این اے 18 ہری پور ضمنی انتخاب کا دنگل سج گیا، شہر میں اسلحہ کی نمائش پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
ہری پور:
ہری پور میں حلقہ این اے 18 کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ نے آج الیکشن کے پُرامن انعقاد کیلئے سیکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے شہر میں اسلحے کی نمائش پر دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔
ڈپٹی کمشنر ہری پور وسیم خان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شخص کھلے عام اسلحہ لے کر نہیں گھوم سکتا، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی ہوگی۔
ڈی سی ہری پور نے بتایا کہ ضمنی انتخابات کیلئے تمام تیاریاں مکمل ہیں اور انتظامیہ امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔
ان کے مطابق عوام کی جان و مال کا تحفظ انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
الیکشن ڈیوٹی کی نگرانی کیلئے تمام اسسٹنٹ کمشنرز فیلڈ میں موجود ہیں، جبکہ ڈی سی نے عوام سے پولیس، انتظامیہ اور الیکشن عملے سے بھرپور تعاون کی اپیل بھی کی۔
این اے 18 ہری پور کی خالی نشست عمر ایوب کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی، اور اب یہاں آج ضمنی انتخاب کا دنگل سج چکا ہے۔
نشست کے لیے آج ہونے والا کانٹے دار مقابلہ پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ امیدوار شہرناز ایوب (عمر ایوب کی اہلیہ) اور مسلم لیگ ن کے امیدوار بابر نواز خان کے درمیان متوقع ہے۔
ہری پور کا این اے 18 حلقہ تین تحصیلوں پر مشتمل ہے، جبکہ ووٹنگ کے لیے 602 پولنگ اسٹیشن اور 1900 سے زائد پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے 40 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس اور 100 کو حساس قرار دیا ہے۔
حلقے میں 7 لاکھ 53 ہزار 954 رجسٹرڈ ووٹر آج اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے، جس کے لیے پولیس اور دیگر ادارے مکمل الرٹ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہری پور
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔