Islam Times:
2026-06-03@01:44:00 GMT

نام نہاد غزہ امن فورس اور پاکستان

اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT

نام نہاد غزہ امن فورس اور پاکستان

اسلام ٹائمز: جب فوج کا مینڈیٹ یہ ہوگا کہ حماس کو غیر مسلح کرنا ہے اور حماس غیر مسلح نہیں ہوگی تو طاقت استعمال کی جائے گی۔ طاقت کے استعمال کا نتیجہ باہمی جنگ ہے۔ ہمیں پاکستان کی افواج کو کسی بھی طور پر فلسطینیوں کیخلاف استعمال کیلئے نہیں بھیجنا چاہیئے۔ حماس اور فلسطینی جس معاہدے پر راضی نہ ہوں، وہ معاہدہ کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ ہمیں اپنی ریاستی پالیسی بھی اسی لائن پر بنانی چاہیئے، جس میں ہم اہل فلسطین کے مددگار ہوں، اسکے خلاف صف آراء نہ ہوں۔ اسی میں وطن عزیز اور اہل فلسطین کی بھلائی ہے۔ غزہ اور فلسطین کیلئے سوشل میڈیا پر موثر آواز پروفیسر ڈاکٹر جمیل اصغر جامی نے خوب لکھا ہے: جس قرارداد کی حمایت بیک وقت امریکہ اور اسرائیل کریں، میرے لیے اُس میں اہل غزہ کیلئے خیر پا پہلو تلاش کرنا مشکل ہے۔ خدا سے رحم کی دعا ہے۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

غزہ پر امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے کی گونج اقوام متحدہ پہنچی ہے۔ میڈیا کے مطابق اقوامِ متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل نے غزہ امن منصوبہ منظور کیا ہے۔ پاکستان سمیت سلامتی کونسل کے 13 مستقل اور غیر مستقل اراکین نے منصوبے کی حمایت کی۔ یہاں پاکستان کی حمایت کو دنیا بھر میں کافی حیرت سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ایک مضبوط موقف ہے۔ پاکستانی عوام کسی بھی صورت میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پاکستان کا ایک امریکی و اسرائیلی قرارداد کی حمایت کرنا بہت معنی رکھتا ہے۔ چین اور روس نے قرارداد کو ویٹو نہیں کیا، تاہم اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ووٹنگ سے غیر حاضر رہے، چین اور روس نے کہا منصوبے میں دو ریاستی حل، غزہ کی مستقل حکمرانی اور عالمی فورس کے دائرہ کار سے متعلق ابہام ہے۔ اقوام متحدہ میں چینی مندوب ایلچی فوکونگ نے کہا کہ منصوبے میں دو ریاستی حل اور غزہ کی فلسطینی حکمرانی اور بین الاقوامی فورس کے دائرہ کار اور ڈھانچے سے متعلق ابہام ہے۔

اسی طرح اقوام متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نیبنزیا نے بھی امن فورس پر اعتراضات اٹھائے، نیبنزیا نے مزید کہا اہم بات یہ ہے کہ یہ دستاویز، امریکا کی جانب سے اسرائیل میں، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کیے جانے والے بے لگام تجربات کے لئے پردہ نہیں بننی چاہیئے۔ روس اور چین نے بہت ہی بنیادی نکات اٹھائے ہیں، یہ کیسا معاہدہ ہے، جس میں اتنی قربانیوں کے بعد بھی فلسطینی ریاست کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی یقین دہانی نہیں کروائی گئی۔؟ اس میں اسرائیل کے تحفظ کی ہی یقین دہانی کروائی گئی ہے اور فلسطینیوں کو اسرائیل کے بجائے دوسری فورسز سے گھیرنے کا پروگرام لگتا ہے۔ فلسطینی انسان ہیں اور ان پر حکمرانی کا کسی بھی بین الاقوامی اصول و ضابطے کے مطابق کسی دوسرے کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ یہاں تو ایک طاقتور گروہ کو جبراً حکمران بنا دیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ معاہدہ ہی ابہام کا شکار ہے۔ اسرائیل تمام معاہدوں میں ابہام رکھتا ہے، تاکہ بعد میں اپنی مرضی کی تشریح کر لی جاتی ہے اور طاقت کے زور پر اسے نافذ کر دیا جاتا ہے۔

اس حوالے سے حماس کی رائے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ حماس نے کہا ہے کہ قرارداد فلسطینیوں کے جائز حقوق پورے نہیں کرتی، یہ فلسطینیوں کے حقوق اور مطالبات پوری نہیں کرتی اور غزہ پر ایک بین الاقوامی سرپرستی مسلط کرنے کی کوشش ہے، جسے فلسطینی عوام قبول نہیں کرتے۔ حماس نے کہا ہے کہ بین الاقوامی فورس کو غزہ کے اندر دیئے گئے کام، جن میں مزاحمت کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے، اس کی غیر جانبداری کو ختم کر دیتے ہیں اور اسے تنازع کا حصہ بنا دیتے ہیں، جو بالآخر قابض (اسرائیل) کے حق میں جاتا ہے۔ حماس کی قیادت کی اس رائے میں بہت وزن ہے۔ جب قرارداد میں طے کر دیا گیا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنا ہے اور وہ غیر مسلح ہونے کے لیے کسی بھی طور پر تیار نہیں ہے، کیونکہ غیر مسلح فلسطینیوں کو اسرائیل گاجر مولی کی طرح کاٹ دے گا۔ یہ اسرائیل اور امریکہ کی درینہ خواہش ہے کہ تمام فلسطینی غیر مسلح ہو جائیں اور ساری طاقت و اختیار اسرائیلیوں کے پاس ہو۔ اس طرح فلسطینی ریاست کا مطالبہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا قرارداد کی منظوری تاریخی لمحہ ہے، امن کونسل کی صدارت خود کرونگا۔ لگ یوں رہا ہے کہ غزہ کو ریزورٹ بنانے کی خواہش کہیں نہ کہیں موجود ہے اور جب بات طاقت سے نہیں بن پائی تو اب مذاکرات کی میز پر ہاری جنگ جیتنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ ان حالات کے تناظر میں معروف صحافی ندیم ملک نے پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف سے سوال پوچھا کہ کیا پاکستان فوج غزہ جا رہی ہے۔؟ اس حوالے سے پاکستانی قوم کی جذباتی وابستگی ہے اور امریکہ کا سعودی عرب سے مطالبہ رہا ہے کہ وہ ابراہیم اکارڈ کا حصہ بنے تو کیا اب پاکستان بھی اس اکارڈ کا حصہ بننے جا رہا ہے۔؟ خواجہ آصف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فوج کو جانا چاہیئے اور اس میں ہماری مسئلہ فلسطین سے جذباتی وابستگی کا بھی یہی تقاضا ہے، تاکہ ہم کسی بھی طرح سے غزہ اور فلسطین کے بھائیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کچھ کرسکیں۔ جہاں تک ابراہم اکارڈ کا تعلق ہے تو پاکستان ابراہم اکارڈ میں جانے کا نہیں سوچ رہا، ابراہم اکارڈ سے متعلق پاکستان کا مؤقف باکل واضح ہے، دو ریاستی حل تک پاکستان کے مؤقف میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔

خواجہ صاحب کی یہ سوچ اچھی ہے کہ ہم فلسطینیوں کے لیے کوئی اچھا اور بہتر کردار ادا کرسکیں اور اس کے لیے فوج بھیجنے کی بات کر رہے ہیں۔ خواجہ صاحب جس معاہدے کے تحت فوج بھیجنے کی بات ہو رہی ہے، وہ تو کچھ اور بتا رہا ہے۔ اس کے مطابق تو پاکستانی فوج اسرائیل کی بجائے فلسطینیوں سے لڑوانے کی سازش لگ رہی ہے۔ جب فوج کا مینڈیٹ یہ ہوگا کہ حماس کو غیر مسلح کرنا ہے اور حماس غیر مسلح نہیں ہوگی تو طاقت استعمال کی جائے گی۔ طاقت کے استعمال کا نتیجہ باہمی جنگ ہے۔ ہمیں پاکستان کی افواج کو کسی بھی طور پر فلسطینیوں کے خلاف استعمال کے لیے نہیں بھیجنا چاہیئے۔ حماس اور فلسطینی جس معاہدے پر راضی نہ ہوں، وہ معاہدہ کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ ہمیں اپنی ریاستی پالیسی بھی اسی لائن پر بنانی چاہیئے، جس میں ہم اہل فلسطین کے مددگار ہوں، اس کے خلاف صف آراء نہ ہوں۔ اسی میں وطن عزیز اور اہل فلسطین کی بھلائی ہے۔ غزہ اور فلسطین کے لیے سوشل میڈیا پر موثر آواز پروفیسر ڈاکٹر جمیل اصغر جامی نے خوب لکھا ہے: جس قرارداد کی حمایت بیک وقت امریکہ اور اسرائیل کریں، میرے لیے اُس میں اہل غزہ کے لیے خیر پا پہلو تلاش کرنا مشکل ہے۔ خدا سے رحم کی دعا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کو غیر مسلح کرنا کسی بھی طور پر بین الاقوامی فلسطینیوں کے قرارداد کی اور فلسطین اہل فلسطین پاکستان کی فلسطین کے کی حمایت حوالے سے رہی ہے رہا ہے نے کہا کے لیے اور اس ہے اور نہ ہوں

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان