بھارت اور اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں یکساں طرز کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں، محمد صفی
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
لاہور میں خطاب کرتے ہوئے حریت رہنما کا کہنا تھا کہ بھارت غیر کشمیریوں کو بڑے پیمانے پر ڈومیسائل جاری کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تناسب تبدیل کرنے کی کھلی کوشش کر رہا ہے، اس نے انتخابی حلقہ بندیوں میں سیاسی مقاصد کے تحت تبدیلیاں کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں قابض قوتیں ایک ہی طرز کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں، جس میں آبادیاتی تبدیلی، فوجی محاصرہ، سیاسی آزادیوں کی بندش، میڈیا پر قدغن اور مزاحمت کو دہشت گردی کے نام پر بدنام کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق غلام محمد صفی نے لاہور میں جماعتِ اسلامی کے سہہ روزہ اجتماع کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت غیر کشمیریوں کو بڑے پیمانے پر ڈومیسائل جاری کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تناسب تبدیل کرنے کی کھلی کوشش کر رہا ہے، اس نے انتخابی حلقہ بندیوں میں سیاسی مقاصد کے تحت تبدیلیاں کی ہیں، مقامی قیادت اور نوجوانوں کو مسلسل گرفتار کیا ہے اور اظہارِ رائے، مذہبی آزادی اور بنیادی شہری حقوق کو مکمل طور پر پامال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات جنوبی ایشیا کے اسٹریٹیجک توازن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ غلام محمد صفی نے بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ریاستیں مقبوضہ علاقوں میں یکساں طرز کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں، جن میں حریت اور حق خودارادیت کو جرم بنانا، ریاستی جبر مسلط کرنا اور عوامی مزاحمت کو دبانے کے لیے جدید اسلحے، سکیورٹی سسٹمز اور انٹیلی جنس تعاون کا استعمال شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مشترکہ حکمت عملی کا مقصد نہ صرف عوامی مزاحمت ختم کرنا ہے بلکہ ان خطوں کو مستقل طور پر قابض قوتوں کے زیرِ تسلط رکھنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر محض ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ حقِ خودارادیت، انسانی وقار اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا بنیادی معاملہ ہے، اقوام متحدہ نے کشمیریوں کا حق خودارادیت تسلیم کر رکھا ہے اور اس حوالے سے کئی قراردادیں پاس کی ہیں جنہیں بھارت نے بھی تسلیم کر رکھا ہے لیکن اب وہ ان قراردادوں سے انحراف کر کے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کر رہا ہے۔ غلام محمد صفی نے مزید کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان صرف سیاسی نہیں بلکہ جذباتی، تاریخی اور ایمانی رشتہ موجود ہے اور کشمیری عوام پاکستان کے عوام کی مسلسل حمایت، یکجہتی اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ غلام محمد صفی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرانے کے لیے کردار ادا کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غلام محمد صفی نے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔