Juraat:
2026-07-24@03:45:57 GMT

پیپلز پارٹی اداروں کی نجکاری کے عمل میں رکاوٹ قرار

اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT

پیپلز پارٹی اداروں کی نجکاری کے عمل میں رکاوٹ قرار

پیپلز پارٹی ملک میں سرکاری اداروں کی نجکاری کے خلاف ہے،وفاقی وزیرسرمایہ کاری
اتحادی جماعت الگ ہوتی ہے تو ہماری حکومت ختم ہو جائے گی،تقریب سے خطاب

وفاقی وزیر و رہنما مسلم لیگ (ن) نے اداروں کی نجکاری (پرائیویٹائزشن) کے عمل میں اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو رکاوٹ قرار دے دیا۔ وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی ملک میں سرکاری اداروں کی نجکاری کے خلاف ہے اس کی وجہ سے پرائیویٹائزشن کا عمل آگے نہیں بڑھ پا رہا ہے۔ قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا نجکاری کے خلاف منشور ہے یہ کوئی نئی بات نہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کی ہمیشہ سے پرائیویٹائزشن کی پالیسی رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایس او ایز سالانہ 800 ارب روپے خسارہ کرتی ہیں، قومی ایٔر لائن (پی آئی اے) اور روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری جلد کرنے جا رہے ہیں، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نجکاری کے حق میں ہے لیکن چارٹر آف اکانومی پر نہیں آ رہی۔ ’پیپلز پارٹی کے ساتھ پرائیویٹائزشن سے متعلق مذاکرات ہوتے رہتے ہیں، اس کو ناراض کرنے سے ہماری حکومت نہیں رہ پائے گی، اگر اتحادی جماعت الگ ہوتی ہے تو ہماری حکومت ختم ہو جائے گی۔ وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ کمپنیاں معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے پاکستان آ رہی ہیں، پارلیمنٹ سے آسان کاروبار ایکٹ پاس کروایا، ڈی ریگولیشن پالیسی پر کام کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: اداروں کی نجکاری پیپلز پارٹی نجکاری کے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش