’فرینڈشپ ناٹ آؤٹ‘، دہشتگردی ناکام، سری لنکن ٹیم کا سیریز جاری رکھنے پر کھلاڑیوں اور سیاستدانوں کے خاص پیغامات
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
سری لنکن کرکٹ ٹیم نے دورہ پاکستان ادھورا چھوڑنے کے امکان کے بعد حکومتِ پاکستان کی یقین دہانیوں پر اپنا دورہ جاری رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، سری لنکن ٹیم نے سیکیورٹی خدشات کے باعث وطن واپسی کی درخواست کی تھی، تاہم وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے فول پروف سیکیورٹی کی یقین دہانی کے بعد سری لنکن کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ کو دورہ جاری رکھنے کی ہدایت جاری کردی۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردوں کو شکست، سری لنکن ٹیم پاکستان میں سیریز جاری رکھنے پر راضی
پاکستانی عوام، شائقینِ کرکٹ اور مختلف سیاسی شخصیات نے سری لنکا کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے سری لنکن ٹیم کا شکریہ ادا کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ’فرینڈشپ ناٹ آؤٹ‘ کے عنوان سے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم کا پاکستان کے دورے اور ہمیشہ کرکٹ کے کھیل کی حمایت کرنے پر دلی شکریہ۔ کھیل کے جذبے کو برقرار رکھیں۔ آپ کی موجودگی ہمارے لیے باعثِ اعزاز ہے۔
My heartfelt gratitude to the Sri Lankan Cricket Team for their visit to Pakistan and for always supporting the game of cricket.
????????????????#FriendshipNotOut
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) November 12, 2025
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان آمد اور شاندار کرکٹ کھیل پیش کرنے پر سری لنکن ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہماری نیک تمنائیں سری لنکن ٹیم کے ساتھ ہیں۔
Our special thanks to the Sri Lankan Cricket Team for their visit and for a good display of cricket. Our best wishes and gratitude #FriendshipNotOut
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) November 12, 2025
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہم سری لنکن کرکٹ ٹیم کے پاکستان کے دورے اور کرکٹ کے حقیقی جذبے کے ساتھ کھڑے ہونے پر دل سے شکر گزار ہیں۔ آپ کی حمایت ہمارے دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور احترام کے مضبوط رشتے کی عکاس ہے۔ پاکستان آپ کی موجودگی کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ آج کرکٹ اور دوستی دونوں کی جیت ہوئی ہے۔
We Pakistanis thanks to the Srilankan Cricket Team for visiting Pakistan & standing by the true spirit of cricket. Your support reflects the bond of friendship & respect between our nations. Pakistan is honoured by your presence, cricket & friendship wins.#FriendshipNotOut pic.twitter.com/NHM58ykrWl
— Shahid Khaqan Abbasi ( Fan ) (@Khaqanabbasifan) November 12, 2025
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے لکھا کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کا دورہ جاری رکھنے کا فیصلہ قابلِ تحسین ہے۔ ہم شکر گزار ہیں اور آئندہ دلچسپ میچوں کے منتظر ہیں۔
Good decision by Sri Lankan Cricket Team players to continue the tour. We are grateful and we look forward to exciting matches ahead. #FriendshipNotOut
— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) November 12, 2025
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ میں سری لنکن کرکٹ بورڈ اور اس کے شاندار کھلاڑیوں کو ہمارے ساتھ کھیلنے اور ثابت قدم رہنے پر دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ اس سیریز کا ہر دن دہشت گردی پر ایک فتح ہے۔ ہم امن کے ساتھی، میدان میں حریف، اور بہتر کل کے لیے متحد ہیں۔
I want to pay my heartfelt regards to the Sri Lankan Cricket Board and its amazing players for playing and staying strong with us. Each run in this series defeats terrorism. Partners in peace, rivals on the field, united for a better tomorrow. ???????????????????? #FriendshipNotOut
— Marriyum Aurangzeb (@Marriyum_A) November 12, 2025
سابق قومی فاسٹ بولر شعیب اختر نے سماجی رابطوں کی سائٹ ایکس پر لکھا کہ سری لنکا ٹیم کا شکریہ، جو کرکٹ کے ساتھ کھڑی رہی اور دہشت گردی کو شکست دی۔
Thankyou Sri Lanka Team for standing with cricket and defeating terrorism #FriendshipNotOut
???????? ???? ????????
— Shoaib Akhtar (@shoaib100mph) November 12, 2025
حکومتی ذرائع کے مطابق، سری لنکن ٹیم کے لیے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات مزید سخت کردیے گئے ہیں تاکہ باقی میچز بحفاظت مکمل کیے جاسکیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سری لنکن کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے دورہ ادھورا چھوڑتے ہوئے اپنے ملک واپس جانے کا عندیہ دیا تھا، جس کے بعد پاکستان کے اعلیٰ حکام متحرک ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: سری لنکن کرکٹ ٹیم نے دورہ پاکستان ادھورا چھوڑ کر واپسی کا عندیہ دے دیا
ٹیم کے ترجمان نے بتایا تھا کہ سری لنکن کھلاڑی سیریز جاری رکھنے کے بجائے واپس جانا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ مینجر سری لنکن کرکٹ ٹیم کا بھی کہنا تھا کہ کھلاڑی اب واپس جانے کے خواہاں ہیں، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان شیڈول پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
اس سے قبل سری لنکن ٹیم نے آج اپنا پریکٹس سیشن منسوخ کر دیا تھا۔ پاکستان ٹیم نے بھی آج آرام کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد سری لنکن ٹیم نے شام میں ہونے والا شیڈول پریکٹس سیشن منسوخ کردیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان بمقابلہ سری لنکن پاکستان کرکٹ ٹیم سری لنکا سری لنکن کرکٹ ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان بمقابلہ سری لنکن پاکستان کرکٹ ٹیم سری لنکا سری لنکن کرکٹ ٹیم سری لنکن کرکٹ ٹیم سری لنکن ٹیم جاری رکھنے کے ساتھ کہ سری ٹیم کا ٹیم نے ٹیم کے کے بعد
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔