ویتنام میں موسلادھار بارشیں اور لینڈ سلائیڈنگ، کم از کم 90 افراد ہلاک، لاکھوں متاثر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
ویتنام کے وسطی علاقوں میں شدید موسلادھار بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم 90 افراد ہلاک اور 12 لاپتا ہو گئے ہیں، حکام نے اتوار کو بتایا۔
The human toll from the relentless floods across Việt Nam’s central and Central Highlands regions has surpassed 100 people dead or missing (+34 from the day before).
— Việt Nam News (@VietnamNewsVNS) November 23, 2025
حکومت کے مطابق ملک بھر میں 186,000 سے زائد گھر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ تین ملین سے زیادہ مویشی بہا دیے گئے ہیں۔
انتظامیہ کا اندازہ ہے کہ اقتصادی نقصان کروڑوں پاونڈز تک پہنچ گیا ہے، کیونکہ سیلابی پانی نے قصبے ڈبو دیے، فصلیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ کیا اور ہزاروں گھروں کی بجلی منقطع کر دی۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں سیلاب متاثرین کے لیے 6 ارب 39 کروڑ روپے کی تقسیم کا آغاز
پہاڑی صوبہ ڈک لاک میں سب سے زیادہ نقصان ہوا، جہاں 16 نومبر سے اب تک 60 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ شدید موسمی صورتحال ویتنام میں انسانی وجہ سے ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کی شدت کا تازہ ثبوت ہے، جو طوفان کالمیگی اور بوالوئی کے بعد پیش آئی ہے۔
اتوار کی صبح تک تقریباً 258,000 افراد بجلی سے محروم تھے اور اہم شاہراہیں اور ریلوے لائنیں سیلاب یا لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بلاک ہو گئی تھیں۔ فوج اور پولیس کے یونٹس سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
سب سے زیادہ شدید اثرات پانچ صوبوں میں دیکھنے میں آئے، کوانگ نگی، گیا لائی، ڈک لاک، کان ہوآ اور لام ڈونگ، جو ویتنام کے جنوب وسطی حصے میں واقع ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی طرف سے ویتنام کو ’فاسٹنگ بدھا‘ کے تاریخی مجسمہ کا تحفہ
مقامی باشندوں نے تباہ کاری کے مناظر بیان کیے۔ ڈک لاک کے کسان ماچ وان سی نے کہا کہ ہمارا محلہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ کچھ بھی نہیں بچا۔ ہر چیز کیچڑ میں ڈوب گئی ہے۔
وزیر اعظم فام منھ چنھ نے جنوبی افریقہ سے ہنگامی ورچوئل اجلاس کی صدارت کی، جہاں وہ جی 20 سمٹ میں شریک تھے۔ کچھ علاقوں میں گزشتہ دنوں بارش کا مجموعہ 1.5 میٹر سے تجاوز کر گیا، جبکہ کئی علاقوں میں 5.2 میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جو 1993 کے بعد کا سب سے زیادہ سطح ہے۔
موسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ویتنام شدید موسمی حالات کے لیے زیادہ حساس ہو رہا ہے، کیونکہ انسانی وجہ سے ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں نے طوفانوں کی شدت اور تکرار میں اضافہ کر دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سب سے زیادہ علاقوں میں
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
پشاور:خیبر پختونخوا میں 19 جولائی سے اب تک ہونے والی تیز بارشوں اور فلش فلڈ سے گھروں کی چھتیں و دیواریں گرنے اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے کے باعث 28 افراد جاں بحق اور 29 افراد زخمی ہوگئے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مجموعی طور پر جاں بحق افراد میں 10 مرد، 15 بچے اور 3 خواتین جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، 9 خواتین اور 7 بچے شامل ہیں۔ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 47 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 37 گھروں کو جزوی اور 10 گھر مکمل منہدم ہوئے۔
حادثات صوبے کے مختلف اضلاع پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال اپر و لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، کوہستان اپر، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد امدادی سامان فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عوام سےاپیل کی جاتی ہے کہ بلا وجہ سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگاہی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔