گاڑیوں کے پارٹس کی درآمدات میں 123 فیصد کا بڑا اضافہ، مقامی مارکیٹ پر شدید دباؤ
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ملک میں آٹو پارٹس اور گاڑیوں کی درآمدات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس نے ایک جانب مقامی آٹو انڈسٹری میں نئی سرگرمی کو جنم دیا ہے، تو دوسری طرف پیداواری اداروں کے لیے تشویش بھی بڑھا دی ہے۔
صارفین کی دلچسپی نئی درآمدی گاڑیوں، استعمال شدہ کاروں اور مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کے باعث مارکیٹ نہایت متحرک لیکن غیر متوازن ہو چکی ہے۔ اس بدلتے ہوئے رجحان نے ملکی آٹو سیکٹر کے مستقبل کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کار ساز کمپنیوں کی جانب سے درآمد کی جانے والی اسمبلی کٹس (SKD/CKD) میں پچھلے سال کے مقابلے میں 123 فیصد کا حیران کن اضافہ ریکارڈ ہوا ہے اور صرف 4 ماہ کے دوران ان درآمدات کی مالیت بڑھ کر 62 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، جو ملکی گاڑیوں کی پیداوار میں تیزی اور طلب کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقامی کمپنیاں اپنی پروڈکشن لائنز تیزی سے بڑھا رہی ہیں، مگر وہ درآمدی پارٹس پر بھی حد سے زیادہ انحصار کرتی جا رہی ہیں۔
صورتحال کا ایک اور رخ استعمال شدہ اور مکمل تیار شدہ گاڑیوں (CBU) کی درآمدات ہیں، جن میں بھی قابلِ ذکر اضافہ سامنے آیا ہے۔ 4 ماہ میں ایسی گاڑیوں کی درآمدات 31 فیصد بڑھ کر 11 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ برس اسی مدت میں صرف 8 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھیں۔
اس اضافے نے مارکیٹ میں مقابلے کو مزید سخت کر دیا ہے اور متعدد خریدار نسبتاً سستی اور بہتر فیچرز والی درآمدی گاڑیوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (PAAPAM) نے اس صورتحال کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
رواں برس پاکستان آٹو پارٹس شو کے دوران ایسوسی ایشن نے ایک بڑی میڈیا مہم شروع کی، جس میں خبردار کیا گیا کہ اگر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات اسی طرح جاری رہیں تو آٹو انڈسٹری میں 5 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری، 1 ہزار 200 سے زیادہ فیکٹریاں اور تقریباً 25 لاکھ ملازمتیں براہِ راست خطرے میں پڑ جائیں گی۔
ایسوسی ایشن کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد درحقیقت ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں غیرقانونی ذرائع سے بھیجنے والی رقوم، ہنڈی اور حوالہ جیسے معاملات بڑھ رہے ہیں، جو ریاستی آمدنی کو کمزور کرتے ہیں۔
اس صورت حال میں مقامی کار ساز کمپنیوں نے بھی اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کا مارکیٹ شیئر گزشتہ چند برسوں میں تیزی سے بڑھا ہے اور اب یہ 25 سے 30 فیصد کے درمیان پہنچ چکا ہے جب کہ کچھ عرصہ قبل یہ حصہ 10 فیصد سے بھی کم تھا۔
کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف مقامی پیداوار کے لیے خطرہ ہے بلکہ مستقبل میں نئی سرمایہ کاری کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جس سے آٹو سیکٹر کی ترقی کا پورا ڈھانچہ کمزور پڑ سکتا ہے۔
آٹو انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے درآمدی پالیسیوں اور مقامی صنعت کے تحفظ کے درمیان مناسب توازن پیدا نہ کیا تو آنے والے برسوں میں مقامی آٹو سیکٹر کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بڑھتی ہوئی درآمدات جہاں ایک طرف صارفین کو نئے آپشنز فراہم کرتی ہیں، مگر دوسری جانب یہ ملکی صنعت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو رہی ہیں۔ آٹو سیکٹر کی کارکردگی ملکی معیشت کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے پالیسی سازوں کو اس مسئلے کا حل جلد تلاش کرنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: استعمال شدہ کی درآمدات گاڑیوں کی آٹو سیکٹر کے لیے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔