شدید زلزلے کے بعد ڈھاکا یونیورسٹی 15 روز کے لیے بند، طلبا کو ہالز خالی کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
بنگلہ دیش میں شدید زلزلے اور مسلسل آفٹر شاکس کے بعد ڈھاکا یونیورسٹی نے فوری طور پر 15 روز کے لیے تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس دوران تمام کلاسز اور امتحانات 6 دسمبر تک بند رہیں گے۔
یہ فیصلہ ہفتے کے روز وائس چانسلر پروفیسر نیاز احمد خان کی زیرِ صدارت یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے ہنگامی ورچوئل اجلاس میں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: 5.
سنڈیکیٹ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، اجلاس میں زلزلے کے طلبا پر جسمانی اور نفسیاتی اثرات کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ طلبا کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ اجلاس میں بوئٹ (Bangladesh University of Engineering and Technology) کے ماہرین نے بھی شرکت کی اور تمام رہائشی ہالز کے ڈھانچوں کی تکنیکی جانچ کی سفارش کی۔
ماہرین نے مشورہ دیا کہ مکمل معائنے اور ضروری مرمت کے لیے تمام ہاسٹلز کو خالی کرایا جائے۔
انتظامیہ نے تمام رہائشی طلبا کو ہدایت کی ہے کہ وہ اتوار شام 5 بجے تک اپنے ہالز خالی کر دیں۔ ہال پرووسٹس کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ عمل کو بہتر انداز میں مکمل کرائیں۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان: مزارِ شریف کے قریب زلزلہ، 7 افراد جاں بحق، 150 زخمی
اگرچہ یونیورسٹی طلبا کے لیے 15 روز تک بند رہے گی، لیکن انتظامی دفاتر معمول کے مطابق کام کرتے رہیں گے۔
اس سے قبل ہفتہ کی رات یونیورسٹی نے صرف اتوار کے دن کی کلاسز اور امتحانات معطل کیے تھے، تاہم ماہرین کی تجاویز کے بعد اب تعطیلات کو دو ہفتوں تک بڑھا دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش زلزلہ ڈھاکا یونیورسٹی طلبا ہاسٹلز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش زلزلہ ڈھاکا یونیورسٹی ہاسٹلز کے لیے
پڑھیں:
وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی قائدین بھی متحرک ہیں۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف بھی گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہو گی۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان الیکشن کی تاریخ کے آخری ہفتے میں انتخابی مہم زروں پر پہنچ گئی ہے، وفاقی جماعتوں کے تقریباً تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں اور اپنے اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو زرداری نے سکردو میں جلسہ سے خطاب کیا۔ پیپلزپارٹی کے دیگر قائدین قمر زمان کائرہ، ندیم افضل چن، چوہدری منظور پہلے ہی گلگت بلتستان میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ادھر وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام، خواجہ سعد رفیق بھی جی بی میں موجود ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی قائدین بھی متحرک ہیں۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف بھی گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہو گی۔