استنبول میں غزہ جنگ بندی پر بات چیت: اسٹیو وٹکوف کی حماس رہنما سے ایک اور ملاقات طے
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بدھ کے روز استنبول میں سینیئر حماس رہنما خلیل الحیّہ کی قیادت میں ایک وفد سے ملاقات کریں گے جس میں غزہ میں جاری جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے حوالے سے مذاکرات کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطین پر مؤقف اٹل، پاکستان کو غزہ بھیجے جانے والی فورس کا حصہ بننا چاہیے، وزیر دفاع خواجہ آصف
ٹائم آف اسرائیل کے مطابق ایک عرب سفارت کار نے بتایا کہ یہ ملاقات وٹکوف اور الحیّہ کے درمیان دوسری براہ راست نشست ہوگی۔
اس سے قبل 9 اکتوبر کو قاہرہ میں جنگ بندی معاہدے پر دستخط سے چند گھنٹے پہلے، وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کشنر نے حماس کی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات کی تھی جسے معاہدہ طے کرنے میں ایک فیصلہ کن قدم قرار دیا گیا۔
ذاتی سانحات پر گفتگو سے ماحول نرم ہواایک مشترکہ انٹرویو میں وٹکوف اور کشنر نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران وٹکوف اور الحیّہ کے درمیان اپنے بیٹوں کی موت کے تجربے پر گفتگو نے ماحول کو بدل دیا۔
وٹکوف کا بیٹا اینڈریو منشیات کے استعمال سے 22 سال کی عمر میں انتقال کر گیا تھا جبکہ الحیّہ کا بیٹا ہمام الحیّہ 9 ستمبر کو دوحہ میں حماس کے ہیڈکوارٹر پر اسرائیلی فضائی حملے میں مارا گیا۔
کشنر کے مطابق اس انسانی سطح کی گفتگو نے مذاکرات کو ایک مختلف رخ دیا۔
امریکا اور حماس کے درمیان خفیہ روابطٹرمپ کی دوسری مدت میں اس سے پہلے امریکا اور حماس کے درمیان کسی ملاقات کا ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ تاہم اس سال کے آغاز میں امریکی ایلچی نے حماس رہنماؤں سے خفیہ ملاقات کرکے اسرائیلی امریکی یرغمالی ایڈن الیگزینڈر کی رہائی کے لیے کوشش کی۔
مزید پڑھیے: ’اسرائیل کے خلاف مزاحمت کو جائز سمجھتے ہیں‘، حماس نے غزہ سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد مسترد کردی
اس اقدام پر اسرائیلی وزیرِاعظم کے ایلچی رون ڈرمر نے برہمی کا اظہار کیا اور مبینہ طور پر یہ معلومات لیک کیں جس سے بات چیت مارچ میں رک گئی۔
9 اکتوبر کی وٹکوف اور الحیّہ ملاقات ان کا دوسرا براہ راست رابطہ تھا۔
حماس سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ زیر غورامریکی ایلچی بدھ کی ملاقات میں حماس سے غیر مسلح ہونے کے مطالبے کو ایک مرتبہ پھر اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وٹکوف کا دعویٰ ہے کہ حماس نے گذشتہ ملاقات میں اس پر رضامندی ظاہر کی تھی تاہم تنظیم نے عوامی سطح پر اس کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ہتھیار نہیں ڈالے گی۔
منگل کو بھی حماس نے اقوام متحدہ کی اس قرارداد پر تنقید کی جو جنگ کے بعد غزہ میں سیکیورٹی کے لیے ایک انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس قائم کرنے کی سفارش کرتی ہے۔
محصور جنگجوؤں کے لیے محفوظ راستے کی کوششیںرپورٹس کے مطابق وٹکوف گزشتہ ہفتوں سے تقریباً 100 تا 200 حماس جنگجوؤں کے لیے محفوظ راستے کی کوشش کر رہے ہیں جو رفح کے نیچے سرنگوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
امریکا چاہتا ہے کہ اگر یہ جنگجو ہتھیار ڈال دیں تو انہیں اسرائیلی حدود سے نکلنے کے لیے راستہ دیا جائے چاہے غزہ کے اندر یا کسی تیسرے ملک میں۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اس تجویز کو مسترد کر چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل سے ٹرمپ کا امن منصوبہ منظور، غزہ میں بین الاقوامی فورس تعینات ہوگی
اہلکاروں کے مطابق وٹکوف اس اقدام کو حماس کے تقریباً 20 ہزار جنگجوؤں کے لیے مجوزہ بڑے غیر مسلح کاری اور عام معافی پروگرام کی مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں جیسا کہ صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے میں شامل ہے۔
امن منصوبہ تاحال غیر دستخط شدہاگرچہ نیتن یاہو نے ستمبر میں وائٹ ہاؤس میں اس امن منصوبے کو پبلک سطح پر سراہا تھا لیکن نہ اسرائیل اور نہ حماس نے اسے باضابطہ طور پر ابھی تک منظور کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ میں 2 سالوں سے بجلی کی فراہمی معطل، جنگ بندی کے بعد بھی بحال نہ ہوسکی
9 اکتوبر کو دونوں فریق صرف جنگ بندی، ابتدائی اسرائیلی انخلا، یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے اور انسانی امداد کے معاملات پر اتفاق کر پائے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل حماس رہنما خلیل الحیہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف غزہ فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل حماس رہنما خلیل الحیہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف فلسطین کے درمیان وٹکوف اور کے مطابق ہ ملاقات حماس کے الحی ہ کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام
یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔
ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔
مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت
ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ
ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان