پیپلز پارٹی اداروں کی نجکاری کے عمل میں رکاوٹ قرار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
پیپلز پارٹی ملک میں سرکاری اداروں کی نجکاری کے خلاف ہے،وفاقی وزیرسرمایہ کاری
اتحادی جماعت الگ ہوتی ہے تو ہماری حکومت ختم ہو جائے گی،تقریب سے خطاب
وفاقی وزیر و رہنما مسلم لیگ (ن) نے اداروں کی نجکاری (پرائیویٹائزشن) کے عمل میں اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو رکاوٹ قرار دے دیا۔ وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی ملک میں سرکاری اداروں کی نجکاری کے خلاف ہے اس کی وجہ سے پرائیویٹائزشن کا عمل آگے نہیں بڑھ پا رہا ہے۔ قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا نجکاری کے خلاف منشور ہے یہ کوئی نئی بات نہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کی ہمیشہ سے پرائیویٹائزشن کی پالیسی رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایس او ایز سالانہ 800 ارب روپے خسارہ کرتی ہیں، قومی ایٔر لائن (پی آئی اے) اور روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری جلد کرنے جا رہے ہیں، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نجکاری کے حق میں ہے لیکن چارٹر آف اکانومی پر نہیں آ رہی۔ ’پیپلز پارٹی کے ساتھ پرائیویٹائزشن سے متعلق مذاکرات ہوتے رہتے ہیں، اس کو ناراض کرنے سے ہماری حکومت نہیں رہ پائے گی، اگر اتحادی جماعت الگ ہوتی ہے تو ہماری حکومت ختم ہو جائے گی۔ وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ کمپنیاں معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے پاکستان آ رہی ہیں، پارلیمنٹ سے آسان کاروبار ایکٹ پاس کروایا، ڈی ریگولیشن پالیسی پر کام کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اداروں کی نجکاری پیپلز پارٹی نجکاری کے
پڑھیں:
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔
دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.