تعلیمی اداروں سمیت سرکاری ونجی تمام خستہ حال گاڑیاں ضبط کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: پنجاب حکومت نے سرکاری او رنجی تعلیمی اداروں کی خستہ حال اور زائد دھواں چھوڑنے والی ناقص گاڑیاں ضبط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پنجاب حکومت نے اسکولز، کالجز، سرکاری اور پرائیوٹ سیکٹر اور اسپتالوں کی ناقص بسیں ضبط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میذیا ذرائع کےمطابق دھوں پھیلانے والی بھاری گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، ان کی وکس (VICS) سرٹیفیکیشن فوری طور پر لازمی قرار دے دی گئی ہے، طلبا و اسٹاف کو لانے لے جانے والی خستہ حال گاڑیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا حکم دے دیا گیا ہے۔
ڈی جی ماحولیات پنجاب عمران حامد شیخ نے کہا ہےکہ حد سے زائد دھواں خارج کرنے والی گاڑیاں ضبط ہوں گی، سرکاری و نجی اداروں کو آخری وارننگ دے رہے ہیں، بڑی گاڑیاں اور بسیں معیار پر پوری نہ اتریں تو قانونی کارروائی کریں گے۔
حامد شیخ نے کہا کہ ماحول دشمن گاڑیوں کا داخلہ بند کرکے انسداد اسموگ مہم کے ضمن میں سخت ترین اقدامات ہوں گے، محکموں کو ہدایت دے دی ہے کہ تمام ہیوی ٹرانسپورٹ کی ہنگامی انسپیکشن اور مرمت فوری مکمل کریں، غیر معیاری گاڑی پکڑی گئی تو اب صرف جرمانہ نہیں، گاڑی بھی قبضے میں لی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔