ملتان سلطانز نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے خلاف عدالت جانے کا عندیہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز ملتان سلطانز نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور پی ایس ایل انتظامیہ کی جانب سے مکمل طور پر رابطہ منقطع کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے فرنچائز کو اپنے اگلے اقدامات خود عوام کے سامنے لانے پڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان سلطانر کا پی ایس ایل میں سفر اختتام پذیر، پی سی بی نے کنٹریکٹ میں شامل نہیں کیا
ملتان سلطانز کے مالک علی خان ترین نے ایکس پر شیئر کیے گئے ایک پیغام میں کہا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پی ایس ایل مینجمنٹ کو متعدد ای میلز بھیجی گئیں جن میں ٹیم کی ویلیوایشن اور رینیوئل لیٹر کا مطالبہ کیا گیا تاہم ان کا کوئی جواب نہیں ملا۔
ملتان سلطانز کا کہنا ہے کہ نہ صرف ای میلز بلکہ اس کے لیگل نوٹس اور چیئرمین پی سی بی کو بھیجے گئے خط کا بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
مزید پڑھیے: ملتان سلطانز کے علی ترین کا پی سی بی کو دوٹوک جواب، لیگل نوٹس پھاڑ دیا
فرنچائز کے مطابق دیگر ٹیموں کے نمائندے بھی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ملتان سلطانز کو ویلیوایشن و رینیوئل کے عمل میں شامل کیوں نہیں کیا جا رہا لیکن اس حوالے سے بھی کوئی وضاحت موصول نہیں ہوئی۔
https://x.
علی خان ترین نے سوال اٹھایا کہ پسِ پردہ بات چیت کیسے ہو جب سامنے والا بات چیت کرنے کو تیار ہی نہیں؟
مزید پڑھیں: پی سی بی کی جانب سے پابندی پر ملتان سلطانز کا مؤقف سامنے آگیا
ملتان سلطانز نے کہا ہے کہ یہ مسئلہ خفیہ طور پر حل ہونا چاہیے تھا مگر پی ایس ایل مینجمنٹ کی جانب سے مسلسل خاموشی کی وجہ سے انہیں یہ معاملہ کھلے عام اٹھانا پڑ رہا ہے۔
قانونی کارروائی سے خبردارعلی خان ترین نے خبردار کیا کہ اگر پی سی بی اور پی ایس ایل مینجمنٹ کا یہی رویہ برقرار رہا تو پھر ہمیں قانونی کارروائی کرنی پڑے گی جو کہ ان کے بقول آخری اور ناپسندیدہ آپشن ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ چائے بسکٹ پر بھی حل ہوسکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: پی سی بی نے ملتان سلطانز کو معطل کردیا، آئندہ سیزن میں شرکت خطرے میں، سبب کیا بنا؟
انہوں نے صورتحال کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تنازعہ انتہائی آسانی سے معمول کے مکالمے کے ذریعے حل ہو سکتا تھا مگر کمزور انا نے سادہ معاملات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ان کے مطابق حالات کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ معاملہ جلد حل نہیں ہوگا تاہم وہ اب بھی امید رکھتے ہیں کہ بہتر فیصلے سامنے آئیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان کرکٹ بورڈ پی ایس ایل علی خان ترین ملتان سلطانز ملتان سلطانز کا قانونی کارروائی کا فیصلہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان کرکٹ بورڈ پی ایس ایل علی خان ترین ملتان سلطانز ملتان سلطانز علی خان ترین پی ایس ایل پی سی بی
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔