data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)شہر قائد میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چوری اور چھیننے کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں کو شدید عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے، جبکہ اے وی ایل سی کی دس ماہ اور تیرہ دن کی کارکردگی نے چونکا دینے والے حقائق بے نقاب کر دیے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق شہر میں گاڑی چوری اب محض ایک جرم نہیں بلکہ ایک منظم کاروبار کی صورت اختیار کر چکی ہے۔316دنوں میں کروڑوں روپے مالیت کی املاک لٹیرے لوٹ کر فرار ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 316دنوں میں279گاڑیاں چھینی گئیں۔ 1657 گاڑیاں چوری ہوئیںاور حیران کن طور پر35319موٹر سائیکلیں چوری ہوگئیں، یہ وہ تعداد ہے جس نے شہریوں کے ہوش اڑا دیے ہیں۔ عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ “آخر بڑے شہر میں چور اتنے بے خوف کیسے؟”مہینوں کی صورتِ حال بھی تشویش ناک ہے۔جنوری: جرم کی یلغار3557موٹر سائیکلیں وری640چھینی گئیں،برآمد ہوئیں صرف 164،جون: مزید بگاڑ،3400موٹر سائیکلیں چوری628چھینی،بازیاب صرف 135ان ہی مہینوں میں گاڑیاں بھی بڑی تعداد میں غائب ہوتی رہیں۔صرف جنوری میں149گاڑیاں چوری ہوئیں جبکہ نومبر کی13تاریخ تک مزید 60 گاڑیاں ریکارڈ ہوئیں۔شہریوں کے مطابق شہر میں کارلفٹروں اور چوروں کو گویا “فری ہینڈ”دے دیا گیا ہے۔دس ماہ تیرہ دن کے دوران:41352 موٹر سائیکلیںچوری،برآمد ہو سکیں صرف 1461، 1936گاڑیاں چوری،برآمد ہوئیں صرف 549۔اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ ریکوری کی شرح نہایت کم ہے، لیکن پولیس افسران پھر بھی اسے بہترین کارکردگی قرار دے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق اے وی ایل سی کا سالانہ بجٹ تقریبا 95 کروڑ روپے کے بھگ ہے، جس میں تنخواہیں، الانسز، فیول اور دیگر اخراجات شامل ہیں، مگر اس بھاری بجٹ کے باوجود ریکوری کی شرح چند فیصد سے زیادہ نہیں۔ مزید برآں، کچھ افسران پر چوروں سے مبینہ ملی بھگت کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں، جبکہ یونٹ میں ڈوئل چارج کی وجہ بھی محکمے کی کارکردگی کی ایک وجہ قرار دی جارہی ہے متاثرہ شہریوں کے مطابق ہے بااثر افراد کی گاڑیاں پہلے ہی برآمد ہوتی ہیں، عام شہریوں کی درخواستیں اکثر فائلوں میں دب کر رہ جاتی ہیں۔ ان کے مطابق کراچی میں گاڑی چوری ایک مافیا کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس نے لوگوں کو مسلسل خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔شہریوں کا سوال جواب کون دے گا؟جب ایک بڑا بجٹ بھی ہے، اہلکار بھی، اور پورا ایک ادارہ بھی موجود ہے،تو پھر کراچی گاڑی چوروں کی جنت کیوں بنا ہوا ہے؟”

مانیٹرنگ ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہریوں سے سینٹر میں فراہم کردہ سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا، شہریوں سے شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات بنوانے کے عمل بارے پوچھا۔ نادرا میگا سینٹر میں موجود شہریوں نے مہیا کردہ سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے یونیورسٹی روڈ صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹرکا اچانک دورہ کیا۔ وزیر داخلہ نے شہر قائد کے نادرا میگا سینٹر میں شہریوں کے لئے سہولتوں کا جائزہ لیا، محسن نقوی شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات بنانے کے لیے آئے شہریوں سے ملے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہریوں سے سینٹر میں فراہم کردہ سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا، شہریوں سے شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات بنوانے کے عمل بارے پوچھا۔ نادرا میگا سینٹر میں موجود شہریوں نے مہیا کردہ سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات بنوانے میں انتظار نہیں کرنا پڑتا، وقت پر باری آ جاتی ہے اور عملہ بھی مکمل تعاون کرتا ہے۔ محسن نقوی مختلف کاؤنٹرز پر گئے اور خصوصا بزرگ شہریوں سے گفتگو کی اور ان کے ایشوز پوچھے، بزرگ شہریوں اور خواتین کے کام ترجیحی بنیادوں پر کرنے کے احکامات جاری کئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے نادرا سینٹر کے انچارج اور عملے کی کارکردگی کی تعریف کی۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟