ملکی استحکام کیلیے مزید ترامیم کرنا پڑیں تو بھی کرینگے ‘ طلال چودھری
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251117-08-31
فیصل آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ آئینی ترامیم پارلیمنٹ کا اختیار اور حق ہے۔ 27ویں ترمیم سے عدلیہ کے نظام میں بہتری آئے گی۔26ویں اور 27ویں ترامیم نے ملک کو ’استحکام‘ فراہم کیا، ملکی استحکام کے لیے مزیدترامیم کرناپڑیں تو بھی کریں گے۔ فیصل آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے طلال چودھری نے کہا کہ ججز آئین کا حلف اٹھاتے ہیں اور اس کے تحت وہ ڈیوٹی سر انجام دینے کے پابند ہیں،مستعفی ہونے والے سینئر جج جانبدار تھے اور سیاسی فیصلے دے رہے تھے، آئین ججوں کی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ پارلیمنٹ اور عوام کی خواہش کے مطابق چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ تاحیات استثنا میں ایسی کوئی بات نہیں، صدر کو 62,63کے تحت پرکھ کر ہی لایا جاتا ہے۔ سیاسی انتقام کو روکنے کے لیے استثنا ایک علامتی چیز ہے۔ صدر ایک صدارت کے بعد پبلک آفس ہولڈ کرتے ہیں تو استثنا ختم ہو جائے گا۔ وزیرمملکت نے کہا کہ جڑانوالہ میں ہونے والے الیکشن میں 10 سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں، کوئی کاغذات نامکمل جمع کروائے تو الیکشن کمیشن کیا کرے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے دورحکومت میں ہی ترقی ہوئی ہے۔ مسلم لیگ ن اپنی کارکردگی کی بنیادپر انتخاب جیتے گی۔فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کی جیت کوئی نئی بات نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کے حوالے سے تمام انتظامات مکمل ہیں، امید ہے الیکشن پرامن ہوگا۔اہلسنت، اہلحدیث اور دیوبند نے الیکشن میں ہماری حمایت کا اعلان کیا ہے۔ موجودہ صورت حال میں ن لیگ کے امیدوار کی پوزیشن بہتر ہے، دوسری جماعت نے بائیکاٹ کا اعلان کررکھا ہے۔کے پی کے میں وہ جماعت الیکشن لڑ رہی ہے لیکن فیصل آباد سے وہ الیکشن سے بھاگ گئے۔ طلال چودھری نے کہا کہ گرین بسیں ہوں یا شہر کے لیے سیوریج کا منصوبہ، کارپٹ روڈ، ادویات کی فراہمی اور سی سی ڈی، یہ سب پنجاب کے عوام کے لیے منصوبے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: طلال چودھری فیصل ا باد نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔