کیا پاکستان عظیم مملکت ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251123-09-5
قائداعظم نے کہا تھا کہ صحافت اور قوم کا عروج و زوال ایک ساتھ ہوتا ہے۔ جب صحافت عروج کی طرف جاتی ہے تو قوم بھی عروج کی طرف جاتی ہے اور جب صحافت زوال آمادہ ہوجاتی ہے تو قوم بھی زوال آمادہ ہوجاتی ہے۔ 1930ء اور 1940ء کی دہائی میں برصغیر کی مسلم صحافت زندہ و بیدار تھی۔ چنانچہ اس زمانے میں برصغیر کی ملت اسلامیہ بھی زندہ و بیدار تھی۔ وہ انگریزوں کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑی تھی اور ہندوئوں کو للکار رہی تھی۔ مگر 1958ء کے بعد پاکستانی صحافت جرنیلوں اور ان کے پالتو سیاست دانوں کا آلہ ٔ کار بن گئی۔ اس کا ایک ٹھوس ثبوت یہ ہے کہ 1971ء میں جب پاکستان ٹوٹ رہا تھا اور پاکستان کے جرنیل پاکستان بنانے والے بنگالیوں کو کچل رہے تھے تو ملک کے ممتاز صحافی الطاف حسن قریشی اردو ڈائجسٹ کے اداریے میں فرما رہے تھے کہ مشرقی پاکستان میں پاک فوج کے لیے محبت کا زمزمہ بہہ رہا ہے۔ جھوٹ کی دو اقسام ہیں جھوٹ اور حد سے بڑھا ہوا مبالغہ۔ جھوٹ کی مثال تو الطاف حسن قریشی ہیں۔ حد سے بڑھے ہوئے مبالغے کی مثال محمود شام ہیں۔ ان کے حد سے بڑھے ہوئے مبالغے کا ثبوت ان کا ایک حالیہ کالم ہے جس میں انہوں نے بچے کھچے اور جرنیلوں کے بوٹوں سے روندے ہوئے پاکستان کو ’’عظیم مملکت‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کیا لکھا ہے انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے۔ لکھتے ہیں۔
’’کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی تا کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا، حالانکہ وہ ان سے کہیں زیادہ طاقتور اور زمین میں نشانات بنانے کے اعتبار سے بہت بڑھ کر تھے تو جو کچھ وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ کام نہ آیا۔ (مضامین قرآن حکیم۔ مرتبہ زاہد ملک۔ صفحہ 627۔ سورۃ المومن آیت 82)
تاریخ برہم ہے۔ جغرافیہ دانتوں میں زبان دبائے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنسائے ہوئے ہے۔ ہم شروع سے یہ تجزیہ کرتے آئے ہیں کہ قائداعظم صرف ایک سال زندہ رہے۔ اس لیے پاکستان مستحکم نہیں ہوسکا۔ بہت سی مشکلات سر اُٹھاتی رہیں۔ ان کے دست راست قائد ملت لیاقت علی خان بھی تین سال بعد قتل کردیے گئے۔ اس لیے حالات بہتر نہ ہوسکے۔ ہم شخصیات پر اعتبار کرتے ہیں۔ فراموش کردیتے ہیں کہ شخصیات تو سب فانی ہیں، آنی جانی ہیں۔ ہر ایک کو ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ کوئی بھی آخری امید نہیں ہوسکتی۔ نہ جانے کتنی آخری امیدیں منوں مٹی تلے دبی ابدی نیند سورہی ہیں۔ پھر بھی یہ عظیم مملکت چل رہی ہے‘‘۔ (روزنامہ جنگ۔ 13 نومبر 2025ء)
اس حقیقت سے انکار ممکن ہی نہیں کہ قیام پاکستان سے بھی بہت پہلے پاکستان ایک ’’عظیم مملکت‘‘ تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس پر اللہ کا سایہ تھا۔ انسانی تاریخ میں صرف دو ریاستیں اسلام کے نام پر وجود میں آئی تھیں۔ ایک ریاست مدینہ اور دوسری پاکستان۔ چنانچہ پاکستان جب صرف ایک تصور تھا تو بھی اس پر خدائے ذوالجلال کا سایہ تھا۔ پاکستان تو 1947ء میں تخلیق ہوا مگر اقبال سے بھی بہت پہلے اللہ تعالیٰ پاکستان کا خیال ممتاز ناول نگار عبدالحلیم شرر کے قلب پر القا کرچکا تھا۔ یہ 1890ء کی بات ہے جب عبدالحلیم شرر نے اپنے رسالے ’’دلگداز‘‘ میں برصغیر کے اندر ایک علٰیحدہ اسلامی ریاست کا خیال پیش کیا۔ یہ اقبال کے خطبہ الٰہ آباد سے 40 سال پہلے کی بات ہے۔ مگر عبدالحلیم شرر کا یہ خیال لوگوں کی توجہ حاصل نہ کرسکا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پاکستان کا خیال 1917ء میں یوپی کے خیری برادران کے قلب پر القا کیا اور انہوں نے برصغیر میں ایک الگ اسلامی ریاست کا خیال پیش کیا۔ لیکن اس مرتبہ بھی یہ خیال عوامی تخّیل یا Public Imagination کا حصہ نہ بن سکا۔ یہاں تک کہ 1930ء آگیا اور اقبال نے یوپی کے شہر الٰہ آباد میں جا کر اپنے خطبہ الٰہ آباد میں برصغیر کے اندر ایک الگ اسلامی ریاست کا تصور پیش کیا۔ اب قیام پاکستان کا وقت چونکہ قریب آچکا تھا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ اقبال کے تصور کو عوام کے تخیّل کا حصہ بنادیا بلکہ اس تصور نے خود ’’قوم پرست‘‘ اقبال کو ’’اسلام پرست‘‘ اقبال میں ڈھال دیا۔ دوسری طرف اس تصور نے ایک قومی نظریے کے علمبردار ’’محمد علی جناح‘‘ کو ’’دوقومی نظریے کا ترجمان‘‘ بنا کر ’’قائداعظم‘‘ میں ڈھال دیا۔ چنانچہ پاکستان کا نظریہ بھی عظیم تھا۔ پاکستان کا تصور بھی عظیم تھا۔ پاکستان کا قائد بھی عظیم تھا۔ قیام پاکستان کی جدوجہد بھی عظیم تھی۔ یہاں تک پاکستان کے عظیم مملکت ہونے میں کوئی کلام ہی نہیں۔
20 ویں صدی میں نظریے کی طاقت بے پناہ تھی۔ ایک طرف نظریے نے پاکستان کے نام دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست تخلیق کی۔ دوسری طرف اس سے پہلے سوشلزم کے نظریے نے روس میں سوشلسٹ انقلاب برپا کیا۔ تیسری جانب اسی نظریے نے چین کو بھی سوشلسٹ انقلاب سے ہمکنار کیا۔ روسی انقلاب صرف روس تک محدود نہ رہا اس نے دیکھتے ہی دیکھتے آدھی دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ اس انقلاب نے پوری زندگی کو بدل ڈالا۔ روس اور چین میں کوئی بیروزگار نہ رہا۔ کوئی بے گھر نہ رہا۔ اس نظریے نے روس چین کے پورے معاشرے کو مفت تعلیم فراہم کی۔ مفت علاج کی سہولتیں مہیا کیں۔ روس کے انقلاب نے روس کو سوویت یونین میں ڈھال کر دنیا کی دوسری سپر پاور بنادیا۔ اسی طرح چینی انقلاب نے آج چین کو دنیا کی دوسری بڑی معیشت کی صورت دے دی ہے۔
پاکستان کا نظریہ روس اور چین کے نظریے سے ایک کروڑ گنا بڑا تھا اور یہ نظریہ پاکستان کو ایک عظیم مملکت بنا سکتا تھا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ پاکستان کے جرنیلوں اور ان کے پالتو سیاست دانوں نے ملک کے بنیادی نظریے سے غداری کی اور اس نظریے کو ریاست اور معاشرے پر حاکم نہ بنے دیا۔ اس کے برعکس جنرل ایوب نے پاکستان پر سیکولر ازم تھوپ دیا۔ انہوں نے ڈاکٹر فضل الرحمن سے سود کو ’’حلال‘‘ قرار دلوا دیا۔ انہوں نے معاشرے پر ایسے عائلی قوانین مسلط کردیے جو اسلام کی ضد تھے۔ انہوں نے اس تصور ہی کو پنپنے نہ دیا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب کی ایجاد تھے۔ وہ سیاست میں آئے تو انہوں نے ’’اسلامی سوشلزم‘‘ تخلیق کر ڈالا۔ حالانکہ اسلام اور سوشلزم میں کوئی قدر مشترک نہیں تھی۔ اسلام سوشلزم کی اور سوشلزم اسلام کی ضد تھا۔ جنرل پرویز مشرف لبرل تھے انہوں نے پاکستان کو لبرل بنانے کی کوشش کی۔ جنرل ضیا الحق کا اسلام صرف سیاسی فائدے کے لیے تھا اور اس نے معاشرے کے باطن پر رّتی برابر بھی اثر نہ ڈالا۔ میاں نواز شریف اور ان کے خانوادے کا نظریہ اسلام تو کیا سیکولر ازم بھی نہیں ہے۔ یہ پورا خاندان ’’پنجابیت‘‘ میں ڈوبا ہوا ہے۔ میاں نواز شریف نے اسلامی جمہوریہ اتحاد کے زمانے میں جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگایا۔ آج مریم نواز خود کو ’’اسلام کی بیٹی‘‘ یا ’’پاکستان کی بیٹی‘‘ کے بجائے ’’پنجاب کی بیٹی‘‘ کہلانا پسند کرتی ہیں۔ پیپلز پارٹی بھٹو کے زمانے سے آج تک کبھی ’’سندھیت‘‘ سے بلند نہیں ہوسکی۔ چنانچہ نظریۂ پاکستان ملک و قوم کے لیے کوئی ’’تخلیقی قوت‘‘ یا قوم کے اتحاد و یگانگت کا آلہ نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسی مملکت کو عظیم کہا جاسکتا ہے جو اپنے نظریے ہی سے بیگانہ ہوگئی ہو؟
قائداعظم نے وقت کی واحد سپر پاور برطانیہ اور ہندو اکثریت سے لڑ کر پاکستان بنایا تھا۔ چنانچہ پاکستانی قوم کو ایک ’’آزاد قوم‘‘ ہونا چاہیے تھا۔ مگر جرنیلوں اور ان کے آلہ ٔ کار سیاست دانوں نے 1958ء سے آج تک پاکستان کو امریکا کا غلام بنایا ہوا ہے۔ جنرل ایوب نے پاکستان کو سیٹو اور سینٹو کا حصہ بنایا۔ انہوں نے امریکا کو ’’بڈھ بیر‘‘ میں ایسا ہوائی اڈا فراہم کیا جہاں سے امریکا سوویت یونین کی نگرانی کرتا تھا۔ جنرل ایوب نے پاکستان کی معیشت کو عالمی بینک کی غلامی میں دینے کے عمل کا آغاز کیا۔ جنرل پرویز نے نائن الیون کے بعد پورا پاکستان امریکا کے حوالے کردیا۔ آج بھی پاکستان امریکی Dictation پر چل رہا ہے۔ ہماری معیشت 130 ارب ڈالر سے زیادہ قرضوں کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔ کیا ایسے ملک اور ایسی معیشت کو آزاد قرار دیا جاسکتا ہے؟ اگر نہیں تو پاکستان کو ’’عظیم مملکت‘‘ کیونکر کہا جاسکتا ہے؟
یہ ہمارے سامنے کی بات ہے کہ چین نے 40 برسوں میں 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا ہے۔ بھارت نے 40 سال میں 25 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا ہے اور روس نے 30 کروڑ کی نئی مڈل کلاس پیدا کی ہے۔ مگر پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت نے قوم کا یہ حال کیا ہوا ہے کہ 10 کروڑ افراد خط ِ غربت سے نیچے کھڑے ہیں۔ مڈل کلاس پھیلنے کے بجائے سکڑ رہی ہے۔ آبادی کے 80 فی صد افراد کو پینے کا صاف پانی فراہم نہیں۔ معاشرے کے 80 فی صد لوگ بیمار پڑتے ہیں تو انہیں کوئی ماہر ڈاکٹر فراہم نہیں ہوپاتا۔ 40 فی صد آبادی ناخواندہ ہے، پونے تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسی مملکت کو ’’عظیم‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے؟
ہمارے زمانے میں جمہوریت کو معاشرے کی ’’صحت‘‘ کا بیرومیٹر کہا جاتا ہے۔ جمہوری معاشروں میں جمہوری سیاسی جماعتیں موجود ہوتی ہیں۔ لیکن پاکستان میں جماعت اسلامی کے سوا کوئی بھی ’’جمہوری پارٹی‘‘ موجود نہیں۔ آزاد معاشروں میں آزادانہ انتخابات ہوتے ہیں، مگر پاکستان میں کوئی انتخاب بھی آزادانہ نہیں ہوا۔ 2024ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی نے دو تہائی اکثریت حاصل کرلی تھی مگر جرنیلوں نے فارم 47 کے ذریعے پی ٹی آئی کو ہرا دیا اور نواز لیگ اور ایم کیو ایم کو جتا دیا۔ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کامیاب ہوگئی تھی مگر اسٹیبلشمنٹ نے جماعت اسلامی کو ہرا کر کراچی پر پیپلز پارٹی کا میئر مسلط کردیا۔ صحافت کی آزادی کا یہ حال ہے کہ جنرل عاصم منیر کے خلاف کہیں ایک تنقیدی جملہ نہ شائع ہوسکتا ہے نہ نشر ہوسکتا ہے۔ محمود شام اس کے باوجود فرما رہے ہیں کہ پاکستان عظیم مملکت ہے؟۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلامی ریاست نے پاکستان پاکستان کی عظیم مملکت پاکستان کو پاکستان کے پاکستان کا جنرل ایوب جاسکتا ہے اور ان کے بھی عظیم نظریے نے انہوں نے میں کوئی کا خیال ہیں کہ
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس