Jasarat News:
2026-07-24@05:02:54 GMT

کون اللہ میاں

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251115-03-6

 

شرَفِ عالم

میں: ہم نے ایک موقع پر اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی منصوبہ بند نسل کشُی پر دستاویزی ثبوتوں اور حوالوں کے ساتھ گفتگو کی تھی۔ اس حوالے سے سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اسرائیل اور اس کی حمایت کرنے والوں میں کوئی خوف ِخدا نہیں ہے کہ وہ فلسطینیوں پر ظلم کو کس طرح روا رکھے ہوئے ہیں، ان تہذیب کے علم برداروں کے نزدیک معصوم ومظلوم انسانی جانوں کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے۔ کیوں کہ ظلم کرنے والے ان ممالک کے حکمرانوں کا مذہب کوئی بھی ہو لیکن ان میں سے بیشتر مذاہب کی تعلیمات میں حیات بعدالموت اور آخرت میں جواب دہی کا عقیدہ ضرور پایا جاتا ہے۔

وہ: جہاں تک اسرائیل کی بات ہے تو ان کے نزدیک تو یہ مذہبی عقیدے کی بنیاد پر شاید ان کے سب سے بڑے فریضے کی تکمیل ہے۔ اب اس عقیدے کے جھوٹے یا سچے ہونے کی بحث کو فی الحال یہیں چھوڑ دیتے ہیں کیوں کہ کسی بھی مذہبی عقیدے کی بنیاد پر کسی دیرینہ خواہش یا فریضے کی ادائیگی میں کسی دوسرے مذہبی عنصر یا افراد کی رکاوٹ جیسی صورت حال میں کم وبیش تمام ہی مذاہب کے پیروکار بعض اوقات انسانیت کی تمام حدیں پار کر جاتے ہیں۔ تمہیں یاد ہوگا ۱۹۹۲ء میں جب لاکھوں انتہا پسندوں ہندوئوں نے ایودھیا انڈیا میں تقریباً پانچ سو سال قبل تعمیر کی گئی بابری مسجد کو شہید کردیا تھا۔ جبکہ اس جگہ رام کی جنم بھومی ہونے کے دعوے کی تصدیق آج تک نہیں ہوسکی۔ اسی طرح حال ہی میں پہل گام مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں معصوم جانوں کی ہلاکتوں کو کوئی بھی مسلمان کیسے حق بجانب کہہ سکتا ہے۔

میں: لیکن میری سمجھ میں آج تک یہ بات نہیں آئی کہ کوئی بھی انسان یا گروہ اپنے مذہبی عقیدے کی پاسداری یا حصولِ حق کے لیے بے گناہ انسانوں کی جان کا پیاسا کیسے ہوسکتا ہے، کیا تمہیں انسانوں کے اس رویے میں تضاد نظر نہیں آتا، کہ ایک اللہ کو ماننے والے مسلمان اور شرک کے غلُوکے ساتھ خدا اور بھگوان کا تصور لیے دیگر مذاہب کے پیروکار اس بنانے والے کے احکام پر کتنے عمل پیرا ہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ آج کی دنیا میں مسلم اور غیر مسلم کی تخصیص کے بغیر ہمارا انفرادی اور مجموعی سماجی رویہ خدا اور اس کے احکامات سے بے پروائی کی گواہی دے رہاہے۔ خدا کے منکروں کو کیا کہنا ایمان والے بھی اپنی زبان سے نہ سہی مگر عمل سے اسی کا پرچار کررہے ہیں کہ ’’میں ہوں، میں ہوں اور صرف میں ہوں اور میری اس زندگی میں یہ اللہ میاں کہاں سے آگئے! کون اللہ میاں‘‘۔

وہ: تم نے ایک ایسے نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے جو اس وقت پوری انسانیت کے لیے لمحہ ٔ فکر ہے اور اگر انسان اس بات کو سمجھتے ہوئے ادراکِ ذات کے رستے پر چل کر رب کائنات کی پہچان کرلے تو ہر پل یہی کہتا نظرآئے۔ ’’اللہ ہے، اللہ ہے اور صرف اللہ ہے اور اللہ کی دی ہوئی اس زندگی میں یہ میں کہاں سے آگیا! کون میں‘‘۔ اس موقع پر ابن عربی کا وہی قول یاد آرہا ہے جو شاید ہم نے اس سے پہلے بھی اپنی کسی گفتگو میں شامل کیا ہے۔ ’’جس انسان کو اپنی تخلیق پر حیران ہوکر خود پر سوال اٹھانا چاہیے تھا اس نے اپنے پیدا کرنے والے اپنے خالق کی ہستی پر سوالیہ نشان لگادیا‘‘۔

میں: کیا تمہیں ایسا نہیں لگتا کہ انسان کی یہ بے خدائی گزشتہ چند صدیوں پر محیط جدیدیت کی اس سوچ کا پیش خیمہ ہے جس کے زیر اثر انسان نے اپنے گزرے ہوئے کل کو یکسر فراموش کردیا، سرمایہ داریت کے لبادے میں لپٹے مغربی نظریات کے سامنے تمام پرانے خیالات اور بیانیے دقیانوسی قرار پائے اور اس سوچ کا منطقی انجام یہ ہوا کہ انسان نے مادی اشیاء کے حصول کے ذریعے نفسانی خواہشات کی تکمیل کو اپنی زندگی کا واحد مقصد بناتے ہوئے خدا کے ساتھ صدیوں سے جڑے اپنے اس رشتے کو بھی پرانا سمجھ کر توڑ دیا جو خواہشات کے پورا ہونے پر ہی نہیں، نہ ہونے پر بھی مقام شکر اور اس کا واحد سہارا ہوا کرتا تھا۔

وہ: تمہاری بات سو فی صد درست ہے، اس خدا لامرکزیت کی وجہ سے انسان نے خود اپنی ذات کو اپنا مالک ومختار بنا لیا اور نتیجتاً مذہب اور اس کے احکامات چند ظاہری عبادات اور کسی حد تک محض سماجی مجبوری بن کے رہ گئے۔ اور یوں دنیا کے کم وبیش ہر سماج نے کہیں احساس کمتری کی وجہ سے، کہیں اپنے ماضی پر شرمندہ ہوکر اور کہیں عقل کی کسوٹی پر پورا اُترتے سائنسی علوم کو معاشرتی ترقی کی واحد بنیاد بنا کر مِن وعن اختیار کرلیا۔ وہ دل جس کے کسی نہ کسی گوشے میں خدا موجود تھا نت نئی خواہشات اور مادی اشیا کے حصول کی آماج گاہ بن کر رہ گیا۔

میں: لیکن اگر صرف مسلمانوں کے حوالے سے بات کی جائے تو آج روزہ، نماز، اعتکاف، حج وعمرہ کرنے والوں کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

وہ: شاید تعبیر کی یہی وہ غلطی ہے جسے سب کچھ مان کر ہم نے سجود وقیام، ذکرو اذکار کا ہر سامان تو اپنے لیے میسر کرلیا، مگر ہم بحیثیت ایک فرد اور ایک امت دنیا کے کسی بھی سماج کے لیے میسر نہ ہوسکے۔ کسی دوسرے سماج کے لیے مفید ہونے کا سوال تو بعد میں اُٹھے گا پہلے تو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا ہم صرف اپنے سماج کے لیے بھی کسی طرح سود مند ثابت ہو رہے ہیں۔ یہاںکسی کی نیت اور ایمان پر اپنی رائے دینے اور اسے شک کی نگاہ سے دیکھنے کا مجھے اور تمہیں کیا کسی کو بھی کوئی حق حاصل نہیں لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آج کا مسلمان، مسلمان دکھنا چاہتا ہے، بننا نہیں چاہتا۔ من حیث القوم اور امت جن خرابیوںکی نشاندہی اقبالؔ ایک صدی قبل کرگئے تھے وہ مسلمانوں میں پہلے سے کہیں زیادہ راسخ ہوگئی ہیں، یہ ہمارے رویوں اور عادات وخصائل میں ایسے نفوذ کرگئی ہیں کہ اب شاید واپسی کا دروازہ تقریباً بند ہوچکا ہے۔

میں: واپسی کا دروازہ بند ہونے سے تمہاری کیا مراد ہے؟ اگر ربّ کی بارگاہ میں توبہ کرنے کی بات ہے تو اللہ میاں نے یہ دروازہ تو ہمیشہ کھلا رکھا ہے۔

وہ: واپسی سے مراد اللہ میاں کی واپسی ہے۔ ہمارے بنجر دلوں میں، سُونے گھروں میں، انصاف کے کٹہرے میں، قانون سازی کے احاطے میں، سیاست کے میدان میں، منصف کے قلمدان میں، ہماری صبح اور شام میں، روزانہ کے ہر کام میں۔۔۔ جب اللہ میاں پھر سے لوٹ آئیںگے تو مظلوم کو زبان ملے گی، ہنرمند کو پہچان ملے گی، ہر چوراہے پر احترام انسانیت کی نئی داستان ملے گی، ہر غریب کو مشکل میں بھی زندگی آسان ملے گی۔

میں: میری سمجھ میں تمہارا اصل مدعا ابھی بھی پوری طرح نہیں آیا۔

وہ: بات فقط اتنی سی ہے کہ آج کی سائنسی ترقی اور زندگی میں سماجانے والی ٹیکنالوجی کو اس کی تمام حشر سامانیوں کو اختیار کرنے کے باوجود بھی اللہ میاں کے احکامات اور اس کے نظام کو اپنے سماج، اپنی سیاست، اپنی معیشت، اپنی عدالت اور اپنی پوری زندگی میں شامل کرکے انسان خود اپنا اور اس پوری دنیا کا قبلہ سیدھا کرسکتا ہے۔ مجھے اس موقع پر مغربی تہذیب کے خلاف اردو کے پہلے مزاحمتی شاعر اکبر الہ آبادی یاد آگئے جسے ہم نے محض ایک مزاحیہ شاعربنا کر کھڈے لین لگادیا۔

رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جاجا کے تھانے میں

کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

شرَفِ عالم.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: زندگی میں اللہ میاں ہے کہ ا گی میں ملے گی اور اس کے لیے

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک