فیلڈ مارشل امریکی صدر کو ہمارے معدنیات پیش کر رہے ہیں، ایاز جوگیزئی
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
کوئٹہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نواب ایاز جوگیزئی نے کہا کہ یہاں افغان مہاجرین کے نام پر دنیا جہاں سے پیسے لئے گئے۔ اب مقصد پورا ہونے پر افغانیوں کو نکالا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماء نواب محمد آیاز خان جوگیزئی، ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ہماری سرزمین ہمارے آباؤ اجداد نے سروں کے قربانیوں سے ہم تک پہنچایا ہے۔ آج ہمارے معدنیات ہماری اجازت کے بغیر لوٹے جارہے ہیں اور فیلڈ مارشل صاحب امریکی صدر کو بریف کیس میں پیش کرتے ہیں۔ ہم اپنی سرزمین میں پائے جانے والی قیمتی معدنیات کو ہمارے اجازت کے بغیر کسی ہو لوٹنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ دنیا جہاں کے توجہ کا مرکز ہمارے پہاڑوں کے معدنیات پر ہیں۔ اسے بہانے حالات ایک مرتبہ پھر ہمارے حق میں دیکھائی نہیں دے رہے۔ ایک مرتبہ پھر دنیا کے بڑے قوتوں کیلئے میدان جنگ پشتون افغان وطن کو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب روس اور سویت یونین کے کولیپس کرنے کا وقت تھا تو امریکہ کی طرف سے ڈالر کاٹنوں میں آتے تھے، جس سے اس وقت کے آرمی جرنیلوں نے فیکٹریاں بنائی۔ آج بھی جنرل ضیاء الحق کے بیٹوں و دیگر کے کارخانے چل رہے ہیں۔ یہاں افغان مہاجرین کے نام پر دنیا جہاں سے پیسے لئے گئے۔ کرنل امام خود اقرار کر چکے ہیں کہ ہم نے 93 ہزار مجاہدین کو تربیت دی اور جنرل مشرف نے کہا کہ یہ جنگجو ہمارے اثاثے ہیں۔ آج جب مقصد نہیں رہا تو چالیس، پچاس سال سے یہاں مقیم افغانوں کو بہت بے دری سے نکالا جا رہا ہے جو پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔