رپورٹ: احسن کامرے

اقوام متحدہ کی جانب سے 1954ء میں پہلی مرتبہ بچوں کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا گیا جس کے بعد سے ہر سال 20نومبر کو دنیا بھر میں ’’بچوں کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے جس کا مقصد ان کی تعلیم، صحت، ذہنی تربیت، تحفظ سمیت دیگر بنیادی انسانی حقوق یقینی بنانے کیلئے شعور اجاگر کرنا، کارکردگی کا جائزہ لینا ہے اور اس کی روشنی میں آئندہ کیلئے مزید اقدامات کرنا ہے تاکہ دنیا کا بہتر مستقبل یقینی بنایا جاسکے۔رواں سال بچوں کے عالمی دن کے موقع پر’’ایکسپریس فورم‘‘میں ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حکومت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا۔ ان سے ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

محمد حبیب

(سوشل کونسلنگ آفیسر واسسٹنٹ ڈائریکٹر

محکمہ انسانی حقوق و اقلیتی امور پنجاب)

اقوام متحدہ کا چارٹر برائے حقوق اطفال بچوں کے تمام حقوق جن میں سماجی، معاشی، سیاسی و دیگر شامل ہیں، کا احاطہ کرتا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک سمیت پاکستان نے بھی اس کی توثیق کر رکھی ہے اور اس حوالے سے کام کرنے کا پابند ہے۔ بچوں کی تعلیم اور صحت سمیت تمام انسانی حقوق کا تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس حوالے سے نہ صرف قانون سازی ہوئی ہے بلکہ خصوصی ادارے بھی قائم کیے گئے ہیں جو دن رات کام کر رہے ہیں۔ بچوں کی بہتری کیلئے ’’پنجاب چائلڈ رائٹس پالیسی‘‘ بن چکی ہے، ایک ماہ کے اندر اندر اسے نافذ کر دیا جائے گا۔ پنجاب میں محروم اور بے سہارا بچوں کا قانون موجود ہے ،اسی طرح چائلڈ لیبر، بچوں پر تشدد و دیگر حوالے سے بھی قوانین موجود ہیں۔ پنجاب میں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو بچوں کو نہ صرف تحفظ فراہم کر رہا ہے بلکہ وہاں ان کی مکمل دیکھ بھال بھی کی جارہی ہے۔بیورو کی باقائدہ ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے جس پر کسی بھی جگہ بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی رپورٹ کی جا سکتی ہے، اس کے بعد محکمہ فوری طور پر حرکت میں آتا ہے اور متاثرہ بچے کو ریسکیو کیا جاتا ہے۔ بچے کو رہائش دینے کے ساتھ ساتھ اس کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے، جس میں اس کی تعلیم، خوراک، ذہنی و جسمانی صحت و دیگر شامل ہیں۔ اسی طرح محکمہ سوشل ویلفیئر اور بیت المال کے ماڈل چلڈرن ہومز موجود ہیں جہاں محروم اور بے سہارا بچوں کی بحالی کا کام جا ری ہے۔ حکومت ان کی مکمل دیکھ بھال کر رہی ہے۔ ان دونوں اداروں میں بچوں کی رسمی و غیر رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کا بھی خصوصی خیال رکھا جاتا ہے۔ بچوں کی تعلیم اور انرولمنٹ میں اضافے کیلئے حکومت پنجاب نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت سکولوں کا نظام بہتر کرنے کا آغاز کیا ہے ، نجی شعبے کو سکول دینے سے بچوں کی انرولمنٹ اور نظام تدریس میں بہتری آرہی ہے۔ حکومت ان سکولوں کی مکمل مانیٹرنگ کر رہی ہے۔ پنجاب میں چائلڈ لیبر اور ڈومیسٹک ورکرز کے حوالے سے قوانین موجود ہیں، یہ دونوں ہی چائلڈ لیبر کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور خلاف ورزی کرنے والے کو سزابھی ملتی ہے۔ انسانی حقوق پالیسی 2018ء میں ایک خصوصی ایکشن پلان اور ٹاسک فورس تشکیل دی گئی جو تمام پسے ہوئے اور نظر انداز طبقات جن میں بچے، بوڑھے، خواجہ سرا و دیگر شامل ہیں، کے حقوق کا خیال رکھتی ہے۔

عامر جعفری

(نمائندہ سول سوسائٹی)

دنیا بھر میں بچوں کا عالمی دن خصوصی اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ بچوں کے حقوق ریاست اور سماج دونوں کی ذمہ داری ہے، اسی لیے اس پر زیادہ بات بھی ہوتی ہے اور اقدامات اٹھانے پر زور بھی دیا جاتا ہے۔ پہلے میلینیم ڈویلپمنٹ گولز تھے جن میں بچوں کے حوالے سے بھی خصوصی معاملات شامل تھے مگر افسوس ہے کہ یہ اہداف حاصل کرنے میں دنیا اور ہم کچھ ناکام رہے۔ آج اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کا دور ہے لیکن دنیا میں سب سے زیادہ نازک صورتحال بچوں کی ہے۔فسلطین اور غزہ میں ہزاروں بچے جس ظلم و بربریت اور بدترین سلوک کا شکار ہیں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اسی طرح یوکرین ، سوڈان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں موجودمسائل سے بچے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کے ذہنی و جسمانی مسائل اور انسانی حقوق کا ذمہ دار کون؟ 21 ویں صدی میں یہ بدترین استحصال دنیا کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔ اس طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔ ان بچوں کی تعلیم، صحت سمیت تمام بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ سب کی ذمہ داری ہے، دنیا کو اس پر کام کرنا ہوگا۔ ایسا لگتا ہے کہ دنیا بے حس ہوچکی ہے، کسی کو فرق نہیں پڑتا کہ کیا ہو رہا ہے۔ ملک کی بات کریں تو یہاں بہت قانون سازی ہوئی اور بعض اچھے قوانین بھی موجود ہیں مگر ان کے ہوتے ہوئے بھی بچوں کا استحصال ہو رہا ہے، ان کی زندگی نہیں بدل رہی۔ ایسا لگتا ہے کہ بچے ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ بچوں کی تعلیم کیلئے کتنا بجٹ رکھا گیا؟ دنیا میں 272 ملین بچے سکول نہیں جاتے، ان میں سے 25 ملین بچے پاکستان میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ ڈھائی کروڑ بچے آگے چل کر کیا کریں گے؟ ملک میں ایجوکیشن ایمرجنسی نافذ کی گئی لیکن اہم یہ ہے کہ اقدامات کیا ہوئے؟ہمارے بچوں کی تعلیم کیلئے نہ تو بجٹ میں اضافہ ہوا اور نہ ہی نظام تعلیم بدلا۔ تعلیمی نظام میں جدت نہیں لائی گئی، بچوں کو جدید سکلز اور ہنر کی تعلیم نہیں دی جارہی۔ آج بھی 70 فیصد بچے میٹرک سے آگے تعلیم جاری نہیں رکھتے،یہ بچے تو اپنی عملی زندگی میں بے روزگار رہیں گے، ان میں محرومیوں کی وجہ سے تعصب پیدا ہوگا، یہ جرائم کی طرف راغب ہوں گے، اس کا ذمہ دار کون؟کیا ایسے حالات میں ایک بہتر مستقبل کا خواب پورا ہوسکتا ہے؟ جی ڈی پی کا صرف 2 فیصد تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے۔ سرکاری سکولوں کی بات کریں تو گزشتہ 25 برسوں میں سوائے دانش سکول کے، کوئی نئے سرکاری سکول نہیں بنائے گے، اب پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت سکول نجی شعبے کو دیے جارہے ہیں، میرے نزدیک اس سے نظام تعلیم کو مزید نقصان ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کی بات کریں تو گزشتہ 50 برسوں سے ایک ہی منشور کو ردو بدل کے ساتھ پیش کر دیا جاتا ہے، اس میں نیا کیا ہے؟ ہر جماعت کا منشور کم و بیش ایک ہی ہے اور سب اقتدار میں آنے کے بعد ایک جیسا کام ہی کرتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، غربت، تعلیم، صحت، صاف پانی سمیت دیگر مسائل پر خاطر خواہ کام نہیں ہوا۔ ہمارے ہاں چائلڈ لبیر پر کافی بات ہوتی ہے۔ ہمیں چائلڈ ورک اور چائلڈ لیبر میں فرق کرنا ہے۔ یہ جدید دور ہے جس میں کم عمر بچے بھی سکلز سیکھ کر کام کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو کام کی عادت ڈالنی ہے، انہیں جدید سکلز سکھانی ہیں تاکہ وہ بڑے ہوکر کچھ بہتر زندگی گزار سکیں۔ ہمارے مسائل زیادہ ہیں لیکن ان کا حل ممکن ہے، اس کے لیے وسائل اور سیاسی ول چاہیے، اگر یہ ہوگیا تو پاکستان بچوں کیلئے جنت بن جائے گا۔

آمنہ افضل

(نمائندہ سول سوسائٹی)

20 نومبر کو دنیا بھر میں بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد سابقہ اہداف اور ان پر ہونے والے کام کا جائزہ لینا اور مستقبل کے حوالے سے اہداف طے کرنا ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر برائے حقوق اطفال ایک بہترین دستاویز ہے جس میں بچوں کی تعلیم، صحت سمیت تمام بنیادی حقوق کے تحفظ اور اس حوالے سے کام کی بات کی گئی ہے۔ پاکستان میں بچوں کی صورتحال کا جائزہ لیں تو پنجاب چائلڈ لیبر سروے 2019-20ء کے مطابق چائلڈ لیبر کی تعداد 60 لاکھ ہے جن میں سے 33 لاکھ بچے شعبہ زراعت جبکہ 8 لاکھ بچے فیکٹریوں میں کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح ادارہ شماریات پنجاب کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبے میں 9 لاکھ 12 ہزار گھریلو ملازمین ہیں جن میں بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ اس کے علاوہ ڈھائی لاکھ بچے اینٹوں کے بھٹوں پر کام کر رہے ہیں جن کا بدترین استحصال ہو رہا ہے۔ ہمارا ادارہ میڈیا مانیٹرنگ بھی کرتا ہے۔ مانیٹرنگ میں یہ سامنے آیا ہے کہ 2019-25ء تک گھریلو ملازمین پر تشدد، ظلم، زیادتی اور قتل کے 196 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں سے 46 کیسز 18 سال سے کم عمر بچیوں کی ہلاکت کے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ عام ہے کہ بہت کم کیسز رپورٹ ہوتے ہیں یا میڈیا میں آتے ہیں لہٰذا حقیقت میں یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ 2019ء کے تحت ملازمت کی کم از کم عمر 15 برس ہے جبکہ 16 سے 18 برس تک ہلکا پھلکا کام ہے جس سے ان کی صحت متاثر نہ ہو۔ بچوں کی تعلیم کے حوالے سے جائزہ لیں تو یونیسیف کے 2024ء کے سروے کے مطابق دو کروڑ تیس لاکھ بچے سکول نہیں جاتے، یہ بہت بڑی تعداد ہے جو لیبر، بھیک اور جرائم کے راستے پر نظر آتی ہے۔ یہ نہ صرف باعث افسوس ہے بلکہ لمحہ فکریہ بھی ہے ۔ اگر ان کیلئے اقدامات نہ کیے گئے تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ جو بچے سکول جاتے ہیں ان میں سے 70 فیصد بچے میٹرک تک نہیں پہنچ پاتے جس کی مختلف وجوہات ہیں۔ ہمارا نظام تعلیم پرانا ہے، اس میں جدت لانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں آج بھی رٹہ سسٹم رائج ہے، بچوں کو ہنر کی تعلیم نہیں دی جاتی، تعلیم میں پریکٹیکل شامل نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ان کیلئے کام کے مواقع کم ہیں اور ملک میں ڈگری ہولڈرز بھی بے روزگار ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 25 (اے) کے تحت پانچ سے 16 برس کی عمر تک کے بچوں کی مفت اور معیاری تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے، اس حوالے سے بڑے پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت تو صورتحال یہ ہے کہ ہمارے سالانہ جی ڈی پی کا صرف 2 فیصد تعلیم پر خرچ ہوتا ہے جو ناکافی ہے، اسے کم از کم 5 فیصد ہونا چاہیے۔ ہمارا ایک بڑا مسئلہ بچوں کی تربیت کا ہے۔ اس کیلئے پازیٹیو پیرنٹنگ پر کام کرنے کی ضرورت ہے، اس طرح بچوں کی تربیت بہتر ہوگی اور معاشرے کو بھی فائدہ ہوگا۔ حکومت کو اس طرح کے منصوبوں پر کام کرنا چاہیے جو ملک کا مستقبل سنوار سکیں۔ بچوں کی صحت کے حوالے سے معاملات کا جائزہ لیں تو یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق 2.

14 ملین بچے شدید غذائی کمی کا شکار ہیں۔یہ بہت بڑی تعداد ہے لہٰذا حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر بچوں کی غذائیت کی کمی پورا کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے چاہیے،ا س ضمن میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کیلئے فی الفور پروگرام کا آغاز کرنا چاہیے۔ پاکستان میں کم عمری کی شادی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان دس ممالک میں ہوتا ہے جہاں کم عمری کی شادی کی شرح زیادہ ہے۔ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق یہ شرح 21 فیصد ہے، حکومت کو اس حوالے سے کام کرنا ہوگا۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف میں ہدف نمبر 8.7 غلامی کے خاتمے کی بات کرتا ہے۔ اس میں ہر سطح پر، ہر طرح کی غلامی شامل ہے۔ ڈومیسٹک ورکرز اور بھٹہ مزدور پیشگی قرض لے لیتے ہیں اور کام کرتے ہیں، یہ بھی غلامی کی جدید شکل ہے۔ ہمارے ہاں بچوں کی پیدائش کے اندراج کا مسئلہ بھی ہے، بے شمار بچے ایسے ہیں جن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے،ا س خلاء کو پر کرنا چاہیے۔ آن لائن ہراسمنٹ بھی بچوں کیلئے ایک بڑا مسئلہ ہے، ایف آئی اے میں بچوں کے خلاف ہراسمنٹ کے 1200 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ حکومت، سول سوسائٹی سمیت معاشرے کے مختلف طبقات بچوں کے حقوق و تحفظ کے حوالے سے کام کر رہے ہیں مگر ابھی بہت سارا کام باقی ہے۔ اس عالمی دن کے موقع پر ہر پہلو کا تفصیل سے جائزہ لینا ہے اور اگلے برس کیلئے نئے اہداف طے کرنے ہیں۔ ہمیں ہر سطح پر چائلڈ لیبر کا خاتمہ کرنا ہے، بچوں کی تعلیم، صحت اور تحفظ یقینی بنانا ہے، ان کی ذہنی اور جسمانی نشونما پر توجہ دینی ہے، انہیں جدید تعلیم سے آراستہ کرنا ہے، لائف سکلز سکھانی ہیں، ایکٹیویٹی بیسڈ لرننگ کی طرف جانا ہے اور ایک بہتر اور قابل انسان بنانا ہے۔ ہمیں والدین اور اساتذہ کی تربیت بھی کرنی ہے تاکہ وہ بچوں کو صحیح معنوں میں تیار کر سکیں۔ ٹیکنالوجی کی اس دنیا میں بچوں کو یہ بھی سکھانا ہے کہ وہ کس طرح ڈیجیٹل ورلڈ میں ایک محفوظ زندگی گزار سکتے ہیں۔ یہ اقدامات صرف باتوں سے نہیں ہوں گے بلکہ ان کیلئے بجٹ مختص کرکے نیت کے ساتھ کام بھی کرنا ہوگا۔ ہمیں تعلیم کے بجٹ میںبھی اضافہ کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ جہاں قانون سازی یا ترامیم کی ضرورت ہے وہ بھی لازمی کی جائیں۔  n

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بچوں کا عالمی دن کام کر رہے ہیں بچوں کی تعلیم حوالے سے کام اقوام متحدہ سول سوسائٹی اس حوالے سے کے حوالے سے میں بچوں کی حوالے سے کا کی ضرورت ہے چائلڈ لیبر کرنا چاہیے ہمارے ہاں موجود ہیں پر کام کر کے مطابق کا جائزہ لاکھ بچے ا ہے اور یہ ہے کہ بچوں کو میں ایک حقوق کا کے ساتھ کرنا ہے دنیا کے جاتا ہے بچوں کے کے حقوق یہ بھی رہی ہے کے تحت کی بات رہا ہے اور اس

پڑھیں:

نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 

گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے گلگت کا دورہ کیا اور اس دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مانسہر ہ سے گلگت تک موٹروے بننی چاہیے، دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیا جو مریم نواز نے کروایا اسے شاباش دیتاہوں، یہاں پر دل کے آپریشن بھی ہونے چاہئیں، یہاں حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے مہینے آوں گا اور اپنی نگرانی میں منصوبوں کی تکمیل کراوں گا، شہبازشریف سے گلگت اور سکردو میں الیکٹرک بسیں بھیجنے کا بھی کہوں گا، پورے ملک میں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سالوں بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے ، شائد آپ نے مجھے بھلا دیاہے، لیکن میں آپ کو یاد دلانے آیاہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی مرتبہ گلگت آیا اور سکردو بھی گیا ، میں ان شہروں میں وزیراعلیٰ بننے سے بھی پہلے آیا، یہ سارا علاقہ دیکھا تھا، مجھے پہاڑوں کا شوق ہے، مجھے سکردو اور گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے ، جب علاقے سے محبت ہے تو آپ سے کیوں نہیں ہو گی، آپ تو میرے دل میں بستے ہیں، جو میں نے ایئرپورٹ سے نکلنےکے بعد سڑکوں حلیہ دیکھا اس سے مجھے بہت تکلیف اور دکھ ہوا کیونکہ جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے، جس گلگت بلتستان کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا ، چاہتا تھا کہ یہاں ترقی ہو، یہاں کے لوگ روزگار پر فائز ہوں لیکن اس کی سڑکوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا، راستے میں تین چار مرتبہ کہا کہ میں نے ایک زمانے میں یہ سڑکیں بہت شوق سے بنائی تھی ، ہم نے مانسہرہ سے شروع کی اور تھاہ کوٹ تک بڑی اچھی بن گئی لیکن وہ گلگت تک بننی تھی لیکن کیوں نہیں بنی ، اس نے گلگت سے آگے خنجراب تک جانا تھا،کیوں نہیں بنائی گئی۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو حکومت کا موقع ملا تو آپ نے اس علاقے کو کیوں نظر انداز کیا ، آپ کی توجہ کن چیزوں پر رہی ہے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی کر کے یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا ، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، اس سڑک کا منصوبہ میں نے ہی شروع کیا تھا لیکن  جو یہاں تک نہیں پہنچی ، اسے پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک میں نے سکردو تک پہنچائی، اس پر 50 ارب روپے کا خرچہ آیا، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے ، میرا دل روتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے کیوں ہونے دیا گیا، آپ پر جو پیسہ لگنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں لگایا گیا، یہ ہسپتال، بجلی کے کارخانے ،ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، دوسرے منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے یہاں ایک اینٹ بھی لگائی ہو یا کوئی منصوبے کی بنیاد بھی رکھی ہو؟، ہم نے مانسہرہ سے اسلام آباد تک 4لین والی ہائی وے بنائی ، وہی ہائی وے یہاں بھی آنی چاہیے تھی، جو میرے زمانے میں ایئر پورٹ تھا آج بھی وہی ہے، اسے وسیع ہی نہیں کیا گیا،یہاں تو بوئنگ جیٹ آنے چاہیے تھے جو سکردو جاتے ہیں، میں شہبازشریف سے میٹنگ کروں گا اور کہوں گاکہ اس ایئر پورٹ کو بڑا کریں، گنجائش پیدا کریں کہ یہاں پر جیٹ لینڈ کر سکیں ،ہفتے میں تین فلائٹس ہیں ، یہاں 30 فلائٹس ہونی چاہیے،گلگت سے سکردو تک آپ 3 گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو پہلے کتنے گھنٹوں میں پہنچتے تھے، 9 گھنٹے کے سفر کو ہم نے تین گھنٹے پر کھڑا کر دیاہے، ہمیں دعائیں تو دیں۔ 

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے میں لواری ٹنل بنائی جو کہ 70 سے بن رہی تھی جو کہ مکمل ہی نہیں ہو رہی تھی ، ہم نے اربوں روپے خرچ کیئے اور مکمل کرکے چھوڑا۔مجھے یہاں گرمیوں میں 12 اور سردیوں میں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں لیکن ان چیزوں سے آپ کو محروم نہیں رکھیں گے، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ووٹ دو گے تو کروں گا ، اگر نہیں دو گے تو پھر بھی کروں گا، میں شہبازشریف اور مریم سے کہوں گا کہ دونوں یہاں آئیں، اگر ہماری حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے یا تیسرے مہینے آوں گا، تاکہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں چاہوں گا کہ ان کی تکمیل ہوتے دیکھوں ، اپنی نگرانی میں مکمل کراوں۔ آپ نے مجھے دیس نکالا دیا، مجھ سے گلا نہ کرو، میں یہ گلا سننے کیلئے تیار نہیں، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے دیس چھوڑ کر جانے کیوں دیا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جس کو بگاڑ دیا گیاہے، میں آج سب سے مخاطب ہوں ، میں اس شاہرا ہ کو شہبازشریف سے بات کر کے خنجراب تک پہنچاوں گا، چین اور پاکستان کے درمیان اس راستے سے تجارت کا فائدہ آپ لوگوں کو ہوگا، گلگت خوشحال ہو جائے گا ، آپ کو تو گھر بیٹھے پیسے ملیں گے، یہ ہمارا سی پیک کا مرکز ہے، اس کو بہت اچھا ہونا چاہیے، میں یہ ضرورکروں گا، اگر پنجاب میں یا اسلام آباد میں کسی اور جگہ پر الیکٹرک بسیں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں، میں شہبازشریف سے بات کر کے الیکٹرک بسیں یہاں بھی اور سکردوں میں بھی بھجواؤں گا، اسلام آباد سے کراچی تک موٹروے بن گئی ہے، مانسہرہ سے یہاں تک بھی موٹروے بننی چاہیے ، میں دیکھوں گا یہ سارے کام اپنی نگرانی میں کراوں ۔

جماعت اسلامی کا بجٹ میں ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل ختم کرنے کا مطالبہ

یہاں پر دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیاہے، لیکن یہ بہت سال پہلے ہونا چاہیے تھا، یہ مریم نواز نے کروایا ہے ، میں اسے شاباش دیتاہوں ، یہاں دل کے آپریشن ہونے چاہئیں اور کسی کو دوسرے شہر نہ جانا پڑے، کینسر کے ہسپتال کو ہم نے ہی یہاں بنایا تھا اور اسے مزید وسیع کریں گے ۔ہم نے اپنا فرض پورا دا کیا اور اگر ہمیں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ان میں سے کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا، نوازشریف جب بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ، جھوٹی بات نہیں کرتا، یہاں پر بھی بہت سارے لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے ، یہاں پر بھی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کیلئے قرضے ملنے چاہیے جیسے باقی پاکستان میں بن رہے ہیں، شہبازشریف اور پنجاب میں مریم نوازشریف اس کام کو آگے بڑھا رہی ہیں، تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو گھر ملے ہیں، یہاں کی آبادی کم ہے ، یہاں سب کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کو روزگار کیلئے بغیر سود قرضے ملنے چاہئیں، تاکہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، یہ جتنی جلدی ہوسکے ہونا چاہیے ، جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو سب سے پہلے ان کاموں کی بنیاد رکھی جائے گی ، بچوں کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں اضافہ کیا جائے گا ،خواتین کیلئے مخصوص یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔

کرپٹو ٹریڈرز ہو جائیں تیار، نئے بجٹ میں کرپٹو منافع پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

ان کا کہناتھا کہ یہاں پر ہم نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے دیئے، تاکہ زمین خریدی جا سکے ، آپ جانتے ہیں کہ ایک بابا ڈیم بھی تھا ،وہ کہتا تھا کہ میں ریٹائر ہو کر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاوں گا، میں نے دو تین بندے بھیجے کہ دیکھو تلاش کرو وہ کیمپ کہاں ہیں ، وہ واپس آئے اور کہا کہ  کہیں کیمپ نہیں ملا، اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں 100 ارب دیا اور ڈیم آج تک نہیں بنا، کام شروع ہو تا تو کب کا بن چکا ہوتا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف