وزیراعظم کے حکم پر سیاحتی مقام میں پانی کے راستے میں کوئی ہوٹل نہیں بنے گا؛ مصدق ملک
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
سٹی 42 : وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے حکم پر سیاحتی مقام میں پانی کے راستے میں کوئی ہوٹل نہیں بنے گا۔
وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کے اوپر کافی ذمہ داریاں ہیں، ہماری وزارتوں میں لوگ فیلڈ میں کم جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فیڈریشن کے کام میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ہم نے جتنے پروگرام پیش کیئے ہیں ہمارے پاس فنڈز موجود ہیں۔
نادرا کا سسٹم ڈاؤن ، بیرون ملک جانے کیلئے پولیو سرٹیفکیٹ کا اجرا بند
مصدق ملک نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی میں چیئرمین کی ضرورت ہے جس کے لیئے انٹرویوز لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے دوران متاثرہ لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا، سیلاب میں 70 فیصد کشتیاں 1122 کی تھی، سرکاری اداروں کی کشتیاں زیادہ موجود تھی۔
وزیر موسمیاتی تبدیلی کے مطابق وزیراعظم کے حکم پر سیاحتی مقام میں پانی کے راستے میں کوئی ہوٹل نہیں بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں روزانہ میڈیا پر جاتا ہوں لیکن کوئی صحت، تعلیم اور موسمیاتی تبدیلی پر سوال نہیں کرتا، ان کو بھی سیاست کا حصہ سمجھنا چاہیے۔
پبلک سروس کمیشن کے امتحانات، خیبر پختونخوا میں دفعہ144 نافذ
مصدق ملک نے کہا کہ 56 فیصد کاربن ایمیشن 3 ممالک پروڈیوس کرتے ہیں جو کوپ 30 میں نہیں آئے، جو ملک کاربن ایمیشن کر رہے ہیں وہی گرین فائننسنگ لے رہے ہیں۔ یہ نا انصافی ہم دنیا کے ہر فورم پر اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 10ملک 85 فیصد گرین فائننسنگ لے رہے ہیں۔ 80 فیصد ممالک کے لیے 15 فیصد فاننسنگ رکھی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی پیکجنگ کو ریسائکل پلاسٹک کر دیا جائے تو اس کا برڈن عام آدمی پر آئے گا، یہ نا انصافی دنیا کے فورم پر اُٹھائی ہے۔
کن علاقوں میں کل بجلی بند رہے گی؟ اعلان ہوگیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے نے کہا کہ انہوں نے رہے ہیں
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔