اسرائیل مغربی کنارے سے ہزاروں فلسطینیوں کو بے گھر کر رہا ہے، ہیومین رائٹس واچ
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
عرب میڈیا کے مطابق انسانی حقوق کے عالمی ادارے ہیومین رائٹس واچ نے بتایا ہے کہ اسرائیل 32 ہزار فلسطینیوں کو جنین، نورشمس اور تلکرم کے پناہ گزین کیمپس میں دھکیل رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ہیومین رائٹس واچ نے بتایا ہے کہ اسرائیل ہزاروں فلسطینیوں کو بے گھر کر کے کیمپوں کی طرف دھکیل رہا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق انسانی حقوق کے عالمی ادارے ہیومین رائٹس واچ نے بتایا ہے کہ اسرائیل 32 ہزار فلسطینیوں کو جنین، نورشمس اور تلکرم کے پناہ گزین کیمپس میں دھکیل رہا ہے۔ اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مغربی کنارے سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کا یہ سلسلہ 1967ء کے بعد سب سے بڑی مہم جوئی کا حصہ ہے۔ قبل ازیں مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اکتوبر 2023ء سے لیکر اب تک 1 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کرچکی ہیں۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ نے گذشتہ ماہ اپنی رپورٹ میں تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی حکومت نے 1 ہزار سے زائد فلسطنیوں کے گھر مسمار کرکے ان کو بے گھر کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہیومین رائٹس واچ فلسطینیوں کو کہ اسرائیل کو بے گھر رہا ہے
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔