یمن (ویب ڈیسک) حوثیوں نے اسرائیل اور ان کے مغربی اتحادیوں کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں 17 افراد کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت پر عمل درآمد کرلیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثی میڈیا نے بتایا کہ یمن کے دارالحکومت صنعا میں قائم خصوصی فوجداری عدالت نے 17 افراد کو سزائے موت سنائی تھی، جن پر امریکا، اسرائیل اور سعودی خفیہ اداروں سے منسلک جاسوسی کے نیٹ ورک کے اندر قائم جاسوسی سیل سے جڑے مقدمات قائم تھے۔

یمن کے سرکاری خبر رساں اداروں نے بتایا کہ عدالت نے 17 افراد کو پھانسی کی سزا سنائی تھی اور سرعام پر عمل درآمد کا حکم دیا تھا اور متعدد افراد کے نام بھی جاری کردیے گئے ہیں۔

عدالت نے ایک خاتون اور مرد کو 10 سال قید کی سزا سنائی ہے جبکہ ایک اور شخص کو الزامات سے بری کردیا ہے اور ٹرائل میں مجموعی طور پر 20 افراد شامل تھے۔

مقامی میڈیا نے بتایا کہ پراسیکیوٹر نے الزام عائد کیا تھا کہ یمن میں موجود یہ افراد نے 2024 اور 2025 کے دوران دوسرے ممالک کے لیے جاسوسی کر رہے تھے، ان ممالک میں برطانیہ بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے اپنے انٹیلیجینس افسران مذکورہ یمنی شہریوں سے رابطے میں تھے اور ان کی اطلاعات کی بنیاد پر متعدد عسکری، سیکیورٹی اور شہری مقامات پر حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں درجنوں شہری شہید ہوئے اور کئی عمارتیں تباہ ہوئیں۔

امریکا اور برطانیہ نے بھی اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد یمن کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے اور کئی شہری مارے گئے جبکہ حوثیوں نے فلسطینیوں سے یک جہتی کے طور پر اسرائیل اور بحیرہ احمر پر میں بین الاقوامی بحری راستوں پر پر حملے کیے تھے۔

یمن کے حوثیون نے گزشتہ ماہ ہونے والی غزہ جنگ بندی کے بعد حملے روک دیے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: افراد کو یمن کے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق