data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251123-09-3
پاکستان، جس کی بنیاد لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نام پر رکھی گئی، اس کے دینی اور روحانی منظرنامے میں ہر سال ایسے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں جو امت ِ مسلمہ کے لیے تجدید ِ ایمان، اصلاحِ احوال اور باہمی وحدت کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہ اجتماعات نہ صرف مذہبی جذبے کو تازہ کرتے ہیں بلکہ قوم میں اخلاقی بیداری اور دینی شعور کو فروغ دیتے ہیں۔ رائیونڈ کا سالانہ تبلیغی اجتماع پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں دینی اجتماعات میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہ اجتماع لاکھوں مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جہاں علماء و مشائخ، اور عام مسلمان اللہ کی یاد، ذکر و اذکار، اور اصلاحِ نفس کی تلقین میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ اجتماع عملی طور پر قرآن کی اس آیت کی تفسیر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے ہے: ’’اور نصیحت کرتے رہو، بے شک نصیحت مؤمنوں کو فائدہ دیتی ہے‘‘۔ (الذاریات: 55)

یہی وہ روحانی ماحول ہے جہاں انسان اپنی زندگی کا مقصد پہچانتا ہے، گناہوں سے توبہ کرتا ہے اور اللہ کی راہ میں چلنے کا عزم کرتا ہے۔ اسی سلسلے میں21، 22 اور 23 نومبر کو جماعت ِ اسلامی پاکستان کا اجتماع مینارِ پاکستان میں منعقد ہو رہا ہے جس کا آج آخری دن ہے۔ جماعت ِ اسلامی ہمیشہ سے اصلاحِ معاشرہ، عدل و انصاف کے قیام اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتی آئی ہے۔ یہ اجتماع اس عزم کی تجدید ہے کہ پاکستان میں نظامِ حیات کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا جائے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: ’’اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہیے جو نیکی کی دعوت دے، بھلائی کا حکم کرے اور برائی سے روکے‘‘۔ (آل عمران: 104)

یہی آیت ہر دینی جماعت کے مشن اور مقصد کو واضح کرتی ہے کہ وہ معاشرے میں خیر و صلاح اور اصلاح کی دعوت دیں۔ مجھے محترم قاضی حسین احمد مرحوم کے الفاظ یاد آگئے جو انہوں اسی طرح بڑے اجتماع میں فرمائے تھے میرا بھی دل نہیں چاہتا آپ سے جدا ہونے کا آپ کی بھی نہیں چاہتا ہوگا ان شاء اللہ کل اللہ کی بارگاہ میں جمع ہوں گے ملاقات ہوگی جنت میں ایک ساتھ اللہ ہم سے راضی ہو جائے۔

سال 2025 کے آخر میں جمعیت اہل ِ حدیث پاکستان کے سربراہ علامہ ڈاکٹر ہشام الٰہی ظہیر نے مینارِ پاکستان میں ایک بڑے اجتماع کا اعلان کیا ہے۔ یہ اجتماع نہ صرف ایک کتاب اللہ وسنت رسول اللہ کی دینی تحریک کا پیش خیمہ ہے بلکہ ان کے والد ِ محترم علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ کی یاد کو تازہ کرتا ہے، جو تقریباً چار دہائیاں قبل ایک عظیم الشان اجتماع میں بم دھماکے کے نتیجے میں شہید ہوئے تھے۔ یہ قربانی اس بات کا ثبوت ہے کہ علمائِ حق نے ہمیشہ دین کی سربلندی اور امت کی اصلاح کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں۔ رسولِ اکرمؐ نے فرمایا: ’’افضل جہاد ظالم حاکم کے سامنے حق بات کہنا ہے‘‘۔ (سنن ابوداؤد)

پاکستان میں ہونے والے یہ اجتماعات صرف مذہبی اجتماعات نہیں بلکہ اصلاحِ احوال، اتحادِ امت، اور اجتماعی توبہ کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ان اجتماعات میں تمام مکاتب ِ فکر چاہے وہ تبلیغی جماعت ہو، جماعت ِ اسلامی، اہل ِ حدیث یا دیگر، سب کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے کہ لوگوں کو دین ِ اسلام کی اصل دعوت سے روشناس کرایا جائے، اخلاقی زوال کو روکا جائے، اور اللہ و رسول کی تعلیمات پر عمل کی ترغیب دی جائے۔ الحمدللہ ان اجتماعات کے اثرات آج ہمارے معاشرے میں واضح نظر آتے ہیں۔ مدارس و مساجد کی بڑھتی ہوئی تعداد، نوجوانوں میں دین سے لگاؤ، اور معاشرے میں خیر و اصلاح کی کوششیں انہی کا ثمر ہیں۔

پاکستان میں نومبر سے فروری تک کا موسم نہایت معتدل اور خوشگوار ہوتا ہے، جو کھلے میدانوں میں اجتماعات کے انعقاد کے لیے موزوں ترین سمجھا جاتا ہے۔ ان اجتماعات کے اختتام پر ملک و ملت اور عالم ِ اسلام کے لیے اجتماعی دعائیں کی جاتی ہیں۔ امت کی وحدت، امت کے زوال کی بحالی، اور امت ِ محمدیہ کے عروج کے لیے۔ نبی کریمؐ کا فرمان ہے: ’’دعا مؤمن کا ہتھیار ہے‘‘۔ (المستدرک) جب لاکھوں ہاتھ ایک ساتھ اٹھتے ہیں، آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں، تو ایسا لگتا ہے کہ آسمان بھی زمین سے قریب ہو گیا ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی جماعتیں اور علمائِ کرام اپنے اپنے مکتبہ فکر کی حدوں سے اوپر اٹھ کر دین ِ اسلام کے مشترکہ پیغام کو عام کریں۔ قرآن نے ہمیں بارہا یاد دلایا ہے: ’’اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو، اور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘۔ (آل عمران: 103)

اگر یہ اجتماعات امت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا ذریعہ بن جائیں تو یقینا وہ وقت دور نہیں جب پاکستان صرف نام کا اسلامی ملک نہیں، بلکہ عمل اور کردار سے بھی اسلام کا قلعہ بن جائے گا۔ پاکستان کے دینی اجتماعات محض مذہبی رسوم نہیں بلکہ دین ِ محمدی کی تجدید، اصلاحِ معاشرہ، اور امت ِ واحدہ کے خواب کی تعبیر ہوں۔ ان اجتماعات سے یہ امید بندھتی ہے کہ علمائِ کرام اور دینی قائدین ملت کے نوجوانوں کو فروعی اختلافات سے نکال کر اللہ کی توحید قرآن و سنت کی اصل روح سے جوڑنے میں کامیاب ہوں گے۔ ان شاء اللہ یہی عمل امت ِ محمدیہ کو وہ مقام دلا سکتا ہے جس کا وعدہ قرآن نے کیا ہے: ’’تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی‘‘۔ (آل عمران: 110)

عمران احمد سلفی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ان اجتماعات پاکستان میں یہ اجتماع ہیں بلکہ کرتا ہے اللہ کی کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار