تحریک تحفظ آئین پاکستان کا کراچی میں اہم اجلاس، دسمبر کے پہلے ہفتے میں تین روزہ عوامی رابطہ مہم کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
اجلاس سے خطاب میں رہنماؤں نے کہا سندھ کی عوام پیپلز پارٹی سے بیزار ہوچکی ہے پوری قوم کی عمران خان کی طرف دیکھ رہی ہے، ملک میں سیاسی استحکام نہ رہا تو حالات مزید خراب ہونگے، سندھ میں پیپلز پارٹی نے گزشتہ 17 برسوں میں کرپشن کا ایسا جال بچھایا کہ عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہوگئے ہیں، مگر اب اس نظام کے خاتمے کا وقت آچکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وائس چیئرمین سید زین شاہ کی صدارت میں کراچی میں اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، مجلس وحدت مسلمین کے مولانا صادق جعفری، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے منیر نائچ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سرباز عبدالرب، بشیر خان ترین، سمیت دیگر جماعتوں کے رہنماں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی و آئینی صورتحال پر تفصیلی غور و فکر کیا گیا اور اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں کموں شہید گھوٹکی سے کراچی تک تین روزہ عوامی رابطہ مہم کا آغاز کیا جائے گا، جس میں تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل جماعتوں کے مرکزی قائدین عوام سے براہ راست ملاقاتیں کریں گے۔ اجلاس میں 21 نومبر کو سندھ بھر میں یومِ سیاہ بھرپور طریقے سے منانے پر عوام کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جبکہ 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف ملک بھر میں وکلا کی جاری جدوجہد کو بھی سراہا گیا۔
وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان و سندھ یونائیٹڈ پارٹی سندھ کے صدر سید زین شاہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں کموں شہید سے کراچی تک تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے عوامی رابطہ مہم شروع کی جائے گی، عوامی رابطہ مہم میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر سمیت دیگر مرکزی قائدین شرکت کریں گے۔ تین روزہ مہم کموں شہید سے کراچی تک ریلی کی صورت میں نکالی جائے گی جو مختلف شہروں سے ہوتی ہوئے تیسرے روز کراچی پہنچے گی۔ انہوں نے کہا عوام موجودہ نظام سے بیزار ہوچکی ہے بے روزگاری، بدحالی، مہنگائی نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، 27 ویں آئینی ترمیم لاکر آئین و قانون کی بالادستی کو ختم کردیا گیا ہے۔ سید زین شاہ نے کہا سندھ میں پیپلز پارٹی عوامی ردعمل سے بچنے کے لئے بار بار دفعہ 144 نافذ کر کے سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم نے عدلیہ کی آزادی کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور عوامی جدوجہد سے ہی موجودہ چوری شدہ مینڈیٹ سے بننے والے نظام کو تبدیل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے محبوب قائد عمران خان کو ناحق قید کر کے عوام دشمن ترامیم لائی جا رہی ہیں، جنہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے جلسوں اور عوامی رابطہ مہم سے خوفزدہ ہو کر سندھ میں دفعہ 144 نافذ کی گئی، مگر عوام کو ان کے حق کے لئے نکلنے سے کوئی نہیں روک سکتا، دسمبر کے پہلے ہفتے میں کموں شہید سے کراچی تک ہونے والی تین روزہ عوامی رابطہ مہم میں مختلف شہروں میں بڑے اجتماعات منعقد کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا سندھ کی عوام پیپلز پارٹی سے بیزار ہوچکی ہے پوری قوم کی عمران خان کی طرف دیکھ رہی ہے، ملک میں سیاسی استحکام نہ رہا تو حالات مزید خراب ہونگے، سندھ میں پیپلز پارٹی نے گزشتہ 17 برسوں میں کرپشن کا ایسا جال بچھایا کہ عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہوگئے ہیں، مگر اب اس نظام کے خاتمے کا وقت آچکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تحریک تحفظ آئین پاکستان دسمبر کے پہلے ہفتے میں عوامی رابطہ مہم پیپلز پارٹی سے کراچی تک کموں شہید انہوں نے تین روزہ کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔