’آٹزم کا شکار بچے کو پلے ایریا میں جانے سے روک دیا گیا‘، ماں کا احتجاج، صارفین برہم
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک خاتون نے الزام عائد کیا کہ کراچی کے ڈولمن مال کی انتظامیہ نے ان کے خصوصی بچے کو پلے ایریا میں داخلے سے روک دیا۔ خاتون کے مطابق ان کا 9 سالہ بیٹا آٹزم کا شکار ہے، تاہم مال کے پلے ایریا میں 5 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کے داخلے پر پابندی ہے۔
خاتون کا کہنا تھا کہ عملے نے نہ صرف ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا بلکہ جب انہوں نے ٹکٹ کی رقم واپس کرنے کا مطالبہ کیا تو اسے بھی مسترد کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو بڑے پلے ایریا میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتیں تاکہ وہ کسی دوسرے بچے کو پریشان نہ کرے، لیکن انتظامیہ نے تعاون سے انکار کر دیا۔ خاتون نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا بچہ وہاں جا کر کون سی دہشتگردی کر دے گا‘؟
خاتون کا دعوی، ان کے خصوصی بچے کو پلے ایریا میں مال کی انتظامیہ نے جانے سے روکا اور اجازت نہیں دی۔ pic.
— صحرانورد (@Aadiiroy2) November 25, 2025
انہوں نے مزید کہا کہ اس پر نوٹس لینے کی ضرورت ہے کیونکہ ایسے خصوصی بچوں کے لیے نہ تو پبلک پارکس میں کوئی جگہ ہے اور نہ ہم انہیں مالز میں لے کر جا سکتے ہیں تو ہم اپنے بچوں کو کہاں لے کر جائیں۔
صارفین نے اس واقعہ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی بچوں کے ساتھ ایسا رویہ ناقابلِ قبول ہے۔ کئی صارفین نے اپنے بچوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات بھی بتائے کہ کس طرح معاشرہ انہیں قبول نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں: آٹزم پیدا ہونے کی وجہ اور اس کا جینیاتی راز کیا ہے؟
اداکارہ جویریہ سعود نے واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال اس بات پر سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ معاشرہ کب اس سطح تک پہنچے گا جہاں آٹزم کے شکار بچوں اور ان کے والدین کی حقیقی مشکلات کو سمجھا جا سکے۔ ان کے مطابق افسوس ناک بات یہ ہے کہ آج بھی بہت سے لوگ ایسے بچوں کی ضرورتوں، والدین کی محنت اور ان کی جدوجہد کا احساس نہیں رکھتے۔
View this post on Instagram
A post shared by DIVA Magazine Pakistan (@divamagazinepakistan)
آٹزم کیا ہے؟آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر یا اے ایس ڈی ساری عمر رہنے والی ایک ایسی بیماری ہے جس میں مریض کا لوگوں سے بات کرنا متاثر ہوتا ہے۔ انسان کی ذہنی استعداد کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے تاہم یہ مختلف افراد میں مختلف سطح پر ہوتا ہے کبھی یہ کم اور کبھی بہت زیادہ متاثر کرتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں ہر 160 میں سے ایک بچہ آٹزم کا شکار ہوتا ہے لیکن اگر ہم اس مرض کی تشخیص کے حوالے سے دیکھیں تو اس میں مرد و خواتین میں تعداد کے اعتبار سے بہت فرق نظر آتا ہے۔
برطانیہ میں سرکاری اعدادو شمار کے مطابق تقریباً 7 لاکھ افراد آٹزم کا شکار ہیں، صنفی تناسب سے تقریباً ہر 10 مردوں کے مقابلے ایک خاتون اس کا شکار ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں کی جانے والی دیگر تحقیقات کے مطابق یہ تناسب 1:16 ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹزم آٹزم کا شکار بچہ آٹزم کی وجوہات آٹزم کیا ہے کلفٹن مال
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ٹزم کا شکار بچہ ا ٹزم کی وجوہات ا ٹزم کیا ہے پلے ایریا میں آٹزم کا شکار ٹزم کا شکار کے مطابق بچوں کے ہوتا ہے بچے کو کہا کہ
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔