نجی زندگی کی وجہ سے مسلسل نشانہ بنایا گیا:فیروز خان کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
پاکستان کے معروف اداکار فیروز خان نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے میری ذاتی زندگی کی وجہ سے بہت شدت سے نشانہ بنایا گیا۔ڈرامہ خانی کے ذریعے مقبولیت پانے والے فیروز خان نے کہا کہ ان کی پہلی شادی علیزہ شاہ سے ہوئی تھی جو اختلافات کے باعث طلاق پر ختم ہوگئی، اس دوران علیزہ کی جانب سے تشدد کے الزامات اور سوشل میڈیا پر ہونے والی شدید تنقید نے اداکار کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔انہوں نے بتایا کہ وہ اب ڈاکٹر زینب کے ساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں لیکن پرانی زندگی سے جڑے تنازعات آج بھی ان کے ساتھ جڑے نظر آتے ہیں، سوشل میڈیا کی مخالفت، عدالتوں کے چکر اور بچوں سے دوری نے انہیں شدید ذہنی تناؤ میں مبتلا کر دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ مجھے میری نجی زندگی کی وجہ سے مسلسل نشانہ بنایا گیا، ایک روز میں اچانک گر پڑا اور بے ہوش ہوگیا، حد یہ کہ زندگی اور موت کے بیچ میں تھا، ایک وقت ایسا بھی آیا جب میں نے خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ اداکار کا کہنا تھا کہ بچوں سے دوری ان کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی، مجھے اپنے بچوں کی شدید یاد آتی تھی مگر ملنے کی اجازت نہیں تھی، عدالتوں میں جاری مقدمات اور ذہنی دباؤ نے انہیں زندگی سے بددل کر دیا تھا لیکن ان کی والدہ نے امید نہیں چھوڑی۔انہوں نے بتایا کہ جب میں بے ہوش تھا تو امی نے آیت الکرسی پڑھی انہی کی دعا سے میں دوبارہ ہوش میں آیا اور زندگی کی طرف واپس لوٹا، اس مشکل دور نے انہیں اندر سے بدل کر رکھ دیا، مگر اب وہ زندگی کو نئے زاویے سے دیکھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: زندگی کی
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔