عارضی فنڈنگ بل کی منظوری سے یکم اکتوبر سے جاری طویل ترین شٹ ڈاؤن ختم ہوگیا، جس کے باعث لاکھوں سرکاری ملازمین کو تنخواہوں سے محروم ہونا پڑا اور متعدد وفاقی اداروں کی سرگرمیاں مفلوج ہوگئی تھیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی تاریخ کا سب سے طویل سرکاری شٹ ڈاؤن آخرکار ختم ہوگیا ہے۔ سینیٹ کے بعد ایوان نمائندگان نے بھی حکومتی اخراجات سے متعلق بل منظور کرلیا، جس کے بعد حکومتی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہو جائیں گی۔ امریکی میڈیا کے مطابق ایوان نمائندگان میں 6 ڈیموکریٹس سمیت 222 ارکان نے بل کی حمایت میں ووٹ دیا، جبکہ 2 ریپبلکن سمیت 209 ارکان نے مخالفت کی۔ بل اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ عارضی فنڈنگ بل کی منظوری سے یکم اکتوبر سے جاری طویل ترین شٹ ڈاؤن ختم ہوگیا، جس کے باعث لاکھوں سرکاری ملازمین کو تنخواہوں سے محروم ہونا پڑا اور متعدد وفاقی اداروں کی سرگرمیاں مفلوج ہوگئی تھیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اس بل کے تحت حکومت کے لیے 30 جنوری تک فنڈز فراہم کیے جا سکیں گے، تاکہ مالی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں۔ بل کا مقصد غذائی امدادی اسکیموں کی بحالی، تنخواہوں کی ادائیگی اور ائیر ٹریفک کنٹرول نظام کی مکمل بحالی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ اقدام امریکی قانون سازوں کی جانب سے طویل مالی بحران کے خاتمے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شٹ ڈاؤن

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور