Express News:
2026-07-24@04:09:35 GMT

درآمدات میں اضافہ، غریبوں پر مضر اثرات

اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT

پاکستان کی معیشت کے لیے جولائی تا اکتوبر 2025 کے ابتدائی 4 ماہ محض کیلنڈر کے اوراق نہیں بلکہ ایک معاشی اور تجارتی آزمائش نامہ ہے۔ اس عرصے میں ملک کی درآمدات 23 ارب 10 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز تک پہنچ گئیں جو گزشتہ برس کے ابتدائی 4 ماہ 20 ارب 30 لاکھ ڈالرز یعنی 15.51 فی صد زیادہ ہیں۔ اس طویل جست نے معیشت کی سانسیں روک لی ہیں کیونکہ ایک ایسا ملک جہاں کا امیر طبقہ اشرافیہ ملکی پیداوار سے زیادہ غیر ملکی برانڈز کا دل دادہ ہو، جب اچانک اس اضافے کے دباؤ میں آتا ہے تو تجارتی توازن ہی نہیں بگڑتا بلکہ ڈالر کے ذخائر کو کمزور کرتا ہے۔

روپے کی قدر کو لرزاتا ہے، بجٹ کے اندر ایسے شگاف ڈال دیتا ہے جسے پُر کرنا حکومت کے بھی بس میں نہیں ہوتا۔ یہ اضافہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ ہم نے زیادہ خریدا اور کم بیچا۔ درآمدات کا مجموعی بل پہلے 3 ارب 10 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز زائد بڑھا جس سے زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ میں آ گئے۔ تجارتی خسارہ گزشتہ برس کے 4 ماہ کے مقابلے میں 39 فی صد تک زائد ہو گیا۔ قرض لینے کی رفتار تیز ہو گئی۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی درآمد کرتے ہیں خام مال کی اور اس مال کی جس سے وہ اپنی برآمدات بڑھا سکیں۔ لیکن پاکستانی معیشت میں یہ اضافہ اس بات کی دلیل ہے کہ صنعت کمزور ہے۔ مقامی پیداوار کی ملکی کھپت کے بجائے درآمدی مال استعمال کرنا اپنی انا کی خاطر لوگ پسند کرتے ہیں جس سے روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں اور دکانوں میں درآمدی اشیا کی بھرمار ہے۔

امرا و اشرافیہ کا طبقہ اپنی شان و شوکت بڑھانے کی خاطر درآمدی مال خریدتے ہیں، پسند کرتے ہیں اور منگواتے ہیں۔ بس یہ المیہ ہی پاکستان کی معیشت کی زبوں حالی، روپے کی کمزوری معاشی بدحالی کا سب سے بڑا نوحہ ہے۔ اس وقت درآمدات میں اضافے کی تصویر گری یوں بنتی ہے۔ بندرگاہوں پر باہر سے آنے والے کنٹینرز کا شور ہے اور برآمدات کے چند کنٹینرز ایک طرف چپکے کھڑے ہیں۔ پس منظر میں کارخانوں کے گیٹ پر تالے ہیں، آسمان کی طرف دیکھیں تو ڈالر کی اونچی اڑان ہے۔

ان 4 ماہ کے درآمدی اعداد و شمار حکومت کی آنکھیں کھولنے کے لیے شاید کافی ہیں۔ اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو معاشی دباؤ بڑھے گا، زرمبادلہ کم ہوگا، قرض بڑھیں گے، آئی ایم ایف کا شکنجہ اور سخت ہو کر رہے گا۔ روزگار کے مواقع کم سے کم ہوں گے، اشرافیہ کی طرف سے غیر ملکی اشیا کی طلب میں اضافے سے غریب آدمی کو کیا مل رہا ہے۔ ایک طرف فیکٹری بند ہے، مزدور بے کار ہو رہے ہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے بقدر اضافہ نہیں ہو رہا اور حکومت پنشنرز کو چند فی صد اضافی رقم دے کر لاکھوں بوڑھے افراد کو غربت کی کھائی میں دھکیل رہی ہے۔

3 ارب ڈالر سے زائد درآمدات میں اضافی پھونک دیے گئے لیکن اس میں غریب کی مٹی کا گھر بہہ کر رہ گیا،50 لاکھ سے زائد افراد سیلاب سے متاثر ہوئے، ہزاروں جانیں چلی گئیں، لاکھوں مویشی ڈوب گئے، لاکھوں ایکڑ اراضی میں بوئی گئی کیش کراپس سے غریب کسان محروم ہوکر رہ گیا۔ حتیٰ کہ اس کے گھر میں سال بھر کا محفوظ اناج بھارت سے آیا ہوا سیلاب کھا گیا۔ لاکھوں افراد آج بھی حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ حکومت کہاں سے ڈالر لے کر آئے؟ چلیے مان لیتے ہیں حکومت مدد کرے گی، لیکن کیسے؟ 23 ارب ڈالر سے زائد کی رقم تو درآمد کے کھاتے میں چلے گئے۔ اب جیب خالی ہے۔

حکومت اس بات پر توجہ دے کہ ہماری درآمدات کا بڑا حصہ غیر پیداواری چیزوں پر مشتمل ہے، لگژری اشیا پر ہے، قیمتی موبائل فونز، لگژری گاڑیاں، مہنگے فرنیچرز، کھانے پینے کی اشیا اور بہت سی غیر ضروری اشیا پر مشتمل ہے، ان پر پابندی لگائیں۔ لیکن دالوں کے کنٹینرز نہ روکیں اس طرح دالیں مہنگی ہو جائیں گی، ان برآمدی اشیا کے میٹریلز نہ روکیں کیوں کہ اس سے برآمدات رکتی ہے۔ کارخانوں میں کام کم ہو کر رہ جاتا ہے۔ جن ملکوں سے زیادہ مالیت کی درآمدات کرتے ہیں ان سے برابر کا سودا کریں، مال کے بدلے مال کی تجارت کریں تاکہ ڈالر کم خرچ ہوں۔ درآمدات کو کنٹرول نہ کیا تو مہنگائی بڑھ جائے گی، غربت بڑھ جائے گی۔ حکام اس کے بارے میں سوچیں اور عملی قدم اٹھائے، کہیں دیر نہ ہو جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کرتے ہیں

پڑھیں:

24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا

علامتی فوٹو

حکومت نے مسلسل تیسرے روز پیٹرول جبکہ چوتھے روز ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔

اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 24 جولائی کے لیے ہوں گی۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔

اوگرا وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے بغیر قیمتوں کا اعلان کرے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو گزشتہ اعلان کردہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔

یومیہ اعلان کے تحت اب تک کی تبدیلی

علم میں رہے کہ 21 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 35 پیسے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔

22 جولائی کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔

اسی طرح 23 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان