پاک افغان تعلقات کے نشیب و فراز
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
پاکستان، افغانستان ہمسایہ برادر اسلامی ممالک ہیں، ہمسائے بدلے نہیں جاسکتے، لیکن 14اگست 1947میں پاکستان آزاد ہوا تو افغانستان کے سیکولر حکمرانوں نے پاکستان کو تسلیم کرنے کے بجائے مشرک ریاست ہندوستان کو دوست اور پاکستان کو اپنا دشمن سمجھا، اور ایک دہائی کے بعد پاکستان کو بطور ریاست تسلیم کیا۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی رکنیت کے لیے درخواست دی تو پاکستان کی شمولیت کے خلاف ووٹ دیا، اس دشمنی کی بنیادی وجہ ڈیورنڈ لائن کو بنایا گیاہے‘ بہر حال حکومتوں کی پالیسیاں جو بھی رہیں لیکن کلمہ طیبہ کے لڑی میں پروئے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان محبت، اخوت، رواداری اوربھائی چارے کی فضا کبھی مکدر نہیں ہوئی۔ ہر مسلمان ملک کی طرح افغانستان میں بھی سیکولر لبرلز اور مذہبی رجحان رکھنے والے لوگ رہتے ہیں۔ افغان سیکولرز اور قوم پرست روز اول سے پاکستان دشمن اور مذہبی طبقہ ہمیشہ پاکستان دوست رہا۔ مذہبی طبقے سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افغان نوجوان پاکستان بننے سے پہلے پاکستانی علماء کرام سے قرآن و حدیث سیکھنے اور اپنی علمی پیاس بجھانے پاکستان میں قیام پذیر رہتے تھے اور پاکستان بننے کے بعد لاکھوں افغان پاکستانی مدارس میں پڑھتے رہے، یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان کو دوست بلکہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔
ابتدا میں اقتدار چونکہ سیکولر لبرلز اور قوم پرستوں کے ہاتھ تھا اس لیے یہ عوامی دوستی، ریاستی دوستی میں نہیں بدل سکی، اور دونوں کے درمیان ہمیشہ سرد جنگ چلتی رہتی تھی، پاکستانی قوم پرست علیحدگی پسند کابل میں روپوش رہتے تھے اور پاکستان کے شہروں اور گاؤں دیہاتوں میں بجلی کے ٹرانسفارمرز جیسے چھوٹی موٹی تنصیبات کو بموں سے اڑاتے تھے، پشاور یونیورسٹی میں حیات محمد خان شیرپاؤ کی کرسی کے نیچے بم نصب کرکے افغانستان میں پناہ گزین قوم پرست علیحدگی پسندوں نے انھیں شہید کیا تھا، کھلی دشمنی تو نہیں رہی مگر تعلقات ہمیشہ نشیب و فراز کا شکار رہتے تھے۔
1979میں سوویت یونین افغان سیکولرز کی سازش سے افغانستان میں داخل ہوا اور وسطی ایشیائی ریاستوں کی طرح افغانستان پر قابض ہو کر قتل و غارت کا بازار گرم کیا تو مذہبی رجحان رکھنے والے پاکستان دوست افغان مجاہدین میدان عمل میں اترے۔ دنیا پر سکتہ طاری تھا مگر پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کے لیے اپنی بانہیں اور سرحدیں کھول کر کم و بیش چالیس لاکھ مہاجرین کو پناہ اور تحفظ دے کر ایثار مدینہ کی درخشندہ و تابندہ سنت کو تازہ کیا۔ صرف خیبرپختونخوا نہیں چاروں صوبوں میں افغان پناہ گزینوں کے مراکز بنا کر تعلیم، علاج، روزگار کی سہولیات مہیا کی گئیں اور ان کو صرف مہاجر کیمپس اور بستیوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ پاکستانیوں کی طرح ہر جگہ رہنے اور کاروبار کرنے کی اجازت تھی۔ جہاد افغانستان کے دوران افغانی سیکولر لبرلز قوم پرست طبقات کی پاکستان دشمنی اور مذہبی طبقے کی پاکستان دوستی اور محبت میں مزید اضافہ ہوا اور وہ یک جان دو قالب کے مصداق بن گئے۔
پاکستان کی نصرت سے مجاہدین نے جم کر روس کے خلاف لڑنا شروع کیا تو پاکستانی ان کے شانہ بشانہ لڑے، پاکستان کا ایسا کوئی گاؤں یا شہر اور شاید بلوچستان و خیبرپختونخوا کا کوئی خاندان نہیں ہوگا جس میں جہاد افغانستان میں شہید ہونے والے جوانوں کی میتیں نہ آئی ہوں، آج بھی کابل، جلال آباد، مزار شریف سمیت افغانستان کے طول و عرض میں پاکستانی شہداء کی قبروں کی موجودگی ہماری قربانیوں کی امین ہیں۔
سوویت یونین کی شکست اور انخلا کے بعد خانہ جنگی شروع ہوئی تو ملا محمد عمر نے مدارس کے طلبا کے ساتھ مل کر قیام امن کے لیے اصلاحی تحریک شروع کی، جس کے فیوض و برکات سے افغانستان میں پہلی بار پاکستان دوست حکومت قائم ہوئی تو محسوس ہوتا تھا جیسے افغانستان پاکستان کا حصہ ہے۔ مگر امریکی سرپرستی میں نیٹو افواج کی جارحیت کے نتیجے میں ایک بار پھر افغانستان میں پاکستان دشمن سیکولر لبرلز کی حکومت قائم ہوئی اور کابل میں نفرت کی لگی آگ کی تپش اسلام آباد میں محسوس ہونے لگی، ایک بار پھر عوامی اکثریت اور ایک فرد واحد کے سوا پوری اسٹیبلشمنٹ امارت اسلامیہ کے ساتھ تھی مگر اس فرد واحد کی وجہ سے غلط فہمیوں اور تعلقات میں سرد مہری کا آغاز ہوا اور افغانستان میں ہندوستان نے ایک بار پھر اپنے پنجے گاڑ لیے، پاک افغان سرحد پر 2 درجن سے زائد قونصل خانے بنا کر دہشتگرد اور قوم پرست علیحدگی پسند تنظیموں کا سپانسر بن کر بیٹھ گیا۔
20 سال افغان طالبان امریکی اور نیٹو فورسز کے ساتھ لڑتے رہے اور ہم ان کی قیادت سمیت مجاہدین کو انڈرکور امداد اور پناہ دیتے رہے، امریکی انخلاء کے لیے مذاکرات میں پاکستان نے بڑا مثبت کردار ادا کیا تو فاصلے مٹنا شروع ہوئے افغانستان پر طالبان کے دوبارہ اقتدارپر پاکستان میں بھی جشن منایا گیا مگر ہندوستان افغانستان میں موجود اپنی تنخواہ دار پاکستان دشمن دہشتگرد تنظیموں کو طالبان حکومت کے گلے ڈال کر گیا، جنھوں نے افغانستان میں داعش کے نام سے غدر مچایا اور ٹی ٹی پی کے نام سے پاکستان میں دراندازی اور دہشت گردی کا بازار گرم کرکے پاک افغان تعلقات میں بدگمانی اور بگاڑ کا ذریعہ بن گئے تو نوبت جنگ تک پہنچ گئی۔ مگر افسوس کہ ہندوستان کے اس "پاک افغان دشمن منصوبے" کو نہ افغانستان سمجھ سکا نہ پاکستان، اور نہ ہی دونوں نے اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے حکمت سے کام لیا۔ بارڈر پر کشیدگی بڑھ گئی، غیرمہذب انداز میں مہاجرین کی واپسی کا عمل تیز کر دیا گیا ۔
4 دہائیوں سے افغان مہاجرین ہمارے مہمان تھے، وہ اپنی ہجرت کو ہجرت مدینہ اور ہم اپنی میزبانی کو مواخات و ایثار مدینہ سے تشبیہ دیا کرتے تھے۔ جتنی قربانیاں ہم نے دی ہیں اصولًا تو ہر افغانی کو پاکستان کا سفیر ہونا چاہیے تھا مگر قریب آنے کی بجائے ہمارے درمیان فاصلے بڑھنے لگے تو ایک طرف طالبان حکومت کے دوبارہ قیام کے بعد ہندوستان، افغانستان میں اپنے پنجے گاڑنے لگا، اور دوسری طرف ترکیہ اور قطر کی بھرپور کوششوں اور مذاکرات کے کئی طویل ادوار کے باوجود مذاکرات کی ناکامی کا اعلان کیا گیا۔ ہر محب وطن پاکستانی اور افغان کی نظر میں مذاکرات کی ناکامی کے اعلان کے ساتھ دونوں ممالک ہار گئے اور ہندوستان و اسرائیل بغیر جنگ کیے جیت گئے۔
اگر اس کے بعد بھی ہوش کے ناخن نہیں لیے گئے تو پاکستان اپنی 40 سالہ قربانیاںاور افغانستان اپنے محسن اور دوست ہمسائے کو ہار جائے گا۔ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دراندازی زمینی حقیقت ہے اسے ہر صورت میں حکومت افغانستان کو روکنا چاہیے اگر دراندازوں کو اکیلے روکنے میں مشکل یا حالات خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو پاک افغان ادارے مل کر انھیں لگام ڈالیں، اگر افغانستان کے لیے یہ بھی مشکل ہو تو پھر پاکستان کو اجازت دیں کہ وہ خود افغانستان میں ہی ان کو نشان عبرت بنائے، اگر ان تینوں آپشنز پر افغان حکومت راضی نہیں تو پھر اس جنگ کو کیسے روکا جاسکتا ہے جس میں ایک کی جیت دونوں کی ہار اور حقیقی جیت ہندوستان اور اسرائیل کی ہوگی۔اب تک جو ہوا بہت برا ہوا مگر اب ہوش کے ناخن اور دونوں ممالک کو حکمت سے کام لینا چاہیے۔
افغانستان کے حکمران پاکستان کے جائز مطالبات کو مان کر پاکستان کی مدد کریں اور بہت ضروری ہے کہ مذاکرات میں دونوں طرف سے مصلحت پسند اور صلح جو افراد کو شامل کریں۔ ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے والوں کو مذاکرات سے دور رکھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغانستان میں سیکولر لبرلز پاکستان دشمن پاکستان دوست افغانستان کے پاکستان میں میں پاکستان پاکستان کو پاک افغان سے افغان کے ساتھ تو پاک کے بعد
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔