Express News:
2026-06-03@07:04:41 GMT

حمزہ علی عباسی طلحہ انجم کی حمایت میں سامنے آگئے

اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT

پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی بھارتی پرچم لہرانے کے معاملے پر گلوکار طلحہ انجم کی حمایت میں سامنے آگئے۔

گزشتہ روز سوشل میڈیا پر حمزہ علی عباسی نے اپنے ویڈیو پیغام میں گلوکار طلحہ انجم کے حق میں بات کرتے ہوئے پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ بھارت سے نفرت نہ کریں، چاہے دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ ہی کیوں نہ ہوں۔

حمزہ علی عباسی نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد میں نے جس رویے کو دیکھا، اس نے مجھے مجبور کیا کہ یہ ویڈیو بناؤں۔ دشمنی کا یہ مطلب نہیں کہ پورے ملک سے نفرت شروع کر دی جائے۔ اگر ہم ایسا کریں تو ہم بھی ارنب گوسوامی اور جنرل بخشی جیسے بن جائیں گے۔

حمزہ علی عباسی نے کہا کہ بھارت میں سارے لوگ انتہاپسند اور دہشت گرد نہیں ہیں، بھی کروڑوں لوگ ایسے ہیں جو ہماری ثقافت اور فن کو پسند کرتے ہیں۔ بھارت ہمارا ہمسایہ ہے، آج وہاں انتہاپسند حکومت ہے ہوسکتا ہے شائد کل نہ ہو۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کسی قوم کی دشمنی بھی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اسکے ساتھ نا انصافی کر بیٹھو۔

حمزہ علی عباسی کے اس مؤقف پر عوام کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بیشتر صارفین نے حمزہ علی عباسی کی حمایت کی جبکہ بعض صارفین نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا، سوشل میڈیا پر اس بحث کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

https://www.

facebook.com/share/v/1AXrt6Z2pD/

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حمزہ علی عباسی

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی