کشمیر ٹائمز پر چھاپہ جموں و کشمیر میں آزادی صحافت کے لئے بڑھتی ہوئی مشکلات کا عکاس ہے، سی اے ایس آر
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
انورادھابھسین پہلے بھی کشمیر میں آزادی صحافت پر پابندیوں پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں شہری حقوق کی مختلف تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم ”کمپین اگینسٹ سٹیٹ رپریشن” نے جموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر ریاستی تحقیقاتی ادارے کے حالیہ چھاپے اور اس کی ایگزیکٹیو ایڈیٹر اور غیر جانبدار صحافی انورادھا بھسین کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کی شدید مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق سی اے ایس آر نے ایک بیان میں انورادھابھسین کے خلاف کارروائی کو پریشان کن اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے جابرانہ اقدامات جموں و کشمیر میں صحافیوں کو درپیش ہراسانی کی عکاسی کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد تنقیدی اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرانا ہے۔ انورادھابھسین پہلے بھی کشمیر میں آزادی صحافت پر پابندیوں پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔ سی اے ایس آر نے کہا کہ ان کی کتاب ‘A Dismantled State: The Untold Story of Kashmir After Article 370’ جس میں جموں و کشمیر میں میڈیا اور شہری آزادیوں پر پابندیوں کو اجاگر کیا گیا ہے کے باعث انہیں عوامی تقریبات میں پابندیوں سمیت رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تنظیم نے کہا کہ ان کے صحافتی اور ادبی کام کی بار بار چھان بین سے انتقامی کارروائی کا تاثر ملتا ہے۔ بیان میں صحافیوں کے خلاف تلاشی کارروائیوں، ایف آئی آرز، آلات کی ضبطگی، سفری پابندیوں اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA)، نیشنل سکیورٹی ایکٹ (NSA) اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام جیسے کالے قوانین کے تحت گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس واقعے کو کشمیر میں صحافت کے لیے بڑھتی ہوئی مشکلات کا عکاس قرار دیا گیا ہے۔
تنظیم نے صحافیوں کے خلاف جابرانہ کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرنے، جموں و کشمیر میں صحافیوں کے تحفظ، اشاعتوں اور عوامی تقریبات پر پابندیوں کو ختم کرنے اور آزادی اظہار اور آزادی صحافت کی آئینی ضمانتوں کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے جموں و کشمیر میں نظربند صحافیوں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔ سی اے ایس آر نے اس اقدام کو جموں و کشمیر کے قدیم ترین اخبارات میں سے ایک کشمیر ٹائمز کی اشاعت کو روکنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق گروپوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ ان واقعات کے خلاف آواز اٹھائیں۔ سی اے ایس آر سے وابستہ تنظیموں AIRSO, AISA, AISF, APCR, ASA, BASF, CEM, CRPP, DTF, IAPL, ،NAPM, NTUI, SFISS, UNAP, RAISS.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سی اے ایس آر پر پابندیوں آزادی صحافت کے خلاف
پڑھیں:
بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:
بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔
یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔
اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔
ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔
اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔