لاہور کے حلقہ این اے 129 میں انتخابی میدان سج گیا، حلقے میں کس برداری کا ووٹ بینک زیادہ ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
پنجاب میں قومی اسمبلی کی 6 اور صوبائی اسمبلی کی 7 نشستوں پر ضمنی انتخابات کی پولنگ جاری ہے۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 129 لاہور میں سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کے والد میاں محمد اظہر کی وفات سے خالی ہونے والی نشست پر بھی آج ضمنی انتخاب ہو رہا ہے۔ پولنگ صبح 8 بجے شروع ہو کر شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی۔
اس اہم حلقے میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 58 ہزار 364 ہے جن میں 2 لاکھ 89 ہزار 339 مرد اور 2 لاکھ 69 ہزار 25 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حلقے میں 334 پولنگ اسٹیشنز اور 1,045 پولنگ بوتھز قائم کیے ہیں جن میں 133 مردوں، 131 خواتین اور 70 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ضمنی انتخابات: قومی اسمبلی کی 6 اور پنجاب اسمبلی کی 7 نشستوں پر پولنگ جاری
برادریوں کے ووٹ بینک کے لحاظ سے این اے 129 میں آرائیں، جٹ، راجپوت، کشمیری، شیخ اور سید برادریوں کا بڑا ووٹ بینک موجود ہے، جن میں خاص طور پر آرائیں، کشمیری اور راجپوت برادریوں کو فیصلہ کن سمجھا جا رہا ہے۔
انتخابی میدان میں حکومتی اتحاد کی حمایت یافتہ امیدوار حافظ میاں نعمان اور پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار ارسلان احمد کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔
حافظ میاں نعمان کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ حلقے میں حکومتی ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے عوام کی بڑی تعداد ان کی طرف مائل ہو رہی ہے، جبکہ تحریک انصاف کی طرف سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ حکومت نے انتخاب سے قبل ترقیاتی کاموں کے ذریعے دھاندلی کی اور ان کی مہم کو بینرز اتارنے سمیت مختلف طریقوں سے روکا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب ضمنی انتخابات پر اثر انداز ہونے کا خدشہ، الیکشن کمیشن کا اظہار تشویش
اس حلقے میں 4 صوبائی نشستیں بھی شامل ہیں، جس کی وجہ سے یہ انتخاب سیاسی اور برادریوں کے ووٹ بینک کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔
نتائج کا حتمی فیصلہ تو ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی ہوگا، تاہم پولنگ کے دوران ووٹرز کی بڑی تعداد پولنگ اسٹیشنز پر موجود ہے اور پرامن ماحول میں ووٹنگ جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکشن پولنگ ضمنی انتخابات لاہور کے حلقہ این اے 129 ووٹنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن پولنگ ضمنی انتخابات لاہور کے حلقہ این اے 129 ووٹنگ ضمنی انتخابات اسمبلی کی ووٹ بینک رہا ہے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔