Express News:
2026-06-03@00:10:53 GMT

درآمدات میں اضافہ، غریبوں پر مضر اثرات

اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT

پاکستان کی معیشت کے لیے جولائی تا اکتوبر 2025 کے ابتدائی 4 ماہ محض کیلنڈر کے اوراق نہیں بلکہ ایک معاشی اور تجارتی آزمائش نامہ ہے۔ اس عرصے میں ملک کی درآمدات 23 ارب 10 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز تک پہنچ گئیں جو گزشتہ برس کے ابتدائی 4 ماہ 20 ارب 30 لاکھ ڈالرز یعنی 15.51 فی صد زیادہ ہیں۔ اس طویل جست نے معیشت کی سانسیں روک لی ہیں کیونکہ ایک ایسا ملک جہاں کا امیر طبقہ اشرافیہ ملکی پیداوار سے زیادہ غیر ملکی برانڈز کا دل دادہ ہو، جب اچانک اس اضافے کے دباؤ میں آتا ہے تو تجارتی توازن ہی نہیں بگڑتا بلکہ ڈالر کے ذخائر کو کمزور کرتا ہے۔

روپے کی قدر کو لرزاتا ہے، بجٹ کے اندر ایسے شگاف ڈال دیتا ہے جسے پُر کرنا حکومت کے بھی بس میں نہیں ہوتا۔ یہ اضافہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ ہم نے زیادہ خریدا اور کم بیچا۔ درآمدات کا مجموعی بل پہلے 3 ارب 10 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز زائد بڑھا جس سے زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ میں آ گئے۔ تجارتی خسارہ گزشتہ برس کے 4 ماہ کے مقابلے میں 39 فی صد تک زائد ہو گیا۔ قرض لینے کی رفتار تیز ہو گئی۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی درآمد کرتے ہیں خام مال کی اور اس مال کی جس سے وہ اپنی برآمدات بڑھا سکیں۔ لیکن پاکستانی معیشت میں یہ اضافہ اس بات کی دلیل ہے کہ صنعت کمزور ہے۔ مقامی پیداوار کی ملکی کھپت کے بجائے درآمدی مال استعمال کرنا اپنی انا کی خاطر لوگ پسند کرتے ہیں جس سے روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں اور دکانوں میں درآمدی اشیا کی بھرمار ہے۔

امرا و اشرافیہ کا طبقہ اپنی شان و شوکت بڑھانے کی خاطر درآمدی مال خریدتے ہیں، پسند کرتے ہیں اور منگواتے ہیں۔ بس یہ المیہ ہی پاکستان کی معیشت کی زبوں حالی، روپے کی کمزوری معاشی بدحالی کا سب سے بڑا نوحہ ہے۔ اس وقت درآمدات میں اضافے کی تصویر گری یوں بنتی ہے۔ بندرگاہوں پر باہر سے آنے والے کنٹینرز کا شور ہے اور برآمدات کے چند کنٹینرز ایک طرف چپکے کھڑے ہیں۔ پس منظر میں کارخانوں کے گیٹ پر تالے ہیں، آسمان کی طرف دیکھیں تو ڈالر کی اونچی اڑان ہے۔

ان 4 ماہ کے درآمدی اعداد و شمار حکومت کی آنکھیں کھولنے کے لیے شاید کافی ہیں۔ اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو معاشی دباؤ بڑھے گا، زرمبادلہ کم ہوگا، قرض بڑھیں گے، آئی ایم ایف کا شکنجہ اور سخت ہو کر رہے گا۔ روزگار کے مواقع کم سے کم ہوں گے، اشرافیہ کی طرف سے غیر ملکی اشیا کی طلب میں اضافے سے غریب آدمی کو کیا مل رہا ہے۔ ایک طرف فیکٹری بند ہے، مزدور بے کار ہو رہے ہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے بقدر اضافہ نہیں ہو رہا اور حکومت پنشنرز کو چند فی صد اضافی رقم دے کر لاکھوں بوڑھے افراد کو غربت کی کھائی میں دھکیل رہی ہے۔

3 ارب ڈالر سے زائد درآمدات میں اضافی پھونک دیے گئے لیکن اس میں غریب کی مٹی کا گھر بہہ کر رہ گیا،50 لاکھ سے زائد افراد سیلاب سے متاثر ہوئے، ہزاروں جانیں چلی گئیں، لاکھوں مویشی ڈوب گئے، لاکھوں ایکڑ اراضی میں بوئی گئی کیش کراپس سے غریب کسان محروم ہوکر رہ گیا۔ حتیٰ کہ اس کے گھر میں سال بھر کا محفوظ اناج بھارت سے آیا ہوا سیلاب کھا گیا۔ لاکھوں افراد آج بھی حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ حکومت کہاں سے ڈالر لے کر آئے؟ چلیے مان لیتے ہیں حکومت مدد کرے گی، لیکن کیسے؟ 23 ارب ڈالر سے زائد کی رقم تو درآمد کے کھاتے میں چلے گئے۔ اب جیب خالی ہے۔

حکومت اس بات پر توجہ دے کہ ہماری درآمدات کا بڑا حصہ غیر پیداواری چیزوں پر مشتمل ہے، لگژری اشیا پر ہے، قیمتی موبائل فونز، لگژری گاڑیاں، مہنگے فرنیچرز، کھانے پینے کی اشیا اور بہت سی غیر ضروری اشیا پر مشتمل ہے، ان پر پابندی لگائیں۔ لیکن دالوں کے کنٹینرز نہ روکیں اس طرح دالیں مہنگی ہو جائیں گی، ان برآمدی اشیا کے میٹریلز نہ روکیں کیوں کہ اس سے برآمدات رکتی ہے۔ کارخانوں میں کام کم ہو کر رہ جاتا ہے۔ جن ملکوں سے زیادہ مالیت کی درآمدات کرتے ہیں ان سے برابر کا سودا کریں، مال کے بدلے مال کی تجارت کریں تاکہ ڈالر کم خرچ ہوں۔ درآمدات کو کنٹرول نہ کیا تو مہنگائی بڑھ جائے گی، غربت بڑھ جائے گی۔ حکام اس کے بارے میں سوچیں اور عملی قدم اٹھائے، کہیں دیر نہ ہو جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کرتے ہیں

پڑھیں:

بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔

مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمی

مارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟

مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔

ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

کرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔

ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔

سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہ

کرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف)  سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔

مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان

اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔

کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکم

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود