امریکا اور روس کا خفیہ امن منصوبہ: یوکرین سے علاقہ چھوڑنے اور فوج نصف کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
امریکا اور روس کے حکام نے یوکرین کی جنگ ختم کرنے کے لیے ایک نیا خفیہ منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت یوکرین کو اپنا علاقہ چھوڑنا ہوگا اور اپنی فوج کی تعداد میں نمایاں کمی کرنا پڑے گی۔
یہ رپورٹ ایسے موقع پر سامنے آئی جب روسی ڈرون اور میزائل حملوں میں یوکرین کے مغربی شہر تریپنوپل میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روس اور یوکرین بحیرہ اسود میں آزادانہ جہاز رانی پر متفق، امریکا
رپورٹس کے مطابق یہ مسودہ منصوبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور کریملن کے مشیر کیریل دیمترییف نے تیار کیا ہے، جس میں یوکرین کی فوجی اور سیاسی خودمختاری پر روس کو غیر معمولی اختیار دینے کی تجاویز شامل ہیں۔
US and Russian officials have drafted a 28-point peace plan aimed at ending the Ukraine conflict.
— Information_Nexus???? (@Inform_NexusX) November 20, 2025
میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین میں اسے بلاشبہ ’سرنڈر‘ کے مترادف سمجھا جائے گا۔
دونوں عہدیدار ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان ایک غیر رسمی بیک چینل کے طور پر کام کر رہے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے باضابطہ طور پر اس منصوبے کی منظوری دی ہے یا نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق منصوبہ یوکرین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مشرقی علاقوں کا بڑا حصہ روس کے حوالے کرے اور اپنی فوج کی تعداد نصف کر دے۔
مزید پڑھیں: امریکا میں چارلی کرک کی ہلاکت؛ سابق روسی صدر نے الزام یوکرین نواز لبرلز پر دھر دیا
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی پہلے ہی ایسے مطالبات کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دے چکے ہیں، دیگر شرائط میں امریکی فوجی امداد کی حد بندی اور یوکرین کے ہتھیاروں کی اقسام پر پابندیاں شامل ہیں۔
واشنگٹن مسلسل دعویٰ کرتا رہا ہے کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان امن سمجھوتے کے قریب ہے، لیکن ہر کوشش ناکام رہی کیونکہ ان تجاویز میں روس کے زیادہ تر مطالبات پورے کیے جا رہے تھے جبکہ یوکرین کو شدید رعایتیں دینا پڑ رہی تھیں۔
بدھ کی شب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا کہ پائیدار امن کے لیے ’دونوں فریقین کو مشکل لیکن ضروری سمجھوتے‘ کرنا ہوں گے۔
مزید پڑھیں: روس جنگ یوکرین کبھی نہیں جیت سکتا، امریکا
ادھر روس نے مغربی یوکرین میں ایک بڑے حملے میں تریپنوپل کے کئی رہائشی بلاکس کو نشانہ بنایا جبکہ ایوانو-فرانکیفسک اور لیویو میں توانائی تنصیبات پر بھی حملے کیے۔
روس موسمِ سرما سے قبل یوکرین کے بجلی کے ڈھانچے کو تباہ کرنے کی منظم مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔
یوکرین کی وزارتِ داخلہ کے مطابق 3 بچوں سمیت 25 افراد ہلاک جبکہ 73 زخمی ہوئے۔
مزید پڑھیں: روس جنگ یوکرین کبھی نہیں جیت سکتا، امریکا
دوسری جانب بدھ کے روز صدر زیلنسکی نے ترک صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کے دوران ’منصفانہ امن‘ کے لیے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اتحادیوں سے کہا کہ روس کو روکنے کے لیے مزید فضائی دفاعی میزائل فراہم کیے جائیں۔
روس کی زیادہ سے زیادہ علاقائی اور سیاسی مطالبات کے باعث امن بات چیت مہینوں سے تعطل کا شکار ہے، صدر زیلنسکی جمعرات کو امریکی فوجی وفد سے ملاقات کریں گے، جبکہ امریکی آرمی سیکریٹری ڈینیئل ڈرسکول بدھ کو یوکرین کے دارالحکومت کیف پہنچ گئے۔
مزید پڑھیں:رواں برس ہی روسی قبضے سے یوکرینی علاقے چھڑوا لینا بہت مشکل ہے : امریکا
یوکرین اور روس کے درمیان براہِ راست مذاکرات گزشتہ موسمِ گرما سے نہیں ہوئے، اور صدر ٹرمپ اور صدر پیوٹن کی الاسکا میں آخری ملاقات کے بعد سفارتی پیشرفت تقریباً منجمد ہے۔
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا کہ ’ابھی تک کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہیں‘ ہوسکی ہے، روسی وزارتِ خارجہ نے بھی کسی امریکی امن منصوبے سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔
دوسری جانب میدانِ جنگ میں روسی پیش قدمی جاری ہے اور پیکروسک جیسے اہم شہر میں روسی افواج بڑھ رہی ہیں، جبکہ توانائی کے شعبے میں کرپشن اسکینڈل نے یوکرین میں نئی سیاسی بحران کو جنم دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الاسکا امریکا پیوٹن توانائی ڈرون رجب طیب ایردوان روس زیلنسکی سفارتی پیشرفت صدر پیوٹن صدر ٹرمپ فوج کرپشن اسکینڈل مارکو روبیو میزائل واشنگٹن وزیر خارجہ یوکرین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الاسکا امریکا پیوٹن توانائی رجب طیب ایردوان زیلنسکی سفارتی پیشرفت صدر پیوٹن فوج کرپشن اسکینڈل مارکو روبیو واشنگٹن یوکرین مزید پڑھیں یوکرین کے کے مطابق روس کے کے لیے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس