تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کی جائے، پروفیسر ممتاز کھڑو
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپور خاص (نمائندہ جسارت) ڈائریکٹر پرائمری اسکولز ایجوکیشن میرپورخاص ڈویژن پروفیسر ممتاز علی کھڑو نے کہا ہے کہ اسکولوں میں منشیات اور نشہ آور اشیا کی روک تھام کے لیے ہم سب کومل کر کام کرنا ہوگا تاکہ بچے اپنا روشن مستقبل بنا سکیں۔یہ بات انہوں نے اپنے دفتر میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے خاتمے اور نشہ آور اشیا کی روک تھام کے متعلق منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے مزید کہا کہ منشیات ایک ایسی لعنت ہے جو ہمارے نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہے جس کے خاتمے کے لیے ممکنہ اقدامات کرنے ہوں گے۔اس ضمن میں ضلع، تحصیل اور اسکول سطح پر مانیٹرنگ کمیٹیاں تشکیل دی جا رہی ہیں تاکہ تعلیمی اداروں سے منشیات جیسی لعنت کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہوسکے۔قبل ازیں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پرائمری نبی بخش گرگیز، ڈپٹی ڈائریکٹر کوالٹی انشورنس میڈم ارم ناز، ڈاڑھوں مل ، ہیڈ مسٹریس مس فاخرہ علی ، آفس سپرنٹنڈنٹ ریحان عادل، ہیڈ ماسٹر ساجد راؤ اور دیگر نے اسکولوں میں منشیات اور نشہ آور اشیا کی روک تھام کے لیے اپنی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔پروگرام میں ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر انور حسین خاصخیلی، محکمہ صحت کے ڈاکٹر منیر احمد، تعلقہ ایجوکیشن آفیسرز اور ڈویژن بھر کے تعلیمی افسران نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی روک تھام میں منشیات
پڑھیں:
سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم منظور
کراچی: سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026 کے تحت صوبائی حکومت نے امتحانی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ سندھ کابینہ نے “سندھ بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اصلاحاتی پیکیج 2026” کی منظوری دے دی، جس کے بعد صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں جدید ڈیجیٹل امتحانی نظام مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد امتحانات میں شفافیت بڑھانا، نتائج کی تیاری کو تیز اور درست بنانا اور طلبہ کو جدید سہولیات فراہم کرنا ہے۔
امتحانی نظام میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟
اصلاحاتی پیکیج کے تحت سندھ کے ساتوں تعلیمی بورڈز میں ایگزامینیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (EMIS) نافذ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ امتحانات میں او ایم آر (OMR) سسٹم، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام سے نتائج کی تیاری کے دوران انسانی غلطیوں میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ مارکنگ اور رزلٹ کا عمل پہلے سے زیادہ شفاف اور تیز ہوگا۔
ڈیجیٹل اسناد بھی جاری کی جائیں گی
سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026 کے تحت طلبہ کو مستقبل میں کیو آر کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل اسناد جاری کی جائیں گی۔ ان اسناد کی آن لائن تصدیق بھی ممکن ہوگی، جس سے جعلی سرٹیفکیٹس کی روک تھام اور تصدیقی عمل مزید آسان بنایا جا سکے گا۔
24 ماہ میں اصلاحات مکمل کرنے کا ہدف
سندھ کابینہ نے ان اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے 24 ماہ پر مشتمل منصوبے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈپارٹمنٹ کو ضروری قانون سازی کی تجاویز جلد تیار کر کے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ نئے نظام کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
بورڈ چیئرمینز کی تقرری سے متعلق بھی اہم فیصلہ
کابینہ نے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز کی تقرری کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 55 سال سے بڑھا کر 63 سال کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے، تاکہ زیادہ تجربہ رکھنے والے افراد کو قیادت کا موقع مل سکے۔
اس کے علاوہ میٹرک بورڈ کراچی اور انٹرمیڈیٹ بورڈ حیدرآباد کے چیئرمینز کی خالی آسامیوں کو دوبارہ مشتہر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم پہلے سے درخواست جمع کرانے والے امیدواروں کی درخواستیں برقرار رہیں گی اور انہیں دوبارہ درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔