شام :بشار الاسد کے فرار کے بعد پہلی بار روسی وفد کی آمد
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں اسدی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی بار روس اور ترکیہ کے عہدے داروں پر مشتمل وفد نے دمشق کا دورہ کیا۔ وفد میں 25 گاڑیاں تھیں جن میں جنرل سیکورٹی اور پولیس بھی شامل تھی۔ ابتدائی طور پر فوجی وفد قنیطرہ صوبے پہنچا،جس کے بعد وفد تلول الحمر کی طرف گیا جو بیت جن قصبے کے مغرب میں واقع ہے اور جو پہلے ایک روسی فوجی چوکی تھی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق وفد نے ان بعض فوجی مقامات کا معائنہ کیا جو سابق حکومت کے دور میں روسی افواج کے ہیڈ کوارٹر تھے۔ جن علاقوں سے وفد گزرا وہاں شامی جنرل سیکوٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔