اسرائیل مغربی کنارے سے ہزاروں فلسطینیوں کو بے گھر کر رہا ہے، ہیومین رائٹس واچ
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
عرب میڈیا کے مطابق انسانی حقوق کے عالمی ادارے ہیومین رائٹس واچ نے بتایا ہے کہ اسرائیل 32 ہزار فلسطینیوں کو جنین، نورشمس اور تلکرم کے پناہ گزین کیمپس میں دھکیل رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ہیومین رائٹس واچ نے بتایا ہے کہ اسرائیل ہزاروں فلسطینیوں کو بے گھر کر کے کیمپوں کی طرف دھکیل رہا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق انسانی حقوق کے عالمی ادارے ہیومین رائٹس واچ نے بتایا ہے کہ اسرائیل 32 ہزار فلسطینیوں کو جنین، نورشمس اور تلکرم کے پناہ گزین کیمپس میں دھکیل رہا ہے۔ اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مغربی کنارے سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کا یہ سلسلہ 1967ء کے بعد سب سے بڑی مہم جوئی کا حصہ ہے۔ قبل ازیں مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اکتوبر 2023ء سے لیکر اب تک 1 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کرچکی ہیں۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ نے گذشتہ ماہ اپنی رپورٹ میں تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی حکومت نے 1 ہزار سے زائد فلسطنیوں کے گھر مسمار کرکے ان کو بے گھر کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہیومین رائٹس واچ فلسطینیوں کو کہ اسرائیل کو بے گھر رہا ہے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔