بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان شبمن گل کی انجری نے ٹیم انڈیا کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق شبمن گل سال 2025 کے بقیہ میچز میں ایکشن میں نظر نہیں آئیں گے۔ شبمن گل گردن کی انجری کے باعث جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرا ٹیسٹ پہلے ہی نہیں کھیل رہے۔

ٹیم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ گل کی فٹنس کے معاملے میں جلد بازی سے کام نہیں لے رہی۔ کولکتہ ٹیسٹ کے دوران گل بیٹنگ کرتے ہوئے ریٹائر ہرٹ ہوئے تھے اور دوسری اننگز میں میدان میں واپس نہیں آ سکے۔ گوہاٹی ٹیسٹ میں ان کی جگہ رشبھ پنت کپتانی کر رہے ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق شبمن گل کی انجری ابتدا میں سمجھنے سے زیادہ سنگین نکلی ہے۔ وہ نہ صرف جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز سے باہر ہیں بلکہ پورے سال کے دوران کسی بھی فارمیٹ میں واپسی کا امکان بھی کم ہے۔

ذرائع کے مطابق گل کو اعصاب کی چوٹ ہے، انہیں انجیکشن لگائے جا رہے ہیں اور چند روز میں ری ہیبیلیٹیشن کا عمل شروع ہوگا۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو سامنے رکھتے ہوئے انتہائی احتیاط سے معاملے کو دیکھ رہی ہے۔ جلد فیصلے سے کھلاڑی کی فٹنس کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے مینجمنٹ محتاط حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔

ممکنہ طور پر شبمن گل 2026 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز سے واپسی کر سکتے ہیں۔ ٹیم انڈیا جنوری میں تین ون ڈے (11 جنوری سے) اور پانچ ٹی ٹوئنٹی میچز (21 جنوری سے) کھیلے گی، جو ورلڈ کپ سے قبل بھارت کی آخری تیاریاں ہوں گی۔

واضح رہے کہ شبمن گل ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیموں کے کپتان جبکہ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے نائب کپتان بھی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی کی انجری شبمن گل

پڑھیں:

پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.

(جاری ہے)

پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے.

ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا.

شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے. 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق