data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251125-08-16
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) اینٹی ریپ ایکٹ پر عملدرآمد سے متعلق کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک کیلیے ملتوی کردی گئی۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں 3 رکنی فل بینچ نے اینٹی ریپ ایکٹ پر عملدرآمد سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی اینٹی ریپ کے قانون میں تضاد کوکس نے دیکھنا ہے۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ اٹارنی جنرل پاکستان کہاں ہیں؟ جبکہ سرکاری وکیل کو ہدایت دی گئی کہ اٹارنی جنرل کاپتا کریں کہ وہ کہاں ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں تو اٹارنی جنرل نے اینٹی ریپ ایکٹ کی مختلف دفعات کے بارے میں عدالت کی معاونت کرنا تھی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل مرزا نصر چیف جسٹس کی عدالت میں پیش ہوگئے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل ڈویژن بینچ میں مصروفیت کی بنا پر عدالت تاخیر سے پہنچے۔ بعدازاں عدالت نے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔ ملزم واجد علی نے ضمانت کیلیے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اٹارنی جنرل اینٹی ریپ چیف جسٹس

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن