وحید الرحمن خان سے صرف ایک ملاقات ہے۔ ذہین آنکھیں رکھنے والا نوجوان۔ بڑے اطمینان سے، نیلے رنگ کی ایک کتاب میرے ہاتھ میں تھما دی۔ اندازہ نہیں تھا کہ ناول لکھتے ہیں یا افسانہ نگار ہیں یا شاعری فرماتے ہیں۔ حسب عادت کتاب، کو اپنی اسٹڈی میں رکھ کر بھول گیا۔
ایک دو دن پہلے نظر پڑی تو ٹائٹل پر ’’خامہ خرابیاں‘‘ درج تھا اور نیچے برادرم وحید کی ایک شوخ سی تصویر تھی۔ معلوم پڑا کہ وہ تو مزاح نگار ہیں بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ بلا کا مزاح لکھتے ہیں۔ آج کے حددرجہ پرآشوب اور مصنوعی دور میں، طنز ومزاح کی جانب رجوع کرنا، ہر خاص وعام کا کام نہیں۔ کتاب پڑھنی شروع کی تو ایک جہان حیرت وا ہو گیا۔ زبان پر مکمل عبور ہونے کے ساتھ ساتھ حددرجہ شائستہ تحریر سامنے آئی۔
ادنیٰ پن کا سایہ تک اس خوبصورت کتاب پر نہیں پڑنے دیا گیا۔ یقین فرمایئے اس کتاب کے مضامین پڑھنے کے بعد طبیعت شگفتہ سی ہو گئی۔ زوال تو خیر پورے معاشرے کو جکڑ چکا ہے۔ بالکل اسی طرح ادب بھی کافی حد تک مشکلات کا شکار ہے۔ ہزاروں شاعر، موجود ہیں۔ مگر اچھا شعر سنے ہوئے عرصہ گزر جاتا ہے۔ چند پرانے صاحبان ہیں، جو عرصہ دراز پہلے لکھی ہوئی نظموں اور غزلوں کی داد سمیٹ رہے ہیں۔ چلئے یہ بھی غنیمت ہے۔ مگر مزاح نگاری کا ادب تو بہت زیادہ سمٹ چکا ہے۔ اس فکری قحط میں برادرم وحید ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے۔
اب ذرا کتاب کے بارے میں عرض کرتا چلوں۔ چند اقتباسات پیش کر دوں۔
درپیش لفظ: یہ مضامین بنیادی طور پر ’’تبصرۂ کتب‘‘ کی ذیل میں آتے ہیں لیکن ان میں مصنّفین کتب کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ یوں اس تصنیف میں بہت سی دیگر خامہ خرابیوں کے علاوہ خاکہ مستی بھی پیدا ہو گئی ہے۔ ان تحریروں میں کہیں کہیں تنقید کے سنجیدہ نمونے بھی آ گئے ہیں جنھیں اگر سنجیدگی سے نہ پڑھا جائے تو پرلطف نتائج حاصل ہوتے ہیں۔
لیلیٰ کی سہیلی:صوفیہ بیدار کے متعلق لکھتے ہیں: رنگریز صوفیہ بیدار کا اولین افسانوی مجموعہ ہے اور اس میں انھوں نے لیلیٰ کا افسانہ سنایا ہے۔ میں نے یہ افسانہ بہت دلچسپی سے سنا ہے اور میں یہ کہہ سکتا ہوں:
سنتا ہوں بڑے شوق سے ’’افسانۂ لیلیٰ‘‘
کچھ اصل ہے، کچھ خواب ہے، کچھ طرز ادا ہے
صوفیہ بیدار نے بہت شوق سے لیلیٰ کی محبت کا افسانہ پیش کیا ہے، ہمیں لیلیٰ کے احساسات سے آشنا کیا ہے اور لیلیٰ کے جذبات کو زبان دی ہے۔ وہ ہمیں بتاتی ہیں کہ ہجر میں لیلیٰ پر کیا صدمے گزرے ہیں اور وصل میں کیسے کیسے اندیشے ستاتے ہیں۔ صوفیہ نے کان لگا کر لیلیٰ کے دل کی دھڑکنوں کو سنا ہے اور اس صدائے دل کو ہمیں بھی سنایا ہے۔
شہر سے بڑا آدمی: اسلم انصاری تخلیق کے سفر میں قید مقام سے گزر گئے تھے۔ انھوں نے فارسی میں سخن وری کی اور فرنگ کی زبان میں بھی۔ انھوں نے انگریزی زبان میں بھی ایک شعری مجموعہ تخلیق کیا اور یوں اپنا ایک ذہنی وتخلیقی رشتہ مغرب کی شعری وعلمی روایت سے قائم کیا۔
حال ہی میں ان کا فارسی دیوان ’’گلبانگ آرزو‘‘ نقش ہائے رنگ کے لیے ظاہر ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک وہند میں علامہ اقبال کے بعد اسلم انصاری فارسی شاعری کے سب سے اہم شاعر ہیں۔ ان کے فارسی کلام کی خوش بو شہر ملتان سے شیراز کے گلستان تک جا پہنچی ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ آدمی، شہر سے بڑا ہو جاتا ہے۔ اسلم انصاری صاحب بھی اپنے شہر سے بڑے ہو گئے تھے۔ یہ شہر طلسمات، ان کے شہر دل میں بستا تھا۔ اسی لیے تو انھوں نے کہا تھا:
وسعت عالم ایک طرف، ملتانِ معلی ایک طرف
سچ پوچھو تو ہم لوگوں کو شہر ہمارا کافی ہے
سرمایۂ افتخار: ساہیوال کی صرف گائے ہی نہیں، شاعر بھی مشہور ہیں۔ خدا نے دونوں کو مختلف کام سونپے ہیں۔ گائے دودھ دیتی ہے، شاعری نہیں کر سکتی جب کہ شاعر شعر کہتے ہیں لیکن دودھ دینے سے قاصر ہوتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ ساہیوال میں ہونے والی شاعری خالص دودھ کی طرح شیریں ہوتی ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ اس شہر کی شعری روایت کی تشکیل میں مجید امجد جیسے بلند پایہ نظم نگار شامل رہے ہیں۔ اب یہ روایت نوجوان شاعروں تک آ پہنچی ہے جن میں ایک نام افتخار شفیع کا بھی ہے۔ ایک ماہ قبل اس کی اولین شعری تصنیف نیلے چاند کی رات کے عنوان سے شائع ہوئی ہے اور ہمیں اس عنوان سے معلوم ہوا کہ چاند ’’نیلا پیلا‘‘ بھی ہوتا ہے۔
پست قامت شاعر: طارق ہاشمی سے دوستی کی ایک وجہ شاعری تھی۔ وہ شاعر تھا اور میں ایک صابر اور ہمدرد سامع، چنانچہ ان بے گناہ کانوں نے زبانِ شاعر سے بہت سا تازہ اور باسی کلام سماعت کیا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ وہ شنیدہ غزلیں اب کتاب کی شکل میں شائع ہو گئی ہیں۔ ’’دل دسواں سیارہ ہے‘‘ طارق ہاشمی کا نیا شعری مجموعہ ہے، جس میں میری کئی پسندیدہ غزلیں شامل ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے:
ہم نفس! قریۂ پرنور کے رہنے والے!
ایک مدھم سا دیا ہو، ترے کس کام کا ہوں
چھیڑ یار سے چلی جائے اسد: جمیل احمد عدیل نے کتاب کے آغاز میں ’’سرائے کالم گیر میں پہلا پڑاؤ‘‘ کے عنوان سے ایک دلچسپ دیباچہ بھی تحریر کیا ہے۔ دیباچہ میں انھوں نے پرلطف پیرائے میں اپنی کالم نویسی کے آغاز کا قصہ بھی بیان کیا ہے۔ یہ قصہ جمیل کی زبانی سنتے ہیں: ’’رفیق دیرینہ، عطر فتنہ اشفاق احمد ورک نے جب کالم نگاری کا ڈول ڈالا تو ہم نے اسے طعنہ دیا ’’بالآخر تم بھی گالم گلوچ پر اتر ہی آئے۔‘‘ اس کا بے ساختہ قہقہہ ہمارے نوکیلے فقرے کا تریاق ثابت ہوا۔ ایک روز کہنے لگا ’’تمہارے اندر اتنی وِٹ (Wit) ہے، کالم کیوں نہیں لکھتے؟‘‘ ہم سادہ خاطر کہ اس کے ’’کلمہ توصیفی‘‘ سے دھوکہ کھا گئے اور فوراً ہامی بھر لی۔‘‘
جوہر آباد کا جوہر قابل:
اس سے بڑھ کر اور کیا ہم پر ستم ہو گا منیر
مشورہ مانگا ہے اس نے فیصلہ کرنے کے بعد
صاحبو، یہ خوبصورت شعر منیر نیازی کا نہیں، بدر منیر کا ہے۔ یقینا آپ کو تجسس ہو گا کہ یہ کون ذاتِ شریف ہیں؟ تو ہم تعارف کرائے دیتے ہیں کہ بدرمنیر جوہر آباد کے جوہر قابل ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اب تک ’’شانِ کئی‘‘ سے محروم ہیں۔ بدر منیر تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔
مقامی کالج میں اردو کے استاد ہیں۔ شہر میں سیکڑوں شاگرد اپنے سینوں پر ان کا داغِ تلمذ نشانِ حیدر کی طرح سجائے پھرتے ہیں۔ کالج کے استاد کے لیے ایم اے کی حد تک تعلیم کافی ہوتی ہے لیکن بدر منیر نے علم کی طلب میں ایم فل کا ہفت خواں بھی طے کر ڈالا۔ اس اضافی تعلیم نے ان کا کچھ نہیں بگاڑا۔ بال تک بیکا نہیں ہوا۔ وہ نہ سر سے گنجے ہوئے اور نہ ان کی بینائی کمزور ہوئی۔ ورنہ عام طور پر ایم فل یا پی ایچ ڈی کی راہوں کے مسافر جوانی ہی میں بڈھے کھوسٹ ہو جاتے ہیں… نہ منہ میں دانت، نہ پیٹ میں آنت! لیکن بدر منیر کے ساتھ ایسا کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
شعیب احمد… ’’سوغات‘‘ بدست: شعیب احمد ایک ایسا ہی مترجم ہے جو تخلیقی تجربے کی لذت اور کرب سے آشنا ہے۔ وہ اردو کا ایک عمدہ شاعر ہے اور افسانہ نگار بھی، گویا… ایک کریلا، دوسرا نیم چڑھا! فارسی میں ایسے موقعوں پر کہا جاتا ہے: دو گونہ عذاب است جانِ مجنوں را! بہرحال نیم یا کریلے کا ذائقہ ہو یا مجنوں کی زندگی… سب میں تلخی ضرور پائی جاتی ہے لیکن شعیب احمد کا نباتات یا مجنوں کی ذات سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کی شخصیت میں تلخی یا ترشی کا شائبہ تک نہیں۔ وہ ایک شیریں اطوار شخص ہے اور کیوں نہ ہو کہ فارسی جیسی شیریں زبان کا استاد ہے۔
شاعری اور افسانہ نگاری کے علاوہ ’’استادی‘‘ نے بھی اس کی مترجمانہ صلاحیتوں کو خوب نکھارا ہے، اسی لیے تو ڈاکٹر معین نظامی نے لکھا ہے: ’’شعیب احمد میں وہ تمام ’’فنی خرابیاں‘‘ بہ یک وقت موجود ہیں جن کا کسی ایک شخص میں پایا جانا نادر الوقوع ہے۔ ان میں سے آدھی خصوصیات بھی اگر کسی میں ہوں تو وہ اچھا خاصا کامیاب ترجمہ نگار بن سکتا ہے۔‘‘ شعیب احمد اپنی ’’فنی خرابیوں‘‘ کے باعث سوغات کے نام سے تراجم کی ایک عمدہ کتاب تصنیف کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انھوں نے کی ایک ہے اور کیا ہے ہیں کہ
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔