9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات میں عمران خان کی گرفتاری سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت ہوئی، عدالت نے 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے روک دیا۔
عدالت نے 25 نومبر تک متعلقہ مقدمات میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی گرفتاری سے روک دیا، عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کردی۔
عدالت نے اگلی سماعت میں بانی پی ٹی آئی کو عدالت میں یا بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت کردی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیس پر سماعت کی۔
بانی پی ٹی آئی کی عدم دستیابی کے باعث ضمانت کی درخواستوں پر دلائل نہ ہوسکے، عدالت نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23 دسمبر تک ملتوی کردی۔
بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کیجانب سے سردار محمد مصروف خان ایڈووکیٹ اور زاہد شبیر ڈار عدالت میں پیش ہوئیں۔
بانی پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی، اقدام قتل، جعلی رسیدوں سمیت دیگر مقدمات درج ہیں، بشریٰ بی بی کیخلاف مبینہ جعلی رسیدیں جمع کروانے پر مقدمہ درج ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی عدالت نے بی بی کی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔