امریکی تاریخ کا طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن ختم، ٹرمپ نے بل پر دستخط کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کے روز قانون پر دستخط کرکے 43 دن کی سب سے طویل امریکی حکومتی بندش ختم کر دی۔ ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز نے بل کو 222 کے مقابلے میں 209 ووٹوں سے منظور کیا۔
مزید پڑھیں:امریکی سینیٹ میں فنڈنگ بل منظور، طویل شٹ ڈاؤن ختم ہونے کا امکان
اس قانون کے تحت وفاقی ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جائیں گی، خوراک کی امداد بحال ہوگی اور ایئر ٹریفک کنٹرول سسٹم دوبارہ فعال ہوگا۔
فنڈنگ 30 جنوری تک بڑھائی گئی ہے، جس سے وفاقی قرض میں مزید 1.
مزید پڑھیں: امریکا میں شٹ ڈاؤن سے زندگی مفلوج، 1500 سے زائد پروازیں منسوخ
معاشی اور عوامی خدمات کی بحالی کے ساتھ ہی تعطیلات کے موسم میں سفر اور خریداری کے لیے سہولت بھی بحال ہو جائے گی۔ تاہم صحت انشورنس سبسڈی کے معاملے پر ہاؤس میں کوئی فوری حل نہیں دیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی تاریخ کا طویل ترین ٹرمپ شٹ ڈاؤن صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن صدر ڈونلڈ ٹرمپ شٹ ڈاؤن
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔