سکھر بیراج کے جاری کام میں مالی کرپشن کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت ) سکھر بیراج کی بحالی کے جاری کام میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔پاکستان ورکرز فیڈریشن سندھ کے جنرل سیکرٹری خادم حسین کھوسو نے اپنے جاری کردہ بیان میں انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکھر بیراج پر جاری کام میں چینی کمپنی کے افسران بے قابو ہوچکے ہیں۔اْن کے مطابق HR ڈپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے مبینہ رشوت کے عوض غیر مقامی افراد کو بھرتی کیا جا رہا ہے، جبکہ یہ کہہ کر جواز پیش کیا جاتا ہے کہ وہ سابق صوبائی وزیر جام خان شورو کے لوگ ہیں۔خادم حسین کھوسو نے بتایا کہ چین کی کمپنی اور ورلڈ بینک کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق 80 فیصد مقامی افراد کی بھرتی لازمی ہے، مگر اس معاہدے پر عمل کرنے کے بجائے کمپنی کے افسران غیر مقامی افراد کو بھرتی کرکے مقامی لوگوں کے حقوق پر ڈاکا ڈال رہے ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ 26 نومبر 2025ء کو سکھر بیراج کے مقام پر بھرپور احتجاجی دھرنا دیا جائے گا، اور اگر غیر مقامی لوگوں کی بھرتی کا سلسلہ نہ روکا گیا تو 8 دسمبر کو بڑا احتجاج کیا جائے گا، جو انصاف ملنے تک جاری رہے گا۔خادم حسین کھوسو نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں شکایت پروجیکٹ ڈائریکٹر پریم داس کو بھی کی گئی ہے، مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر وہ خاموش ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سکھر بیراج پر کام کرنے والے کئی ٹھیکیدار سیاسی بااثر افراد کے لوگ ہیں، اسی لیے ناقص اور غیر معیاری کام کے باوجود انہیں کوئی نہیں روکتا۔انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری، وزیراعلیٰ سندھ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں، غیر مقامی افراد کی بھرتیوں کو فوری طور پر منسوخ کروائیں، اور مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مقامی افراد سکھر بیراج
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔