوعیت کے مقدمات کی سماعت جلد ممکن ہو گی اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے تاخیرکا خاتمہ ہو گا۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور، پنجاب بار کونسل نے 27 ویں آئینی ترمیم اور آئینی عدالت کے قیام کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ کونسل کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق آئینی عدالت کا قیام چارٹر آف ڈیموکریسی کا حصہ ہے اور اس سے ملک میں عدالتی نظام مضبوط ہوگا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئینی عدالت کے قیام سے آئینی نوعیت کے مقدمات کی سماعت جلد ممکن ہو گی اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے تاخیرکا خاتمہ ہو گا۔ اس کے علاوہ قومی اہمیت کے حامل معاملات میں بروقت انصاف فراہم کرنے میں بھی مدد ملے گی جو ملکی استحکام اور عوام کے اعتماد کیلئے نہایت ضروری ہے۔
پنجاب بار کونسل نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ آئینی عدالت کے قیام کے عمل کو شفاف اور موثرانداز میں مکمل کیا جائے تاکہ عوام اور وکلاء کا اعتماد عدالتی نظام پر قائم رہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ آئینی عدالت ملک میں عدلیہ کے کردار کو مزید مستحکم کریگی اور آئینی و قانونی مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنائے گی۔ وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل محمد اشفاق نے کہا کہ یہ ترمیم عدالتی اصلاحات کیلئے پارلیمنٹ کے عزم کی عکاس ہے۔ چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بارکونسل ذبیح اللہ ناگرہ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ عوامی مفاد اور آئینی بالادستی کا ہرصورت تحفظ کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آئینی عدالت کے قیام ہے کہ آئینی عدالت پنجاب بار کونسل اور آئینی
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔