نام نہاد غزہ امن فورس اور پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: جب فوج کا مینڈیٹ یہ ہوگا کہ حماس کو غیر مسلح کرنا ہے اور حماس غیر مسلح نہیں ہوگی تو طاقت استعمال کی جائے گی۔ طاقت کے استعمال کا نتیجہ باہمی جنگ ہے۔ ہمیں پاکستان کی افواج کو کسی بھی طور پر فلسطینیوں کیخلاف استعمال کیلئے نہیں بھیجنا چاہیئے۔ حماس اور فلسطینی جس معاہدے پر راضی نہ ہوں، وہ معاہدہ کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ ہمیں اپنی ریاستی پالیسی بھی اسی لائن پر بنانی چاہیئے، جس میں ہم اہل فلسطین کے مددگار ہوں، اسکے خلاف صف آراء نہ ہوں۔ اسی میں وطن عزیز اور اہل فلسطین کی بھلائی ہے۔ غزہ اور فلسطین کیلئے سوشل میڈیا پر موثر آواز پروفیسر ڈاکٹر جمیل اصغر جامی نے خوب لکھا ہے: جس قرارداد کی حمایت بیک وقت امریکہ اور اسرائیل کریں، میرے لیے اُس میں اہل غزہ کیلئے خیر پا پہلو تلاش کرنا مشکل ہے۔ خدا سے رحم کی دعا ہے۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
غزہ پر امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے کی گونج اقوام متحدہ پہنچی ہے۔ میڈیا کے مطابق اقوامِ متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل نے غزہ امن منصوبہ منظور کیا ہے۔ پاکستان سمیت سلامتی کونسل کے 13 مستقل اور غیر مستقل اراکین نے منصوبے کی حمایت کی۔ یہاں پاکستان کی حمایت کو دنیا بھر میں کافی حیرت سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ایک مضبوط موقف ہے۔ پاکستانی عوام کسی بھی صورت میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پاکستان کا ایک امریکی و اسرائیلی قرارداد کی حمایت کرنا بہت معنی رکھتا ہے۔ چین اور روس نے قرارداد کو ویٹو نہیں کیا، تاہم اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ووٹنگ سے غیر حاضر رہے، چین اور روس نے کہا منصوبے میں دو ریاستی حل، غزہ کی مستقل حکمرانی اور عالمی فورس کے دائرہ کار سے متعلق ابہام ہے۔ اقوام متحدہ میں چینی مندوب ایلچی فوکونگ نے کہا کہ منصوبے میں دو ریاستی حل اور غزہ کی فلسطینی حکمرانی اور بین الاقوامی فورس کے دائرہ کار اور ڈھانچے سے متعلق ابہام ہے۔
اسی طرح اقوام متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نیبنزیا نے بھی امن فورس پر اعتراضات اٹھائے، نیبنزیا نے مزید کہا اہم بات یہ ہے کہ یہ دستاویز، امریکا کی جانب سے اسرائیل میں، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کیے جانے والے بے لگام تجربات کے لئے پردہ نہیں بننی چاہیئے۔ روس اور چین نے بہت ہی بنیادی نکات اٹھائے ہیں، یہ کیسا معاہدہ ہے، جس میں اتنی قربانیوں کے بعد بھی فلسطینی ریاست کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی یقین دہانی نہیں کروائی گئی۔؟ اس میں اسرائیل کے تحفظ کی ہی یقین دہانی کروائی گئی ہے اور فلسطینیوں کو اسرائیل کے بجائے دوسری فورسز سے گھیرنے کا پروگرام لگتا ہے۔ فلسطینی انسان ہیں اور ان پر حکمرانی کا کسی بھی بین الاقوامی اصول و ضابطے کے مطابق کسی دوسرے کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ یہاں تو ایک طاقتور گروہ کو جبراً حکمران بنا دیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ معاہدہ ہی ابہام کا شکار ہے۔ اسرائیل تمام معاہدوں میں ابہام رکھتا ہے، تاکہ بعد میں اپنی مرضی کی تشریح کر لی جاتی ہے اور طاقت کے زور پر اسے نافذ کر دیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے حماس کی رائے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ حماس نے کہا ہے کہ قرارداد فلسطینیوں کے جائز حقوق پورے نہیں کرتی، یہ فلسطینیوں کے حقوق اور مطالبات پوری نہیں کرتی اور غزہ پر ایک بین الاقوامی سرپرستی مسلط کرنے کی کوشش ہے، جسے فلسطینی عوام قبول نہیں کرتے۔ حماس نے کہا ہے کہ بین الاقوامی فورس کو غزہ کے اندر دیئے گئے کام، جن میں مزاحمت کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے، اس کی غیر جانبداری کو ختم کر دیتے ہیں اور اسے تنازع کا حصہ بنا دیتے ہیں، جو بالآخر قابض (اسرائیل) کے حق میں جاتا ہے۔ حماس کی قیادت کی اس رائے میں بہت وزن ہے۔ جب قرارداد میں طے کر دیا گیا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنا ہے اور وہ غیر مسلح ہونے کے لیے کسی بھی طور پر تیار نہیں ہے، کیونکہ غیر مسلح فلسطینیوں کو اسرائیل گاجر مولی کی طرح کاٹ دے گا۔ یہ اسرائیل اور امریکہ کی درینہ خواہش ہے کہ تمام فلسطینی غیر مسلح ہو جائیں اور ساری طاقت و اختیار اسرائیلیوں کے پاس ہو۔ اس طرح فلسطینی ریاست کا مطالبہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا قرارداد کی منظوری تاریخی لمحہ ہے، امن کونسل کی صدارت خود کرونگا۔ لگ یوں رہا ہے کہ غزہ کو ریزورٹ بنانے کی خواہش کہیں نہ کہیں موجود ہے اور جب بات طاقت سے نہیں بن پائی تو اب مذاکرات کی میز پر ہاری جنگ جیتنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ ان حالات کے تناظر میں معروف صحافی ندیم ملک نے پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف سے سوال پوچھا کہ کیا پاکستان فوج غزہ جا رہی ہے۔؟ اس حوالے سے پاکستانی قوم کی جذباتی وابستگی ہے اور امریکہ کا سعودی عرب سے مطالبہ رہا ہے کہ وہ ابراہیم اکارڈ کا حصہ بنے تو کیا اب پاکستان بھی اس اکارڈ کا حصہ بننے جا رہا ہے۔؟ خواجہ آصف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فوج کو جانا چاہیئے اور اس میں ہماری مسئلہ فلسطین سے جذباتی وابستگی کا بھی یہی تقاضا ہے، تاکہ ہم کسی بھی طرح سے غزہ اور فلسطین کے بھائیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کچھ کرسکیں۔ جہاں تک ابراہم اکارڈ کا تعلق ہے تو پاکستان ابراہم اکارڈ میں جانے کا نہیں سوچ رہا، ابراہم اکارڈ سے متعلق پاکستان کا مؤقف باکل واضح ہے، دو ریاستی حل تک پاکستان کے مؤقف میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔
خواجہ صاحب کی یہ سوچ اچھی ہے کہ ہم فلسطینیوں کے لیے کوئی اچھا اور بہتر کردار ادا کرسکیں اور اس کے لیے فوج بھیجنے کی بات کر رہے ہیں۔ خواجہ صاحب جس معاہدے کے تحت فوج بھیجنے کی بات ہو رہی ہے، وہ تو کچھ اور بتا رہا ہے۔ اس کے مطابق تو پاکستانی فوج اسرائیل کی بجائے فلسطینیوں سے لڑوانے کی سازش لگ رہی ہے۔ جب فوج کا مینڈیٹ یہ ہوگا کہ حماس کو غیر مسلح کرنا ہے اور حماس غیر مسلح نہیں ہوگی تو طاقت استعمال کی جائے گی۔ طاقت کے استعمال کا نتیجہ باہمی جنگ ہے۔ ہمیں پاکستان کی افواج کو کسی بھی طور پر فلسطینیوں کے خلاف استعمال کے لیے نہیں بھیجنا چاہیئے۔ حماس اور فلسطینی جس معاہدے پر راضی نہ ہوں، وہ معاہدہ کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ ہمیں اپنی ریاستی پالیسی بھی اسی لائن پر بنانی چاہیئے، جس میں ہم اہل فلسطین کے مددگار ہوں، اس کے خلاف صف آراء نہ ہوں۔ اسی میں وطن عزیز اور اہل فلسطین کی بھلائی ہے۔ غزہ اور فلسطین کے لیے سوشل میڈیا پر موثر آواز پروفیسر ڈاکٹر جمیل اصغر جامی نے خوب لکھا ہے: جس قرارداد کی حمایت بیک وقت امریکہ اور اسرائیل کریں، میرے لیے اُس میں اہل غزہ کے لیے خیر پا پہلو تلاش کرنا مشکل ہے۔ خدا سے رحم کی دعا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کو غیر مسلح کرنا کسی بھی طور پر بین الاقوامی فلسطینیوں کے قرارداد کی اور فلسطین اہل فلسطین پاکستان کی فلسطین کے کی حمایت حوالے سے رہی ہے رہا ہے نے کہا کے لیے اور اس ہے اور نہ ہوں
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔