وفاقی اور صوبائی اینٹی ریپ قانون میں تضاد کس نے دیکھنا ہے؟ جسٹس عالیہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251125-08-16
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) اینٹی ریپ ایکٹ پر عملدرآمد سے متعلق کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک کیلیے ملتوی کردی گئی۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں 3 رکنی فل بینچ نے اینٹی ریپ ایکٹ پر عملدرآمد سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی اینٹی ریپ کے قانون میں تضاد کوکس نے دیکھنا ہے۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ اٹارنی جنرل پاکستان کہاں ہیں؟ جبکہ سرکاری وکیل کو ہدایت دی گئی کہ اٹارنی جنرل کاپتا کریں کہ وہ کہاں ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں تو اٹارنی جنرل نے اینٹی ریپ ایکٹ کی مختلف دفعات کے بارے میں عدالت کی معاونت کرنا تھی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل مرزا نصر چیف جسٹس کی عدالت میں پیش ہوگئے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل ڈویژن بینچ میں مصروفیت کی بنا پر عدالت تاخیر سے پہنچے۔ بعدازاں عدالت نے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔ ملزم واجد علی نے ضمانت کیلیے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اٹارنی جنرل اینٹی ریپ چیف جسٹس
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔