لاہور ہائیکورٹ: عمران خان کی 9 مئی کا مقدمہ چلانے کی درخواست 2 رکنی بنچ کو منتقل
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نو مئی کا صرف ایک مقدمہ چلانے کی درخواست مزید سماعت کیلئے دو رکنی بنچ کو بھجوا دی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست پر سماعت کی، بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے، دورانِ سماعت عدالت نے روسٹرم پر زیادہ وکلاء کھڑے ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ درخواست اتنی بھاری ہے جو اتنے وکیل روسٹرم پر آگئے، عدالت نے لطیف کھوسہ کے علاوہ تمام وکلاء کو روسٹرم چھوڑنے کی ہدایت کی، چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ سے استفسار کیا کہ لگتا ہے آپ عدالت کی ہدایت سمجھنا ہی نہیں چاہتے، آپ کے ساتھ وکیل کیوں آکر کھڑے ہوگئے ہیں؟
بھارت نے پاکستان کیساتھ دریاؤں کے پانی سے متعلق اعداد و شمار شیئر کرنا بند کر دیا
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ درخواست مزید سماعت کے لیے اے ٹی سی کیسز کی سماعت کرنے والے دو رکنی بنچ کو بھجوا رہے ہیں، جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ 4 دسمبر کو مزید سماعت کرے گا۔
اس سے قبل درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی پر نو مئی کے متعدد مقدمات درج ہیں، ایک ہی نوعیت کے الزامات پر متعدد ایف آئی آرز درج نہیں ہو سکتیں، لہٰذا عدالت نو مئی کا صرف ایک مقدمہ چلانے کا حکم دے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: لاہور ہائیکورٹ چیف جسٹس
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔