Express News:
2026-06-03@02:26:17 GMT

سوڈان سے سبق سیکھیے؟

اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT

سوڈان ‘ افریقہ کا ایک بدقسمت ملک ہے ۔ تقریباً بیس لاکھ مربع کلو میٹر پر مشتمل یہ بہت بڑا خطہ ہے۔ سات ملکوں کے درمیان گھرا ہوا‘ سوڈان آگ ‘ بارود اور خون کے سمندر میں ڈوبا ہوا ہے۔ پانچ کروڑ افراد کیسے زندہ رہ رہے ہیں‘ یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے ۔سوڈان کے 97فیصد لوگ مسلمان ہیں۔ یعنی ہم بغیر کسی مخمصے میں پڑے کہہ سکتے ہیں کہ یہ ملک مسلمانوں کا ہے۔

عرض کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کرہ ارض پر جس ملک میں بھی مسلمان اکثریت میں بستے ہیں اور حکمرانی کر رہے ہیں، وہاں انسانی حقوق ‘ جمہوریت اورقانون کی حکمرانی ختم ہو جاتی ہے۔حکمران امیر اور عوام غریب ‘ یہ حکمرانی کا وہ ماڈل ہے جو پچاس سے زیادہ مسلم ریاستوں میں جاری و ساری ہے ۔ اور اس طرز حکمرانی میں تبدیلی لانا ناممکن نظر آ رہا ہے۔ سوڈان کی صورت حال بدامنی کا شکار اکثر مسلمان ممالک سے زیادہ بدتر ہے ۔

1989میں عمر البشیر نے سوڈان کی حکومت پر قبضہ کیا ۔ تین دہائیاں سیاہ و سفید کا مالک رہا ۔ وہ اور اس کا خاندان دولت کے انبار اکٹھے کرتا رہا ۔ مگر عام سوڈانی غربت کی دلدل میں دھنستا رہا۔ عمرالبشیر اور اس کے خاندان نے سوڈان کو کتنا نقصان پہنچایا، اس کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔ پھر وہی ہوا جو اس طرز حکومت کا منطقی انجام ہوتا ہے۔ 2019 میں فوج نے صدر عمرحسن البشیر کے خلاف بغاوت کر دی اور وہ اقتدار سے محروم ہو گیا۔جمہوریت کا ڈول ڈالا گیا ۔ عوام کے مسائل پر توجہ دینے کی ادھوری سی کوشش ہوئی ۔ مگر اس کو چلنے نہیں دیا گیا۔ 2021میں سوڈان اسی جگہ پہنچ گیا جہاں وہ بتیس سال پہلے تھا۔

یہ انقلاب دو جرنیل لے کر آئے تھے۔ جنرل عبدالفتح البرہان فوج کا سربراہ تھا ۔ فوری طورپر ملک کا صدر بن گیا۔ اس کا دست راست جنرل محمد ہمدان بھی حکومت میں شامل ہو گیا۔

لیکن آہستہ آہستہ اختلاف رنگ دکھانے لگا۔ تنازعہ کی بنیادی وجہ دولت کا ارتکاز اور ایک لاکھ آر ایس ایف کے سپاہیوں کو فوج میں شامل کرنا تھا۔ جو جنرل ہمدان کے وفادار تھے۔ اصل مسئلہ وہی ہے جو صدیوں سے جاری و ساری ہے کہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں۔ پندرہ اپریل 2023 کو دونوں عمائدین کے وفادار سپاہیوں نے جنگ شروع کی۔ آر ایس ایف اور ریاستی فوج کی لڑائی آج بھی خون بہا رہی ہے۔ کبھی ایک شہر آر ایس ایف کے قبضے میں چلا جاتا ہے اور کبھی اسی شہر پر ریاستی فوج قبضہ کر لیتی ہے ۔

مگر یہاں ایک اہم ترین نقطہ سامنے لانے کی ضرورت ہے ۔ سوڈان میں سونے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق سوڈان سونے کے ذخائر رکھنے والا سولہواں بڑا ملک ہے۔اور یہی فساد کی جڑ ہے ۔ ہر حکمران گروہ سونے کے ذخائر پر قابض ہونا چاہتا ہے اور اس کے لیے بین الاقوامی کمپنیوں اور ملکوں کی مدد لی جاتی ہے۔ گیارہ سو ٹن سونے کے ذخائر نے پورے ملک کو خون میں نہلا دیا ہے۔

کیا آپ یہ نہیں پوچھیں گے کہ ان متحارب گروہوں کے پاس اسلحہ کہاں سے آتا ہے؟ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق یہ مہلک اسلحہ روس ‘ چین ‘ ترکی ‘ یمن ‘ سربیااور متحدہ عرب امارات کے ذریعے ان گروہوں تک پہنچتا ہے۔ سوڈان سے سونا اسمگل ہو کر خلیجی ملک پہنچتا ہے ۔ یہاں دنیا میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ انٹر نیشنل ریسکیو کمیٹی کے مطابق چالیس لاکھ سوڈانی شہری ہمسایہ ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔ ڈھائی کروڑ سوڈانی ‘ غذا سے محروم ہیںاور قحط میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

ڈیڑھ کروڑ افراد بے گھر اور بے سرو سامان ہو چکے ہیں۔ ان کے پاس کسی قسم کی کوئی چھت نہیں ۔ ہزاروں خواتین اور بچوں کوجنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ڈھائی سے آٹھ لاکھ تک عام شہری مارے جاچکے ہیں ، شہر کے شہر تباہ ہو چکے ہیں۔ اسپتالوں اور کلینکس پر بھی فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ پورا ملک ایک قبرستان کی شکل اختیار کر چکا ہے۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امداد فراہم کرنے والی مختلف ایجنسیوں نے غذا مفت مہیا کرنے کے لیے جو کچن بنائے تھے ، ان میں سے گیارہ سو باورچی خانے بند کر دیے گئے ہیں۔ انسانی المیہ کی یہ شکل دنیا کے سامنے ہے ۔ مگر کوئی بھی اس پر توجہ نہیں دیتا۔

متحارب عسکری گروہ مسلمان ہیں۔قتل ہونے والے عام شہری ‘ بچے اور خواتین بھی مسلمان ہیں۔ مگر کوئی بھی اسلامی ملک اس جنگ کو بند کرانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتا۔ ایسے لگتا ہے کہ کسی کو پرواہ ہی نہیں ۔ غزہ میں ساٹھ ستر ہزار مسلمان اسرائیلی بربریت کا نشانہ بنے تھے اور دنیا کی ہر قوم اور ملک نے کسی نہ کسی طریقے سے اس میں مثبت یا منفی اعلانات کیے تھے۔ پر بدقسمتی سے کسی بھی مسلمان ملک کے حکمرانوں کا ضمیر سوڈان کی ہولناک سول وار کی وجہ سے نہیں جاگ سکا۔ ایسے لگتا ہے کہ کچھ ہو ہی نہیں رہا۔ اب میں ایک تلخ سوال کرنا چاہتا ہوں۔ہمارے مذہبی حلقے ہر دم ‘ لفاظی کی حد تک فلسطین کا ذکر ضرور کرتے ہیں ۔

مسلم امہ کی یکجہتی کی دعائیں بھی مانگتے ہیں ۔ کشمیر میں مسلمانوں کی زبوں حالی پر سینہ کوبی کرتے ہیں مگر سوڈان میں مسلمانوں کے باہمی قتل وعام پر ایک لفظ ادا نہیں کرتے۔ پاکستانی حکمرانوں کا ذکر کرنا تو عبث ہے اس لیے کہ دنیا کاکوئی طاقتور ملک انھیں سنجیدہ نہیں لیتا ہے ۔

ایسے بھی لگتا ہے کہ مذہبی جماعتیں ‘ جس مسلم امہ کا رو رو کر ذکر کرتی ہیں ، وہ طویل عرصے سے ختم ہو چکی ہیں۔کیا آپ نے کسی پاکستانی یا مسلم حکمران کا سوڈان میں قتل عام کے حوالے سے کوئی بیان سنا ہے ۔ مجھے طالب علم کے طور پر جمہوریت یا کسی بھی دیگر نظام میں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ صرف اور صرف ایک عنصر اہم ہے اور وہ عام آدمی کی فلاح و بہبود کا ۔جو کم از کم ہمارے ملک میں دور دور تک دوربین لگا کر بھی نظر نہیں آتا۔ ہماری اپنی معاشی ‘ سماجی ‘ سیاسی اور اقتصادی صورت حال اس قدر ابتر ہے کہ اس کا ذکر کرتے ہوئے بھی تکلیف ہوتی ہے ۔ حکومتی جھوٹ اس قدر زیادہ بولا جا رہا ہے کہ ہر ذی شعور دنگ رہ جاتا ہے۔ پچیس کروڑ لوگوں پر مشتمل یہ ملک ‘ کیا سوڈان کی طرح کسی خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے؟ اس کے سوا مطلق کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔

سوڈان میں طاقتور حکمران گروہوں نے ملکی ذخائر پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ ملک کو لاشوں اور خون سے بھردیا گیا ہے۔ ایک دولت مند ملک کس طرح ختم ہوا ہے‘ اس کی سب سے تازہ مثال سوڈان ہے۔

اگر ہم سوڈان کی خانہ جنگی ‘ سونے کے ذخائر اور قتل عام کو دیکھیں تو ہمیں بلوچستان کی صورت حال سمجھنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ ہندوستان ‘ چین اور امریکا کی باہمی کھینچا تانی ایک طرف اور بعض مسلم ملک ایک طرف۔ تمام باخبر لوگ یہ جانتے ہیں لیکن خاموشی ہے۔ پاکستان شدید دہشت گردی کا شکار ہے۔لیکن مت بھولیے کہ کبھی کبھی قیمتی دھاتوں کے ذخائر ملکوں کو غیر مستحکم بنا دیتے ہیں۔ سوڈان کا حال سامنے رکھیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سونے کے ذخائر سوڈان میں سوڈان کی کے مطابق چکے ہیں ہے اور اور اس

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی