Jasarat News:
2026-07-24@04:35:08 GMT

مینار پاکستان سے پھوٹتا نور!!

اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251123-09-4
11 سالہ طویل انتظار کے بعد مینار پاکستان کے سائے تلے جماعت اسلامی کا 3 روزہ اجتماع عام شاندار جوش و جذبے کے ساتھ شروع ہو چکا ہے۔ یہ اجتماع محض ایک سیاسی تقریب نہیں، بلکہ ایک تحریک کا مظہر ہے جو دین، اخلاق اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے دل کی گہرائیوں سے کوشاں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج نہ صرف بیش تر لوگ اس حقیقت سے عموماً غافل ہیں، بلکہ مسلمان اسے محض سیاسی سرگرمی سمجھ بیٹھے ہیں اور اس بات سے بے خبر کہ دین میں اس کی اہمیت کس قدر عظیم اور گہری ہے۔ وہ یہ حقیقت نہیں جانتے کہ دنیا میں جو ظلم، فساد، کرپشن، طغیان اور اخلاقی بگاڑ پھیل رہا ہے، اس کی بنیادی وجہ فساق و فجار کی قیادت ہے اور انسانیت کی بھلائی کا دارو مدار اسی پر ہے کہ دنیا کے امور نیک اور صالح لوگوں کے ہاتھ میں ہوں۔ بس اس اجتماع کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے۔

آج دنیا کے وسائل، انسانی علوم اور دریافت شدہ طاقتیں اگر انسان کی فلاح کے بجائے اس کی تباہی میں استعمال ہو رہی ہیں، تو اس کی ذمے داری انہی پر ہے جو مادہ پرستی اور بداخلاقی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ جماعت اسلامی کی بنیاد اسی ضرورت سے جڑی ہے کہ دنیا کے معاملات نیک اور صالح لوگوں کے ہاتھ میں آئیں، تاکہ انسانیت کی بربادی روکی جا سکے اور خیر و فلاح کے راستے روشن ہوں۔

اجتماع کی ابتدا نماز جمعہ سے ہوئی، جس میں ڈاکٹر علی محی الدین قرۃ داغی، رئیس الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین نے خطبہ دیا۔ ملک کے ہر گوشے سے ہزاروں خواتین و حضرات جو اصلاح معاشرہ اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے سرگرم ہیں، شدید سردی کے باوجود لاہور پہنچ چکے ہیں۔ یہ اجتماع پاکستان کی تعلیم یافتہ افراد بالخصوص نوجوانوں کے لیے ایک مثبت پیغام، ایک موثر دعوتِ فکر، اور ایک قابل تقلید مثال ہے۔

مینارِ پاکستان کی وسعتیں بھی آج اس اجتماع کے جوش و جذبے کے سامنے چھوٹی محسوس ہو رہی ہیں۔ ضرورتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ قرب و جوار کی جگہیں بھی اس جذبے کے لیے کھولی گئی ہیں اور بادشاہی مسجد کو زیر استعمال لایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی اور سیاسی جماعت ہو، جو ایک صدا پر ملک کے گوشے گوشے سے اتنے بڑے پیمانے پر کارکنان کو جمع کر سکے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے عزم، قربانی اور وفاداری کے جذبات لے کر چلے آتے ہیں، چاہے وہ صاحب ثروت ہوں کہ تنگ دست۔ زبان، رنگ، نسل سب مختلف، لیکن کاز، مشن اور مقصد میں متحد اور یہی اتحاد جماعت کی اصل طاقت ہے۔

جماعت اسلامی بھی ایک انسانی جماعت ہے۔ یہ کسی معصوم یا کامل ادارے کا عکس نہیں، بلکہ ایک اجتماعی وجود ہے جو اپنی غلطیوں، کمیوں اور کوتاہیوں سے مبرا نہیں۔ لیکن اسی انسانی پہلو میں اس کی عظمت اور جاذبیت چھپی ہے۔ خیر اور نیک نیتی کا پہلو ہمیشہ غالب رہتا ہے اور یہی طاقت آج کے اجتماع میں نظر آ رہی ہے۔

اجتماع میں شریک افراد کے چہرے، ان کی لگن اور جذبات یہ بتاتے ہیں کہ دین اور سیاست محض نظریاتی موضوعات نہیں، بلکہ انسان کی زندگی کی رہنمائی کے لیے لازم اصول ہیں۔ یہاں کوئی رقص و سرود، چھلکتے جام یا تاش کے کھیل نہیں ہوتے، بلکہ خدا کی راہ میں قربانی، اخلاص اور امت کی بھلائی کے لیے محبت و عزم کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی تربیت گاہ ہے جو انسان کے دل سے زنگ آلودگی کو دور کر کے اسے نیکی اور خدمت کی طرف راغب کرتی ہے۔

یہ اجتماع آج بھی ایک روشن پیغام ہے، ایک روشنی ہے جو اندھیروں میں رہنمائی کرتی ہے۔ جماعت اسلامی کا یہ مینار، پاکستان اور پوری انسانیت کے لیے ایک مثال ہے کہ نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کی گئی کوششیں، چاہے کتنی بھی مشکلات سے بھری ہوں، آخرکار معاشرتی اصلاح اور دین کی سربلندی کا سبب بنتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جماعت اسلامی کا یہ اجتماع ہر لحاظ سے کامیاب ہو، رب تعالیٰ اسے ہر شر و فتنے سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
یہ بھی واضح رہے کہ ہمارا کسی بھی سیاسی جماعت یا کسی اور تنظیم و پارٹی سے دور پرے کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم اپنے آقا و مولا سیدنا محمد عربیؐ کی عالی نسبت سے آپؐ کے دین متین سے جڑے ہر شخص اور ہر جماعت سے دلی لگائو ہے۔

ضیاء چترالی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی یہ اجتماع کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی