پشاور،افغان گینگ منشیات کاروبارکھلے عام کرنے لگا
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور(آئی این پی )افغان مہاجرین نے حاجی کیمپ سیٹھی ٹاؤن اور تھانہ پہاڑی پورہ کو یرغمال بنا لیاتھانہ پہاڑی پورہ سے چند قدم کے فاصلے پر حاجی کیمپ سیٹھی ٹاؤن، خان کالونی، خٹک کالونی، غالب سٹریٹ اور ملحقہ گلی محلوں میں افغان مہاجر شرپسند نوجوانوں کے گینگز نے صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی کھلا چیلنج دے رکھا ہے۔ ان علاقوں میں افغان مہاجرین کے سیکڑوں خاندان دھڑلے سے رہائش اور کاروبار بھی کر رہے ہیں اور 35 سے زائد افغان مہاجر شرپسند نوجوانوں کا ایک ایسا گینگ بھی سرگرم ہے جو پولیس کی ناک نیچے آئس ، چرس سمیت دیگر نشوں کا کھلا استعمال اور کاروبار بھی کرتے ہیں، یہ گینگ آے روز شریف شہریوں کے ساتھ جان بوجھ کر لڑائی جھگڑا کر کے انھیں چھریوں چاکووں اور اسلحہ سے موت کے قریب لے جاتے ہیں۔ اتوار یعنی 23 نومبر کی دوپہر 3 بجے خان کالونی میں یہ گینگ کم و بیش 5 سی سی ٹی وی کیمروں میں نظر آیا جہاں انہوں نے میڈیسن کا کاروبار کرنے والے ایک شریف خاندان کے لڑکوں کو ان کی خواتین کے سامنے اپنے اپنی جنونیت کا نشانہ بنایا۔ ان پر حملہ کیا چھریوں سے انہیں شدید زخمی کیا یہاں تک کے ان کی ہڈیاں توڑ ڈالیں ۔ اسی پر بس نہیں کیا لڑائی کے فوراً بعد ہی موٹرسائکل پر آ کر بھرے بازار میں ہوائی فائرنگ کی اور دندناتے ہوے فرار بھی ہو گیے ۔ لیکن پہاڑی پورہ پولیس کچھ نہ کر سکی۔ پہاڑی پورہ پولیس کو مکمل معلومات ہیں کہ خان کالونی اور اس سے ملحقہ محلوں میں سنوکر کلبز اور باکسنگ کلبز ان افغان شرپسند نوجوانوں کے اڈے ہیں لیکن کارروائی کون کرے۔ مزید یہ کہ مذکورہ گینگ کے ساتھ علاقے کے تمام افغان مہاجر باشندے بھی ان کی پشت پناہی پر ہمیشہ کی طرح کھڑے ہوگئے ہیں اور مقامی شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔شہریوں نے سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افغان مہاجرین
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز